دل خون کے آنسوروتا ہے

118

تحریر:سردار عبدالخالق وصی ایڈوکیٹ
جب دسمبر کی ٹھٹھرتی راتوں کو اپنے وطن کی امید،مستقبل اور اثاثہ کو انٹری پوائنٹس پر آگ کے آلاو بھڑکائے نعرہ زن دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں یہ وطن سے کیا مانگتے ہیں. انکی عمریں تو کھیلنے کو مانگیں چاند کی تھیں لیکن آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم کے بعض فیصلوں نے انہیں اس قدر بر انگیختہ کردیا ھے کہ گرم بستروں کو چھوڑ کر وہ کھلے آسمان تلے رات گزار رھے ہیں اور حکمران وطن کو زرا بھر فکر نہیں کہ جو آگ انہوں نے سلگائی ہے. اس کے انگھارے ہر سو چنگاریاں اڑا رہے ہیں. مجال ہے وزیراعظم کو اس کا احساس ہوا ہو کہ یہ کس کے بچے ہیں کیا مانگتے ہیں کہ صدارتی آرڈی نینس کی واپسی جسے سب سیاسی جماعتوں کے قائدین و دیگر مکاتب فکر یہاں تک کہ ایمنیسٹی انٹرنشینل نے بھی بنیادی حقوق انسانی کے مغائر قرار دیا ہے۔ فتنہ تو آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے آگ پر تیل چھڑک کے مزید بھڑکا دیا کہ اس کے خلاف دائر درخواست کو سماعت کئے بغیر ہی خارج کردیا کہ کون سا حق چھینا گیا ہے. عدالتوں کے ججز جو مراعات اور عیاشیاں انجوائے کرتے ہیں یہ اسی ریاست کے وسائل یا معاشی طور پر تنگ دست پاکستان کی دی ہوئی گرانٹ سے انکو ملتی ہیں.

اللہ بھلا کرے سپریم کورٹ آزاد کشمیر کا کہ انہوں نے اپیل سنتے ہی اس غیر ضروری اور بلا ضرورت مسودہ قانون کو معطل کردیا .سپریم کورٹ اسکو بغیر سنے کالعدم قرار نہیں دے سکتی تھی کہ عدالت میں جب کوئی معاملہ جاتا ہے تو وہ دو طرفہ دلائل سن کر اور آئینی و قانونی جائزہ لیکر ہی فیصلہ کرنے کی پابند ہوتی ہے. حکومت کے لئے ایک موقع آیا تھا کہ وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس قانون کو واپس لے لے اور اس قانون کی خلاف ورزی پر گرفتار شہریوں کو اپنے طور پر رہا کردے .اس سے وہ سبکی سے بچ جاتی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی دونوں ون ون پوزیشن پر چلے جاتے لیکن حکومت نے اب سو گنڈے بھی کھائے اور سو جوتے بھی کہ انہیں اپنے ہی صدر جسکے نام سے یہ قانون مسلط ہوا تھا اسکے خط پر واپس لیا جسکا وقت گزر چکا تھا لیکن اراکین کابینہ پر کہ ان میں سے کسی کو یہ اخلاقی جرات بھی نہ ہوئی کہ وہ اس حکومت سے اختلاف کرتے ہوئے مظاہرین کی دادرسی کے لئے نہیں اپنی اپنی جماعتوں جنکے ٹکٹ پر کامیاب ہوکر وہ مراعات و تعیشات کی موجیں اڑا رھہ رھے انکے لئے ریلیف مہیا کرتے۔

