تحریر : سردار وسیم رشید
کشمیریوں نے انیس جولائی1947ء کو قیام پاکستان سے قبل قرارداد الحاق پاکستان منظور کر کے جن لازوال رشتوں کی بنیاد رکھی تھی ان پر آج بھی کشمیری قائم ہیں جسکا ثبوت سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان نے یوم پاکستان کے موقع پر غازیوں مجاہدوں اور شہداء کی دہرتی ہر نامساعد حالات میں ہم ہیں پاکستان کے عنوان پر کامیاب اور تاریخی جلسہ کر کے دیا جس میں پونچھ اور باغ سے بالخصوص اور آزادکشمیر بھر سے بالعموم عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی جن میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل تھی اس روز راولاکوٹ کے صابر شہید سٹیڈیم میں سبز حلالی پرچموں کی بہار تھی جن میں آزادکشمیر اور پاکستان کے جھنڈوں پر ہی نظر پڑ رہی تھی یوم آذادی پر شہداء اور غازیوں کی سرزمین پونچھ کے ہیڈ کوارٹر راولاکوٹ میں یوم آزادی کی تقربیات کوپہلی دفعہ اتنے بڑے پیمانے پر منانے کے لیے ”ہم ہیں پاکستان“ کے عنوان سے جلسے کی کال دی تو پوری ریاست آزاد جموں وکشمیر سے لوگوں نے اُن کی کال پرلیبک کہا اور آزادکشمیر کی تاریخ کا بڑا اور کامیاب جلسہ کر کے دکھایا.
اس جلسے میں ریاست بھر کے کونے کونے سے ہر خاص و عام نے وطن عزیز پاکستان اور اُس کے دفاعی اداروں اور اُس کی عوام سے اپنی والہانہ وابستگی کے اظہار کے لیے راولاکوٹ ہم ہیں پاکستان جلسہ میں بڑھ چڑھ کر شرکت کی، اس جلسہ میں 13اگست کی رات کو خوبصورت آتش بازی کی گئی اور قیام پاکستان کی خوشی میں ملی نغموں اور سبز ہلالی پرچموں کی بہار میں رنگا رنگ تقربیات کا انعقاد کیا گیا اور آزادکشمیر کی تاریخ میں سب سے بڑا پاکستان کا قومی جھنڈا جس کی لمبائی 450میٹر تھی لہرایا گیا، ریاستی عوام اس بات پر مبارک باد کی مستحق ہیں غیر موافق حالات کے باوجود اپنے قائد کشمیر سردار تنویر الیاس خان کی کال پر پاکستان سے اپنی محبت کے اظہار کے لیے ، ملک کے پاکستان کے استحکام کے لیے اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی جدوجہد آذادی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں جلسے میں شریک ہوئی۔سردار تنویر الیاس منقسم ریاست کے دونوں اطراف میں کشمیریوں کے جذبات اور احساست کی بہترین ترجمانی کر رہے ہیں.
سیاست میں اتار چڑھاو اس کھیل کا ضروری حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن ان سب چیزوں سے بے نیاز ہو کر موجودہ مشکل حالات میں اپنے آپ کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہوے پاکستانیت کا علم اٹھا کر جس جرات اور دلیری سے قائد کشمیر نے پوری قوم کو اپنے ساتھ کھڑا کیا، اور اندرونی و بیرونی دشمن عناصر کو یہ واضح پیغام دیا کہ کشمیری پاکستان کو اپنا حصہ سمجھتے ہیں اور اس کے دفاع اور تکمیل کے لیے وہ کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے یہ اعزاز صرف سردار تنویر الیاس خان کو ہی حاصل ہے۔آذادکشمیر کے لوگوں کا سیاسی، سماجی اور معاشی معیار بلند کرنے کے لیے اورہمیشہ اپنا اولین فرض جانتے ہوے، مقبوضہ کشمیر کے مظلوم لوگوں کی آواز بننے پر قائد کشمیر کی خدمات اور کوششوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔یہ جلسہ جہاں پار کے کشمیریوں کے لیے امید اور حوصلے کا باعث بنا وہیں پر منقسم ریاست کے دونوں اطراف کے کشمیریوں کا تجدید عہد بھی تھا جس میں پاکستان کے ساتھ خصوصی محبت، گہری وابستگی اورپاکستان کو اپنی حتمی منزل قرار دیا گیا۔