گوجرانوالہ محکمہ پاسپورٹ دفتر میں عجب کرپشن کی غضب کہانی

112

تحریر:سردار ذیشان طاہر
آج کل سوشل میڈیا پر گوجرانوالہ پاسپورٹ دفتر میں سرعام کرپشن،حرام خوری اور شہریوں کو ذلیل و خوار کرنے کے بارے میں عام شہری مسلسل بول اور لکھ رہے ہیں اور اپنی آواز حکمرانوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں،مگر ہمارے حکمران اقتدار کے نشے میں اس قدر دھت ہیں کہ انہوں نے اپنی آنکھیں اور کان مکمل طور پر بند کر رکھے ہیں تاکہ عام لوگوں کی مشکلات بارے نہ وہ سن سکیں اور نہ ہی دیکھ سکیں۔میں نے سوچا پاسپورٹ دفتر بارے عام لوگوں کی آواز بن کر میں بھی ایک کوشش کرتا ہوں شاید ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوجائے اور وہ اقتدار کے نشے سے جاگ کر عوام کی سہولت کیلئے کچھ کر ہی دیں۔

چنانچہ محکمہ پاسپورٹ دفتر میں عجب کرپشن کی غضب کہانی کی تلاش کرتے میں خود پاسپورٹ دفتر پہنچ گیا،حالانکہ میرے پاس اس وقت پاسپورٹ موجود ہے جس کو ختم ہونے میں ابھی 7 سال باقی ہیں مگر میں پاسپورٹ دفتر میں اپنا پرانا پاسپورٹ لے گیا تاکہ پاسپورٹ دفتر کے باہر بیٹھے ایجنٹوں اور دفتر میں موجود سرکاری افراد سے اپنا پاسپورٹ بنانے بارے انتہائی آسان اور مشکلات سے پاک کوئی راستہ جان سکوں،پاسپورٹ دفتر کے باہر بیٹھے ایک شخص نے بتایا کہ آپکا پاسپورٹ ختم ہوئے 3 سال ہوچکے ہیں پاسپورٹ فیس اور جرمانے کے علاوہ آپ اگر مجھے 15 سو روپے زائد ادا کریں تو آپکا پاسپورٹ فوری جمع ہوجائے گا میں نے پوچھا آپ ان 15 سو روپے کا کیا کریں گے تو اس نے بتایا کہ1 ہزار روپیہ پاسپورٹ دفتر میں سرکاری افسر کو دونگا اور 5 سو روپے میں رکھوں گا اور 15 سے 20 منٹ میں آپکا کام کروا دوں گا .

میں نے ایجنٹ کو بولا بھائی 5 سو روپے آپ زیادہ رکھ رہے ہیں تو وہ فوری بولا آپکا جو دل کرے اتنے پیسے مجھے دے دیجئے گا،سرکاری دفتر والوں کا فکس ریٹ ہے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوگی خیر میں نے ایجنٹ کی بات سنی اور پھر دوسری طرف ایک میز لگائے بیٹھے شخص کے پاس جا پہنچا اس نے بھی پہلے ایجنٹ جیسی کہانی دہرا دی جسے سن کر میں نے پاسپورٹ دفتر کے اندر جانے کا فیصلہ کیا میں گیٹ کے قریب کھڑا ہوگیا تو دیکھا نیلی وردی والا ایک سیکیورٹی گارڈ اور پولیس کی وردی میں ایک اہلکار لوگوں کو گیٹ کے اندر داخل ہونے سے روک رہے تھے اتنے میں 2 بااثر افراد گیٹ کے پاس آئے اور ان کیلئے گیٹ کے دروازے فوری کھول دیئے گئے میں بھی انہی کے ساتھ پاسپورٹ دفتر کے گیٹ سے اندر داخل ہوگیا اور دائیں ہاتھ پر لگی کرسیوں پر جا بیٹھا،میں نے دیکھا وہاں پر ایک کبوتر مسلسل یہاں سے وہاں اور وہاں سے یہاں جا رہا تھا مجھے لگا یہ کبوتر کافی کام کا ہے سب کی مدد کر رہا ہے ہر کسی کو اندر لیجاتا ہے اور کام کروا دیتا ہے.

میں اس سے کافی متاثر ہوا اس لیے میں نے اسے دانا ڈالا اور وہ فوری میرے پاس آ بیٹھا،میں نے کبوتر سے پوچھا تم یہاں کیا کرتے ہو اس نے کہا میں پاسپورٹ آفس کا ملازم ہوں،قصہ مختصر کبوتر نے مجھے وہ سب بتایا جس کی تلاش مجھے تھی،کبوتر نے بتایا کہ پاسپورٹ دفتر میں روزانہ 7 سو کے قریب لوگ اپنے پاسپورٹ نئے بنوانے کیلئے جمع کرواتے ہیں جن میں سے پاسپورٹ دفتر کے افسران 3 سو افراد کے ٹوکن ایجنٹ حضرات کے لگاتے ہیں،جن سے فی ٹوکن 1 ہزار روپیہ یعنی کے 3 لاکھ روپے روزانہ سیدھے سرکاری افسران کی جیبوں تک پہنچا دیئے جاتے ہیں،کبوتر نے یہ بھی بتایا کہ روزانہ 1 سو کے قریب ٹوکنز کا کوٹہ سرکاری افسران،تاجروں،سیاستدانوں،وکیلوں اور جعلی صحافیوں کو مفت میں دے دیا جاتا ہے،خودساختہ صحافی وہ ٹوکن پیسوں کے عوض فروخت کردیتے ہیں انکا یہ عمل پوری صحافی کمیونٹی خاص کر اداروں کے سینئرز صحافیوں کے لیے بدنامی کا باعث بنتا جارہا ہے،کبوتر نے بتایا 1 سو کے قریب ٹوکن پاسپورٹ دفتر کے چھوٹے موٹے ملازموں میں تقسیم کردیئے جاتے ہیں جن سے روزانہ 1 لاکھ روپیہ ان میں برابر برابر تقسیم کیا جاتا ہے،جبکہ صبح سویرے لائن میں لگ کر کئی گھنٹے انتظار کے بعد صرف 2 سو کے قریب شہری ہی فری ٹوکن حاصل کر پاتے ہیں۔

کبوتر نے بڑا انکشاف یہ کیا کہ جن لوگوں کو فری ٹوکن ملتے ہیں محکمہ پاسپورٹ دفتر کے افسران ان کی جیبوں پر (FC) ڈاکہ ڈالتے ہیں کیونکہ روزانہ دفتر میں آنے والے 80 فیصد شہریوں سے (FC) لیے بغیر انکا کام ہونا ناممکن بنا دیا گیا ہے،میں نے کبوتر سے پوچھا یہ (ایف سی) کیا ہے تو اس نے بتایا کہ ہم رشوت نہیں بس (FC) لیتے ہیں اور ہر کسی کا کام کر دیتے ہیں،اگر کوئی پاسپورٹ بنوانے آتا ہے اور اس کے پاس پیدائشی پرچی نہیں تو اس سے 25 سو روپے (FC) لی جاتی ہے اور اسکی دستاویزات کلیئر کر دی جاتی ہیں،اسی طرح اگر کسی کے پاس فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ نہیں تو اس کی بھی 25 سو روپے (FC) مقرر ہے کوئی شہری اپنے پاسپورٹ میں نام یا عمر ٹھیک کرانا چاہتا ہے تو اس سے 3 ہزار روپے (FC) وصول کی جاتی ہے،اگر کسی خاتون کا پاسپورٹ والد کے نام سے بنا ہو اور اب وہ اپنے شوہر کے نام کا پاسپورٹ بنوانا چاہے تو اس سے بھی 25 سو روپے (FC) لے لی جاتی ہے،کبوتر نے مزید بتایا کہ اگر آپکے نام کے ساتھ (خان) لکھا ہے تو آپ آسانی سے اپنا پاسپورٹ بنوانا بھول جائیں،جمال خان ولد اللہ دتہ کو 5 ہزار روپے (FC) جبکہ جمال خان ولد کمال خان کو 10 ہزار روپے (FC) ادا کیے بغیر پاسپورٹ ملنا ناممکن ہوتا ہے مطلب اگر آپکے نام کے ساتھ خان لکھا ہے تو 5 ہزار اور اگر آپکی ولدیت میں بھی خان لکھا ہے تو 10 ہزار روپے (FC) بھریں گے تو آپکی تمام دستاویزات کلیئر کر دی جائیں گی.

کبوتر نے بتایا کہ ہم لوگ OD آؤٹ ڈسٹرکٹ پاسپورٹ بھی بنا دیتے ہیں اس کی 25 سو روپے (FC) لی جاتی ہے کیونکہ شناختی کارڈ پر ڈبل ایڈریس ہوتا ہے، اور اگر کسی اور ضلع کا پاسپورٹ ختم ہوچکا ہے اور آپ نیو بنانا چاہتے ہیں تو ہم اس کی 6 ہزار روپے (FC) لیتے ہیں کبوتر نے یہ بات بھی بتا دی کہ اگر آپکا تعلق کے پی کے یا بلوچستان سے ہے اور اب آپ گوجرانوالہ شفٹ ہوچکے ہیں تو ہم صرف اور صرف 20 ہزار روپے (FC) لیکر آپکو پاسپورٹ جاری کردیں گے۔میں کبوتر کی باتیں سن کر اس کی طرف حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ وہ پھر سے فوری بول اٹھا کہ بھائی جان اگر آپ کا پاسپورٹ بن کے اسلام سے گوجرانوالہ دفتر آجائے گا تو ہم اس کی بھی 1 ہزار روپیہ (FC) لیں گے کبوتر کی بات سن کر میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور آہستہ سے اس سے پوچھا سر روزانہ پاسپورٹ دفتر کے سرکاری افسران اور ملازم ضلع گوجرانوالہ کے شہریوں کی جیبوں پر کتنے روپوں کا ڈاکہ ڈالتے ہیں تو کبوتر ہنس کر بولا 8 سے 10 لاکھ روپیہ معمولی بات ہے۔

کبوتر کی باتوں سے مجھے یقین ہوا کہ پاسپورٹ دفتر کے باہر بیٹھا ہوا ایجنٹ مافیا تو بس سرکاری افسران اور ملازمین کا ریکوری مین ہے کیونکہ ملائی تو ساری دفتر کا عملہ کھاتا ہے ان بیچیروں کو تو خالی 2 سے 4 سو کے نوٹ ملتے ہیں جبکہ ایف آئی اے بھی صرف ایجنٹوں پر کارروائی کرتی ہے حالانکہ ٹوکن کے ریٹ اور دستاویزات کلیئر کروانے کی (FC) تو پاسپورٹ آفس کے افسران نے مقرر کر رکھی ہے جن پر ہاتھ ڈالنے کی کوئی جرآت نہیں کر رہا۔محکمہ پاسپورٹ کے افسران اور ملازمین عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ہر ماہ حکومت پاکستان سے تنخواہ وصول کرتے ہیں مگر میرے کبوتر کے مطابق (FC) اور ٹوکن کی مد میں روزانہ لی جانے والی رقم ان کی ماہانہ تنخواہ سے کئی زیادہ ہے،وزارت داخلہ کے ماتحت پاسپورٹ دفتر میں مجبور،مزدور،بوڑھے،بیوہ عورتیں،نوجوان اور بچے سب کے سب ناصرف ذلیل و خوار ہورہے ہیں بلکہ روزانہ کی بنیاد پر لٹ رہے ہیں جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی اپنا کام چھوڑ کر نہ جانے کہاں مصروف ہیں میں امید کرتا ہوں وزیر داخلہ اپنی ساری مصروفیات چھوڑ کر گوجرانوالہ پاسپورٹ دفتر کی ضرور خیر خبر لیں گے کیونکہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام ضلع گوجرانوالہ کا محکمہ پاسپورٹ کا دفتر کرپشن،حرام خوری اور رشوت کا ایک بڑا کنواں بن چکا ہے جس میں روزانہ غریب شہریوں کو دھکیلا جاتا ہے اور پھر اس دفتر میں بیٹھے بھیڑیے آہستہ آہستہ شہریوں کا خون پیتے ہیں۔
برباد گلستاں کرنے کو،صرف ایک ہی الّو کافی تھا
ہر شاخ پہ الّو بیٹھا ہے،انجام گلستاں کیا ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں