جمہوریت اور پاکستان

150

تحریر:بشر ی شفیق
معززقارئین! اردو زبان میں جمہوریت کا لفظ اپنے عربی ماخذ “الجمہور ” کے لغوی مفہوم کی بنیاد پر معروف ہوا۔ عربی میں اس لفظ کے معنی “اکثریت” کے ہیں۔ انگریزی میں یہ لفظ”ڈیماکریسی” یعنی ایسے نظام حکومت کو کہتے ہیں جس میں عوام الناس کی مرضی و منشا اور پسند نا پسند کو حثیت حاصل ہو۔ماہرین سیاسیات اور فلاسفہ کے ہاں ری پبلک اور ڈیما کریسی، ایک ہی مفہوم کی دو اصطلاحات ہیں اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ “لوگوں کی اکثریت سے وجود میں آنے والی ریاست و حکومت ۔لفظ جمہوریت انگریزی زبان میں سولہویں صدی عیسوی میں فرانسیسی سے آیا جبکہ یہ اپنی اصل کے لحاظ سے یونانی زبان کے لفظ “ڈیماس” یعنی لوگ اور کراتوس یعنی حاکمیت سے ماخوذ ہے ۔گویا جمہوریت سے مراد ایسا طرزِ حکومت ہے جس میں بادشاہت اور اشرافیہ کے بالعکس ، لوگ خود حاکم ہوں۔

گویا یہ لفظ یونانی زبان سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے “لوگوں کی قوت”اردو زبان میں جمہوریت کی اصطلاح اٹھارویں صدی عیسوی سے مستعمل ہے. اب سوال یہ ہے کہ جمہوریت کا نظام ہے کیا؟قدیم سیاسی مفکرین ارسطو نے عوام کی حاکمیت کا ذکر تفصیل سے بیان کیا ۔ تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ انسانی معاشروں میں قدیم ترین طرزِ حکومت بادشاہت رہا اور جب اسکا عنصر حد سے تجاوز کرنے لگا تو عوام الناس میں ردعمل پیدا ہونے لگا ، رعایا اور عوام الناس کی اہمیّت نے آگے بڑھ کر حکومت کا روپ دھار لیا اور وہ جمہوریت کہلایا۔پاکستانیوں کی سیاست اور ان کے نظریات ان ہی نظاموں میں سے ایک ہے۔ جس کی بنیاد پر پاکستان کو 1947 میں ایک قومی ریاست کے طور پر معرضِ وجودمیں لایا گیا ۔ پاکستان آئینی طور پر پارلیمانی جمہوریہ ہے جس کا طرزِ حکومت منتخب طرزِ حکمرانی پر مشتمل ہے ۔

ریاست کے قیام کے بعد ایک طبقے کا ریاست کے معاملات پر اختیار غیر تناسب رہا۔پاکستان میں جمہوریت کئی بار جنرل ایوب ، جنرل یحیٰی ، جنرل ضیاء الحق ،جنرل پرویز مشرف اور کئی فوجی اقتدار سے متاثر ہوئی۔ اور اگر موجودہ وقت کی بات کروں تو یہ کہنا غلط نہیں کہ پاکستان آج بھی اسکی زد میں ہے، جسے صرف نام نہاد جمہوریت ہی کہا جا سکتا ہے۔ یہاں شہری اپنے بنیادی حق یعنی حق آزادی رائے سے محروم ہے ۔ میڈیا پر سختی سے کنٹرول کیا جا رہا ہے ۔اور موجود حکومت کے خلاف بولنے والے صحافیوں کو جلاوطنی کی زندگی گزارنا پڑھ رہی ہے۔ اور وہ لوگ جو موجود حکومت کے خلاف بات کرتے ہیں ان پر ظلم کیا جاتا ہے اور یہاں تک کہ قید و بند کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔فوج کی طرف سے فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کی دھمکی بھی آن ریکارڈ ہے۔ ایک مخصوص طبقہ اپنی من و مرضی کے مطابق حکومتوں کا رد و بدل کرتا ہے اور لوگوں کے ضمیر کا سودا کرنے کے لیے منڈیاں لگائی جاتی ہیں.

جس میں بے ضمیر لوگ بڑی خوشی سے اپنے قیمت کا تعین کرتے ہیں اور کروڑوں میں فروحت ہوتے ہیں۔ عوام کی منشا کو خاطر میں نہیں لایا جاتا اور اسکی مثال آپ نے اس الیکشن میں بغور ملاحظہ فرمائی ہو گی۔ نوجوان، بوڑھے، خواتین اور حتی کہ بچوں کو اغواء کر کے انکو اور انکے اہل خانہ کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔مجودہ دور کی عکاسی احمد فرہاد کی اس نظم نے کی جس کے بعد ان کو بھی اٹھا لیا گیا۔
یہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے، اسے اٹھا لو
اٹھانے والوں سے کچھ جدا ہے، اسے اٹھا لو
وہ بے ادب اس سے پہلے جن کو اٹھا لیا تھا
یہ انکے بارے میں پوچھتا ہے ، اسے اٹھا لو
جنہیں اٹھانے پہ ہم نے بخشے مقام و خلعت
یہ ان سیانوں پہ ہنس رہا ہے ، اسے اٹھا لو
اسے کہا تھا جو ہم دکھائیں بس اتنا دیکھو
یہ اپنے مرضی سے دیکھتا ہے، اسے اٹھا لو
یہ پوچھتا ہے کہ امن عامہ کا مسئلہ کیوں؟
یہ امن عامہ کا مسئلہ ہے ، اسے اٹھا لو

پاکستان میں حکومتیں جو جمہوریت کی آڑ میں بنائی جا رہی ہیں اس میں حکومتی نمائندے ٹاؤٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ عوام الناس کے مسائل کو کسی زمرے میں نہیں لایا جاتا، اس وقت ملک میں اپنے ہی شہریوں کو یرغمال بنایا جا رہا ہے ۔ ملک کے مسائل کو چھوڑ کر ساری اشرافیہ ایک مدعے پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہے کہ کیسے بدلے کی سیاست کھیلی جائے۔
پاکستان میں کے بے شمار مسائل ہیں جن میں سے چند ایک کی طرف آپکی توجہ مبذول کروانا چاہوں گی۔ پاکستان میں غربت ایک اہم اور توجہ طلب مسئلہ ہے جو بہت سارے لوگوں کو متاثر کرتا ہے ۔ پاکستان کا حکومتی نظام ابھی تک کوئی اچھا معاشی نظام نہیں لا سکا جس سے متفقہ طور پر چل کر عوام کو بھوک اور افلاس کی چکی سے نکالا جا سکے ۔پاکستان کی چالیس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت اس پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے نئے آئین اور قوانین اپنی سہولت کے لیے بنوانے میں مشغول ہے ۔

پاکستان کا دوسرا بڑا مسئلہ تعلیمی مواقع کا فقدان ہے۔ یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق سترہ فیصد پاکستانی بچے چولہا جلانے کی خاطر تعلیم کی قربانی دیتے ہیں۔جاگیر دارانہ نظام خواندگی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے اسی نظام کی بدولت اشرفیہ سالہا سال حکومت کرتا نظر آتا ہے ۔پاکستان ان 12 ملکوں کی فہرست میں آتا ہے جہاں GDP کا ٪2 سے بھی کم حصہ تعلیم پر خرچ کیا جاتا یے۔ اور بہتر تعلیمی مواقعوں کے لیے حکومت کے پاس کوئی روڈ میپ موجود نہیں۔ امن و امان کے مسائل کی بات کی جائے تو اسکے حالاتِ حاضرہ بھی چاہیے بیرونی ہوں یا اندرونی کسی بھی طور پر بہتر نہیں ہیں۔ دہشت گردی نے پھر سے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ کچے کے ڈاکو بے بے قابو ہیں اور ہماری سکیورٹی فورسز اس پر کنٹرول کرنے میں ناکام ہیں۔ پولیس کے ساتھ کچے کے ڈاکو پریزن ایکسچینج کر رہے ہیں جو کہ فورسز کے لیے سوچنے کا مقام ہے۔ دوسری طرف بلوچستان کے لوگوں کے مسائل کو کسی خاطر میں نہیں لایا جا رہا اور ہمیشہ کی طرح بلاچی عوام کے ساتھ نا انصافی کی جا رہی ہے۔

ایک اور بڑا مسئلہ جو کہ عالمی سطح کا مسئلہ ہے وہ ماحولیاتی مسائل ہیں یعنی کلائمیٹ چینج جس پر پوری دنیا سر جوڑ کہ بیٹھ چکی ہے کہ اس پر کیسے قابو پایا جائے لیکن پاکستان کی حکومتی پالیسی یہاں بھی موجود نہیں۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی ، پانی کا مسئلہ ، فضائی اور آبی آلودگی کسے بھی سیکٹر پر کوئی پالیسی ترتیب نہیں دی گئی اور بھی بے شمار مسائل ہیں جو پاکستان میں جنم لے رہے ہیں جنکو اگر میں لکھنا شروع کر دوں گی تو کئی مہینے درکار ہوں گے۔ ایک نام نہاد جمہوری ملک میں ان مسائل پر بات کرنے کے بجائے حکومت اور اشرافیہ بدلے کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔

محترم قارئین! آج کی جمہوریت جس طرزِ زندگی کی علمبردار ہے اسکے بنیادی عناصر کو اختصار کے ساتھ ہوں بیان کیا جا سکتا ہے: عوام کو بالادستی ، مساوی حقوق ، شہری آزادی اور عوامی فلاح و بہبود ۔ پاکستان کا نظام ابھی تک اس کا متحمل نہیں ہو سکا ۔مثالی جمہوریت ایک خاص طرح کے معاشرے میں جنم لے سکتی ہے جہاں عوام کو بہتر معاشی اور معاشرتی ماحول میسر ہو، جو تعلیمی پسماندگی سے پاک اور سماجی مساوات سے مزین ہو۔ جہاں ایک فرد یا مخصوص طبقے کے بجائے عوام الناس کی مرضی شامل ہو۔ اور پاکستان کے حالات کے پس منظر میں جائیں تو پاکستان میں جمہوریت دور دور تک کہیں نظر نہیں آئے گی۔
آخر میں اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں