موسمیاتی تبدیلی،سموگ سے لاحق خطرات اوراقدامات

124

تحریر:ظفرمغل
یہ ایک قومی المیہ ہی نہیں بلکہ لمحہء فکریہ بھی ہے کہ حکومت پاکستان ایک طرف تو معیشت کی بحالی کے لیے بیرونی سرمایہ کاروں کو یہاں سرمایہ کاری کی ترغیب کے لیے دن رات کو شاں ہے مگر دوسری طرف موسمیاتی تبدیلیوں کے درپیش برے اثرات اور گلوبل وارمنگ سمیت سموگ کے شدید گہرے اثرات نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے یہاں تک کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور سمیت ملتان اور دیگر کئی بڑے شہروں میں سموگ نے اپنے پنجے گاڑھ رکھے ہیں اور لاہور کو پاکستان کا آلودہ ترین شہر قرار دے کر سموگ سے بچنے کے لیے پنجاب کے 5 ڈویژنوں کے سکولوں کو ایک ہفتہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے اس سنگین صورتحال کا اندازہ اس سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ پنجاب حکومت کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری دفاتر میں 50 فیصد ملازمین کو ان لائن کام کرنے کا حکم دیا گیا ہے ادھر عالمی ادارہ یونیسیف کے ترجمان نے بھی اس بارے میں خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ زہریلی ہوا میں سانس لینے سے 5سال سے کم عمر کے11ملین بچوں کو شدید بیماریوں کے جن لیوا خطرات لاحق ہیں جبکہ پنجاب بھر میں سموگ سے ایک کروڑ سے زائد بچوں اور حاملہ خواتین کو صحت کے شدید مسائل کا سامناہے۔ترجمان یونیسیف عبداللہ فادل کے مطابق اس سنگین صورتحال کے پیش نظر متعلقہ حکومتوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چائیں۔کیونکہ رواں ماہ کے دوران پنجاب کے دارالحکومت لاہور سمیت ملتان اور دیگر کئی ڈویژن میں سموگ اور فضائی آلودگی کے باعث سابقہ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں اور عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق یہاں فضائی آلودگی کی مقدار مقرر کردہ رہنما اصولوں سے 100 فیصد زیادہ ہے۔

دوسری طرف پاکستان پہلے ہی تعلیمی ایمرجنسی کی لپیٹ میں ہے اور 262 ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ اس لیے بچوں اور دیگر متاثرہ حاملہ خواتین کی صحت و تعلیم کے بنیادی حق کا تحفظ کیا جانا اشد ضروری ہے اس لیے عالمی ادارہ یونیسیف پاکستان سے ہر بچے کی صحت و تعلیم کے حقوق کو پورا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ پنجاب میں سموگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے برے اثرات کی شدید لپیٹ میں آنے کا اندازہ اس سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ دنیا کے197ممالک کی کوپ 29 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو 2030ء تک موسمی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے محفوظ کرنے کے لیے 7 ہزار ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور انسانیت کی بقاء گلیشیئرز کے تحفظ سے مشروط ہے کیونکہ مستقبل میں گلیشیئرز پگھلنے سے انے والے سیلابوں سے شدید خطرات لاحق ہیں اس لیے کلائمیٹ چینج سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے فریم ورک پر عملدرامد کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ کوپ 29 کی کلائمیٹ فنانس گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک کو ان مسائل میں گرے ترقی پذیر ممالک کی مدد کی اشد ضرورت ہے۔اس میں شک نہیں کہ گلوبل وارمنگ سمیت قدرتی افات کی صورت میں ظاہر شدیداثرات کے ذمہ دار وہ بڑے صنعتی و ترقی یافتہ ممالک ہیں جنہوں نے کاربن کے بے تحاشہ اخراج کے منفی پہلوؤں کو نظر انداز کر رکھا ہے اور ان کے برے اثرات پاکستان و دیگر ترقی پذیر ممالک میں قدرتی آفات کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کو دو مرتبہ تباہ کن سیلابوں کا سامنا رہا اور 2022ء میں کل رقبے کا ایک تہائی حصہ شدید سیلاب کی نذر ہو گیا .

اسی طرح 7 گلیشیئرز میں سے 3 ہزار سے زائد جھیلوں میں تبدیل ہونے سے بھی اب پاکستان سیلابوں کے شدید خطرات سے دوچار ہے۔ جس کے پیش نظر بڑے ترقی یافتہ ممالک کو انسانیت ماحول دوست پالیسی پر عمل پیرا ہونے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ کوپ 15 میں ایک ارب ڈالر فنانسنگ کے وعدے پورے نہیں ہوئے۔وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کا باکو 29 کوپ کانفرنس میں انسانیت کی بقاء کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے بچاؤ کی خاطر ترقی پذیر ممالک کو کلائیمیٹ فنانسنگ کی مد میں امداد قرض کی بنیاد پر نہ ہونے کا مشورہ بھی یقینا صائب ہے جس پر اقوام متحدہ کو عملدرآمد کرانے کی ضرورت ہے۔اسی کانفرنس سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے خطاب میں خبردار کیا ہے کہ گلوبل وارمنگ سے دنیا تیزی سے گلوبل بوائیلنگ کی طرف بڑھ رہی ہے اور کلائمیٹ چینیج دنیا کے لیئے بہت بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ برطانوی دارالحکومت لندن میں سموگ کا آغاز 5دسمبر 1952ء کو ہوا جس کے نتیجہ میں 4 ہزار جانیں ضائع ہوئیں، نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا اور حد نگاہ صفر ہو گئی تھی اور ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد دمہ، اشوب چشم، ٹی بی، اور نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہوئے، ماہرین ماحولیات نے سرجوڑ کر تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ لندن میں سموگ دورانیہ میں روزانہ کی بنیاد پر ہزار ٹن سموگ پارٹیکلز پیدا ہوتے رہے جن میں 140 ٹن ہائیڈروکلورک ایسڈ، 14ٹن فلورین کمپاؤنڈ اور 370 ٹن سلفر ڈائی آکسائیڈ شامل ہوتی تھی،اسوقت کے ماہرین کے مطابق یہ مضر صحت مادے ساڑھے سات سو سال کی غلطیوں کا نتیجہ تھے جن سے انسانی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوئے اور اسے گریٹ سموگ آف لندن کا نام دیا گیا اور پھر5 جولائی1956ء کو کلین ایئر ایکٹ کو ہاؤس آف کامنز سے منظور کروایا گیاجس کے بعد برطانیہ میں ماڈرن سینٹرل ہیٹنگ کا نظام متعارف کروا کے سموگ کے مضر اثرات سے برطانوی عوام کو محفوظ بنانے کی سعی کی گئی اور 1960ء تک برطانیہ کو سموگ فری بنا لیاگیا۔بدقسمتی سے پاکستان میں ہمیشہ سے یہ روایت رہی ہے کہ جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے تو اس کے بعد حکمرانوں کو اس کے سدباب کے لیے مفاد عامہ میں اقدامات اٹھانے کی سوجھتی ہے سیلاب ہو زلزلہ یا کوئی اور آفت پھر حکمران طبقہ اور متعلقہ ذمہ دار ادارے بھی وقتی طور پر”ڈنگ ٹپاؤ“ پالیسی کے تحت حرکت میں آتے ہیں لیکن مستقل طور پر ان مسائل کے حل کے لیے کل وقتی کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتے اور تھوڑے ہی عرصہ میں ماضی کو بھول کر پھر سے پرانی ڈگر پر ہی چل نکلتے ہیں۔

پاکستان میں اس تشویشناک صورتحال میں سپریم کورٹ نے بھی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ ماحولیات اتھارٹی کے چیئرمین کی تاحال عدم تقرری پر بھی سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیاہے۔ اس لیے پاکستان اور آزاد کشمیر کے حکمران طبقے کو بھی چاہیے کہ وہ برطانیہ کے1956ء کے کلین ایئر ایکٹ کی طرح پاکستان اور آزاد کشمیر کو سموگ فری بنانے کے لیے اسی نوعیت کے اقدامات اٹھائیں جو برطانیہ نے اس ایکٹ میں اٹھاتے ہوئے شہری علاقوں سے صنعتی ایریاز کو دیہی علاقوں میں منتقل کرنے، پبلک ٹرانسپورٹ کو کم کرنے،ناقص پٹرول و ڈیزل کی بجائے معیار بلند کرکے متبادل ذرائع اختیار کرنے، درختوں کی کٹائی وفصلوں کی باقیات وٹائیروں کو جلانے پر پابندی لگانے سمیت شہروں میں گرین ایریاز کے فروغ اور بچاؤ کے لیے اقدامات اٹھانے دیگر ضروری اقدامات بھی اٹھانے چاہئیں اور محض وقتی طور پر پنجاب میں سکولوں کی بندش اور 50 پرسنٹ ان لائن سرکاری ملازمین کے کام کرنے اور مصنوعی بارشیں برسانے پر کروڑوں روپے ضائع کرنے پر توجہ دینے اور طلبہ کا تعلیمی نقصان کرنے کی بجائے مستقل بنیادوں پر ایسے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے جس سے انسانی بقاء ممکن ہو اور دیگر نقصانات سے عوام کو محفوظ بنایا جا سکے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بین الاقوامی شدید مضر اثرات سے سکول کی سطح پر آگاہی مہم کے لیے ماحولیات کے مضمون کو سلیبس میں شامل کیا جائے۔

گزشتہ دنوں کشمیر پریس کلب میرپور میں ماحولیات کی عالمی تنظیم WASUP کے پیٹرن ان چیف ڈاکٹر عبدالرشید اور آزاد کشمیر چیپٹر کی ایمبیسڈر لبینہ ماجد نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ایک میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ہم نے سکولوں کی سطح پر آگاہی مہم شروع کر رکھی ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں سمیت سموگ کے انسانی جانوں پر مضر اثرات کے بارہ میں سکولوں کے طلباء کو آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے اپنے گھروں میں جا کر اپنے والدین اور دیگر افراد خانہ کو ان سے بچاؤ کی تدابیر بارے آگاہ کر سکیں یقینا یہ بھی اس عالمی تنظیم کا ایک مثبت قدم ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد حکومت بھی ایسے اقدامات اٹھائے جن سے موسمیاتی تبدیلیوں اور سموگ کے مضر شدید خطرات سے عوام کو محفوظ بنایا جا سکے اوراس کلائمیٹ چینیج سے کئی ممالک کے سروں پر منڈلانے والے سموگ نامی دھوئیں کے بادل چھٹ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں