عدم برداشت اور اسکے منفی نتائج

167

تحریر:نعیم الحسن نعیم
آج نوجوانوں میں برداشت کی کمی دن بدن بڑھتی جارہی ہے اسکی میرے نزدیک کئی وجوہات ہیں-جن میں سماجی، معاشرتی اور تعلیمی عوامل شامل ہیں۔ پہلی وجہ تعلیم اور تربیت کی کمی ہے۔اکثر تعلیمی اداروں میں تنقیدی سوچ اور مکالمے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی-جس کی وجہ سے نوجوان مختلف نظریات کو برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا نہیں کر پاتے۔
دوسری وجہ معاشرتی دباؤ اور غربت ہے۔معاشرتی مشکلات، مالی مسائل،اور روزگار کی کمی نوجوانوں میں ذہنی تناؤ کو بڑھاتی ہے،جس سے عدم برداشت اور غصہ پیدا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ، سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر پھیلنے والی شدت پسندانہ مواد بھی نوجوانوں میں عدم برداشت کو فروغ دیتا ہے، اور ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی پر اُتر آتے ہیں-ان میں کافی زیادہ تعداد خواندہ افراد کی بھی ہے۔

خاندانی اور ثقافتی دباؤ بھی ایک اہم عنصر ہے۔ نوجوانوں پر روایتی رسم و رواج اور معاشرتی توقعات کا بوجھ ہوتا ہے-جو ان کی خودمختاری اور سوچنے کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے۔اس کے نتیجے میں وہ مختلف آراء اور نظریات کو قبول کرنے کے بجائے سخت رد عمل دیتے ہیں۔ اسلام تو ایسا مذہب ہے جو سب سے زیادہ صبر و تحمل اور برداشت کا درس دیتا ہے کیوں کہ انسان اگر صبر و تحمل کادامن چھوڑدے تو پھر جذبات کے بہاؤ میں وہ اس قدر اندھا ہو جاتا ہے کہ اچھے برے کی تمیز کھو دیتا ہے۔اس کیفیت میں کیے گئے فیصلے ہمیشہ انسان کے لیے پچھتاوا بنتے ہیں۔جلد بازی میں اٹھایاگیا قدم انسان کے گلے پڑسکتاہے اور کبھی کبھار یہ ایک بھیانک روپ اختیار کرتے ہوئے بستیوں کی بستیاں اجاڑدیتاہے۔بدقسمتی سے آج ہمیں بھی اپنے معاشرے میں جن خوفناک مسائل کا سامنا ہے ان میں ایک بڑا مسئلہ ’’عدم برداشت‘‘ کا ہے۔

یہ زہر معاشرے کی رگوں میں اس قدر گہرائی کے ساتھ سرایت کرچکا ہے کہ آج آپ کوہردوسرا شخص صبر و تحمل سے خالی نظر آئے گا۔بھیڑ میں اگر آپ کسی فرد سے معمولی ٹکراجائیں یا ATM بوتھ میں کچھ سیکنڈز زیادہ لگاجائیں یا سڑکوں پہ ٹریفک جام ہو اور کوئی پیچھے سے ہارن مارنے لگے توآپ عدم برداشت کے مظاہرے کھلی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ لوگ کس قدر غصیلے انداز میں اپنا ردِ عمل دکھاتے ہیں۔صبر و تحمل سے محروم اس معاشرے میں خاندانی اقدار بھی بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔گیلپ سروے کے مطابق ’’عدم برداشت‘‘ کی وجہ سے حالیہ کچھ عرصے میں طلاق کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔اس وبا نے جہاں معاشرے کے دیگر طبقات کو متاثر کیا وہیں نوجوان نسل بھی بری طرح اس کی زد میں آچکی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج تعلیمی اداروں میں معمولی باتوں پربھی بڑے واقعات دیکھنے کوملتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اگر سوشل میڈیاپر نظر دوڑائی جائے تو وہاں بھی آپ کو نوجوان نسل اپنا غصہ اور جارحیت دکھاتی نظر آئے گی اور خاص طورپر سیاسی معاملات پر تو کوئی شخص اپنا موقف پیش ہی نہیں کرسکتا،کسی سیاسی لیڈر کے حق میں یاخلاف میں معقول بات پر بھی اس قدر شدید ردِ عمل آتاہے کہ انسان کانوں کو ہاتھ لگالیتا ہے۔پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں جوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔اس لحاظ سے یہ دنیا بھر میں اہمیت رکھنے والا ملک ہے لیکن جہاں ہمارے پاس نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے وہیں ان کے لیے وسائل کا شدید فقدان ہے۔ہمارے پاس ٹیکنالوجی تو جدید سے جدید تر آگئی ہے لیکن نئی نسل ابھی تک رہنمائی اور درست سمت سے محروم ہے۔اسی طرح آج کے نوجوان جنریشن گیپ کا بھی شکار ہیں۔والدین پیسہ کمانے کی دوڑ میں لگے ہیں.

گھر آتے ہیں تو موبائل ہاتھ میں لے کر سوشل میڈیا میں مصروف ہوجاتے بچے الگ سے موبائل لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔کمرے میں موجود بچے کے بارے میں والدین سمجھتے ہیں کہ یہ یہاں محفوظ ہیں لیکن درحقیقت وہ بڑے خطرناک ہاتھوں میں ہوتاہے، کیوںکہ انٹرنیٹ کے ذریعے انسان کچھ بھی دیکھ سکتاہے۔اس نسلی فاصلے نے مکالمے ،بات چیت اور اپنائیت کو ختم کردیا ہے اور یہی وہ چیز ہے جس نے عدم برداشت کے ساتھ ساتھ بہت سارے مسائل کو جنم دیا ہے۔گھر ، پہلی درس گاہ دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی گھر کا دسترخوان ہے ،جہاں گھر کے بڑے باتوں ہی باتوں میں بچوں کی تربیت اور اصلاح کرتے ہیں۔اس پلیٹ فارم پر اگر نئی نسل کی تربیت کردی جائے تو پھر وہ معاشرے کے بہترین افراد بن کر سامنے آتے ہیں،لیکن افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ آج تربیت کایہ عمل کافی کمزور ہوچکا ہے۔

آج گھروں میں بچے اور بڑے آپس میں بہت کم بیٹھتے ہیں۔دوسری طرف والدین کا اپنارویہ بھی مثالی نہیں ہے۔ بچہ گھر میں دیکھتاہے کہ ماں خو د کرسی پر بیٹھی ہے اور ملازمہ کو فرش پر بٹھایاہواہے۔گھر کے برتن الگ ہیں اور ملازمین کے برتن الگ تو وہ بھی باہر کی دنیامیں انسانوں کو تقسیم کرتاہے، وہ غریب کوعزت نہیں دیتا ، وہ کالے رنگ والے انسان کو قابل نفرت سمجھتا ہے اور یہی وہ چیز ہے جس سے عدم برداشت کا رویہ پروان چڑھتاہے۔تربیت کے پانچ ادارےاللہ نے قرآن میں انسان کو احسن تقویم کہا ہے یعنی یہ ایسی تخلیق ہے جو جسمانی طورپر مکمل اور حسین ہے۔البتہ اس کے اندر معاشرتی تربیت کی کمی تھی جس کو پورا کرنے کے لیے انبیاء کرام بھیجے گئے۔اس کے بعدخاندان، تعلیم، مذہب ، سیاست اور معیشت وہ ادارے ہیں جو انسانوں کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ سب کے سب بہت اہمیت کے حامل ہیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی اگر بگڑجائے تو باقی بھی متاثر ہوجاتے ہیں اور انسان کی تربیت میں کمی آنے لگتی ہے۔آج معاشرے کے یہ پانچوں ادارے زوال کا شکار ہیں ، ہمیں ان پانچوں اداروںکو مستحکم کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے تاکہ معاشرے کی بہترین تربیت ہوسکے۔ہم نے ایک دوسرے کو قومیت ، مذہب ، مسلک ، فرقے ، کالے گورے اور امیر غریب کے دائروں میں تقسیم کر دیا ہے اور انھیں برداشت ہی نہیں کرتے ؟سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ پارک،بازار اور کھیل کے میدانوں میں ہر مذہب و فرقے کے لوگ اکھٹے بیٹھے ہوتے ہیں، لیکن جب بات عبادت کی آتی ہے توپھر ہر ایک کی عبادت گاہ دوسرے سے الگ ہوجاتی ہے اور قابل نفرت بھی-بچوں کی زندگی پر والدین اور اساتذہ کا رویہ بہت زیادہ اثرانداز ہوتاہے۔

سوال مگر یہ ہے کہ کیا آج کے والدین اور اساتذہ مثالی ہیں؟ اکثر یہ دیکھ اگیا ہے کہ گھر میں والدین اگر موبائل میں مصروف ہوں اور بچہ آکر کوئی بات کرے تو ان کا پارہ چڑھ جاتاہے ۔وہ برداشت کا مظاہرہ نہیں کرتے اور بچے کو جھڑک دیتے ہیں۔اسی طرح اساتذہ بھی اگر کلاس میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھیں توبڑی جلدی اشتعال میں آجاتے ہیں۔جب ان والدین اور اساتذہ کا رویہ برداشت اور تحمل سے خالی ہو گا تو پھر نوجوان نسل بھی ایسے ہی رویے کو اپنائے گی۔ہر انسان جو اس کائنات میں موجود ہے وہ ایک مقصد کے لیے یہاں آیا ہے۔آج کا انسان اپنے آپ سے یہ سوال پوچھتاہے کہ میں کون ہوں؟و ہ اپنے جواب کی تلاش میں ہوتاہے۔وہ میڈیا دیکھتاہے جہاں پر ڈراموں اورفلموں کے ذریعے ایک بے بس یا ظالم انسان کی کہانی بیان کی گئی ہوتی ہے۔جواب ڈھونڈنے والا اسی کہانی کو اپنی کہانی سمجھ بیٹھتاہے ۔

وہ بھی یوں سمجھتا ہے کہ میرے ساتھ معاشرہ ظلم کررہا ہے ، مجھے اپنا حق لینا ہے اور اس سوچ کی وجہ سے وہ عدم برداشت کی طرف چلا جاتاہے۔دوسری چیز یہ ہے کہ مارننگ شو ز میں شوبز، فیشن، بیوٹی ٹپس اور شادیوں کے پروگرامز دکھائے جاتے ہیں جنھیں دیکھنے والی زیادہ تر خواتین ہوتی ہیں۔یہ صبح کا وقت ہوتاہے ۔اِس وقت میں شادیاں دکھانے کے بجائے مائوں کی تربیت کے پروگرام ہونے چاہیے تھے تاکہ ان کی ذہنی اور فکری تربیت ہوتی اوراس کی بدولت وہ اپنی اولاد کو بھی بہترین انسان بناپاتی ،لیکن افسوس کہ میڈیاکی دنیا میں تربیت سے زیادہ پیسا اہم ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہماراتعلیمی نظام بھی Collaboration(مدد)کو نہیںCompetition(مقابلہ بازی)کو پروموٹ کررہاہے حالانکہ تعلیم کا مقصد اقدار کی منتقلی تھا کہ بڑوں نے اپنی زندگی سے جو کچھ سیکھا ،وہ اب نئی نسل کو منتقل کردیں لیکن افسوس کہ تعلیم اب صرف کمائی کا ذریعہ بن چکی ہے۔

دوسری طرف والدین بھی بچوں سے نمبرمانگتے ہیں ، بچہ والدین کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے اپنا پورازور لگاتا ہے اور اس راستے میں آنے والی کسی بھی رکاوٹ کو وہ نہیں مانتا ۔ یہی رویہ عدم برداشت کی بنیاد بنتا ہے۔عدم برداشت کاجو رویہ آج ہم دیکھ رہے ہیں یہ راتوں رات نہیں آیا بلکہ اس کے پیچھے کئی دہائیاں ہیں۔نہ معلوم وہ کون سا موڑ تھا جب ہم اپنی سمت کھو بیٹھے اور آہستہ آہستہ یہ بیماری ہمارے اندرمضبوط ہوتی گئی۔غربت ، بے روزگاری ، بھوک اور محرومی توعدم برداشت کی وجوہات ہیں ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک بڑا عامل ٹیکنالوجی بھی ہے جس کے ذریعے عدم برداشت پرباقاعدہ انویسٹمنٹ کی گئی۔آج آپ کو بچوں کی کئی ساری گیمز ایسی ملیں گی جن میں بچے پولیس کے بجائے چور بننا زیادہ پسند کرتے ہیں ، کیوں کہ اس گیم میںچورکے پاس جدید اسلحہ ہوتاہے ، وہ قانون توڑتا ہے اور ایک طرح سے طاقتورہوتاہے.

اس سے انسپائریشن لے کرآج کی نسل بھی طاقتور بننا چاہتی ہے لیکن جب زمینی حقائق ان کے سامنے رکاوٹ بنتے ہیں تو پھر وہ عدم برداشت پر اترآتے ہیں۔ استاد کوچاہیے کہ وہ اپنے شاگردوں کو یہ احساس دلائیں کہ آپ میرے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔جب استاد اور والدین کی گرِپ بچوں پر مضبوط ہوگی تو وہ کبھی بھی بری عادات یاعدم برداشت کا شکار نہیں ہوں گے۔عدم برداشت کی سب سے بڑی وجہ اسلام سے دوری بھی ہے.بدقسمتی سے ہم نے اسلام کو صرف قصے کہانی کے طور پر پڑھا ہے، اس کو عملی زندگی میں نہیں ڈھالا۔ہم نے حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں پڑھا کہ وہ اپنے کندھوں پر غلہ رکھ کر غریبوں کے گھر چھوڑکر آتے تھے لیکن سوال یہ ہے کہ آج کا کون سا استاد ،سیاسی لیڈر اور عام فرد ایسا ہے جو اس مثال پر پورا اترتا ہو؟جب تک ہم اسلام کے اصول اور بڑی شخصیات کے واقعات کو عملی طورپر اپنی زندگی میں نہیں لاتے ،ہم ایک مثالی قوم نہیں بن سکتے۔نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کا حل بہتر تعلیم، مکالمے کی حوصلہ افزائی، اور ذہنی صحت کے مسائل پر توجہ دینے میں ہے، تاکہ نوجوان برداشت اور تعاون کی فضا میں پرورش پا سکیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں