تحریر:سدرہ ارم
اللہ تعالی نے انسان کو جو ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں عطا کی ہیں وہ اس کی ہمہ گیر پایاں اور مختلف الانواع ہیں انہیں پوری طرح احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں ۔صلاحیتوں کا مثبت پہلو یہ ہے کہ انسان نے زمین کو گل و گلزار بنا دیا ہے دور جدید کی راحتوں اور اسائشوں میری زندگی انسان کی انہی کاوشوں کی مرہون منت ہے ہم کسی بھی شخصیت کے خیالات اور احساسات کو بذریعہ قلم صفحہ قرطاس پر منتقل کر سکتے ہیں ۔ اور یہ قدرت کی عطا ہے اپنی بات اپنا تاثر دوسروں تک پہنچانا مثبت اقدار کی حمایت میں قلم اٹھانا جہاد فی سبیل اللہ کی ایک صورت ہے قلم کا سہارا لے کر غیر جانبداری اور امین داری سے اپنے ممدوح کے حوالے سے کچھ ایسا تحریر کرنا چاہتی ہوں کہ وہ کاغذ پر چلتے پھرتے ہنستے مسکراتے اور سانس لیتے نظر ائیں.
لیکن یہ بات میں نے جس سہولت سے کہہ دی اس پہ اتنا اسانی سے عمل ممکن نہیں اس کے لیے ایک طویل ریاضت اور مشق کی ضرورت ہے ان کی شخصیت امتزاج کا مجموعہ ہے میں انہیں سپرد قلم تو کر رہی ہوں لیکن ممکن نظر نہیں اتا کہ اس شخصیت کہ زیادہ سے زیادہ رنگ کو خاکے میں قید کر سکوں ۔14 اگست کو غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین پونچھ راولاکوٹ میں ایک تاریخ ساز پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان تھا٫٫ ہم ہیں پاکستان،،اور یہ ثابت کیا گیا کہ کشمیری ہمیشہ پاکستانیوں کی خوشیوں میں شریک رہے اور رہیں گے۔ بالعموم کشمیر کی تاریخ اور بالخصوص راولاکوٹ کی تاریخ میں یہ پہلا یوم ازاد ی پاکستان تھا جو اس طرح بنایا گیا کہ گراؤنڈ میں تل تک دھرنے کی جگہ نہ تھی ۔
نشیب و فراز تحریکیں اور تاریخیں رواں دواں ہیں اور قوموں کی زندگی کا حصہ ہیں لیکن اس طرح کا جوش اور جذبہ دیکھ کر دنیا دھنگ رہ گئی اور یہ سب جس شخصیت کے مرہون منت ہوا انہیں ہم سردار تنویر الیاس کے نام سے جانتے ہیں ان کی شخصیت کا احاطہ میرے قلم کی دسترس سے باہر ہے لیکن ان کی عوام دوست سوچ بلا تخصیص رویے نے جمع تفریق کہ فرق کو مٹاتے ہوئے اس شاندار تقریب کا اہتمام کروا کر ثابت کیا کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے اور زندہ قو میں اپنی تاریخ کو فراموش نہیں کرتیں 19 جولائی 1947 کی یاد تازہ ہو گئی جب غازی ملت سردار ابراہیم صاحب کی رہائش گاہ پر قیام پاکستان سے قبل الحاق پاکستان کی قرارداد پیش کی گئی 14 اگست کو راولاکوٹ کی سرزمین پر کشمیر اور پاکستان کے پرچم لہرا رہے تھے.
جو اس بات کے ائینہ دار تھے کہ پاکستان اور کشمیر ساتھ ساتھ ہیں اور دیکھنے میں یوں لگ رہا تھا جیسے دھنک کے سبھی رنگ پونچھ میں اتر اے ہوں سردار تنویر الیا س صاحب کا اہلیان پونچھ نے راولاکوٹ امد پر دل کھول کر گرم جوشی سے استقبال کیا ان کی امد پر پھولوں کی بتیاں بارش کی بوندوں کی طرح نچھاور کی گئی یہ سب ان سے اہلیان راولہ کوٹ اور پونچھ کی محبت اور اعتماد کی عکاسی کر رہا تھا۔اور عوام کا ان پہ اعتماد تھا جو راولاکوٹ کو دلہن کی طرح اراستہ کیا گیا کہ ان کی محبت اور عقیدت ابھی تک ان کہ دلوں میں باقی ہے۔بلا شبہ سردار تنویر الیاس صاحب بے شمار خوبیوں کے مالک ہیں اور تعمیری سوچ کہ متحمل ہیں سیاحت کہ فروخ دے کر معاشی خود کفالت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کیں جب یہ اقتدار میں رہے تو انہوں نے سرکاری خزانے سے تنخواہ نہیں لی.
اج کہ جدید دور کی سوچ رکھتے ہیں ریاستی تعمیر و ترقی کا ویژن رکھتے ہوئے مختلف پروگرامز کو متعارف کروایا ۔32 سال کہ بعد ازادکشمیر میں بلدیاتی انتخابات کروا کر ایک نئی تاریخ رقم کی ۔خود جدید تعلیم سے آراستہ ہیں اس لیے سوچ بھی کشادہ اور جدید دور کہ تقاضوں سے ہم آہنگ ہے سردار صاحب قلمکاروں اور قلم کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں انہوں نے صحافت میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ہوئی ہے ۔کشمیر کی ازادی سے لے کر دوسرے ریاستی امور کو احسن طریقے سے سمھجنے والی شخصیت ہیں.