وزیراعظم کی تو بات ھی کیا ھے کل یہ وزیراعظم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو یہ کہتا اور باور کراتا تھا کہ آپ نے میرے نعرے و نظریے کو ہی چرایا ہے یہی باتیں میں نے سینٹ کی کمیٹی کے سامنے رکھی تھیں اور آنیوالے دن یہ وعدہ معاف گواہ بنے گا کہ میں نے یہ کب کیا یہ تو مجھ سے “فلاں” نے کرایا ھہے۔ مصیبت یہ ہے کہ نوشتہ دیوار کوئی نہیں پڑھتا بعد میں سب لکیریں پیٹتے ہیں کہ سانپ یہاں سے گزر گیا۔ جب پانی پلوں کے نیچے سے بہہ جائے تو واپس نہیں آتا۔
ایسے حالات میں مظاھرین سے کوئی کیا بات کرے اور ان معصوم نوجوانوں کو کوئی کیا سمجھائے کہ معاملات کس سمت بڑھ رھے ھیں اور اس سے کس کا فائدہ اور کس کا نقصان ھورھا ھے یہ کام بھی حکمرانوں کا ہوتا ھہے جو ریاست کی نمائندگی کرتے ہیں کوئی ناصح،مصلح اور ہمدرد ایسے ماحول میں بات کرسکتا ہے جب سننے کی صلاحیتیں بیدار اور انسانی جبلت میں شر پسندی و ناریت خوابیدہ ہو جب آگ زہن و جسم کو تپش فراہم کر رہی ہو تو اسوقت پانی کا تصور لانا اور سمجھانا مشکل ہوتا ہے کہ اصل زندگی آگ نہیں پانی ھے نفرت نہیں محبت ھہے تحرک نہیں ٹھہراو ھہے الجھن نہیں سلجھن ھہے۔

والدین سے بھی اگر اولاد سے کوئی زیادتی ہو جائے تو اولاد بھی اس قدر امادہ بغاوت ہوجاتی ھہے کہ کہہ دیتی ہے کہ تم نے ہمارے لئے کیا ہی کیا ھہے وہ یہ سب بھول جاتی ھہے کہ ایک نطفہ سے جوانی تک کے مرحلہ زیست میں والدین کا کیا کیا کردار رہاہوتا ہے یہی صورت حال ایک شہری کی بھی ریاست سے ہوجاتی ھہے اور ایسے ہی جذباتی عمل سے ریاستیں وجود میں آتی ہیں اور مٹ بھی جاتی ہیں پاکستان کا وجود مسعود اور منصہ شہود ہو یا آزاد جموں و کشمیر کا یہ خطہ مہرباں ہو کہ ہم نے ایسے ہی مشتعل جذبات میں حاصل کیا اور ایسے ہی 1971 میں دولخت کیا اور اسی سال وہی بنگلہ دیش جنہوں نے تشکیل دیا انکی اولادوں نے پچاس سال بعد انکے نشانات تک مٹا دئیے۔

میں سوچتا ہوں کہ جس دریائے جہلم کے کنارے یہ مشتعل قافلے آج ٹھٹھر رھے ھیں اسی دریائے جہلم کو تیر کر یا کشتیوں میں سوار ھوکر ھمارے اکابر نے اسلحہ لایا ڈوگرا فوج کو بھگایا آج ان ھی کی اولاد یہاں خیمہ زن بھی نہیں کھلے آسمان تلے آلاو سلگھائے بیٹھی نظر آتی ھے وہ اس وقت بھی سالار قافلہ تھے یہ اسوقت پرچم بردار ھیں۔ اس وقت انکے پاس پرچم نہیں تھا اسوقت انکے پاس پرچم ہے وطن ھے اس وطن کا پشتیبان ھہے اسوقت یہی تھوراڑ 36 شہدا کے خون سے سیراب تھا آج یہی تھوراڑ جو ڈوگرا فوج کی ایک ظلم کش پولیس چوکی اور ایک پرائمری سکول پر مشتمل تھا آج یہاں کیا کیا سہولیات دستیاب ھیں۔ انسانی فطرت قران نے یہی بیان فرمائی اس میں ھم میں سے کسی کا قصور نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ھہے.

ان الانسان لہ ربہ لکنود (یقیناً انسان اپنے رب کا نا شکرا ھے) ھم بھی کفران نعمت کرتے نہیں تھکتے ورنہ تقابل و توازن کریں تو تشکر و صبر کا درس ملتا ھے جب بے صبری اور عدم برداشت غالب ھو جائے تو تشکر و احسان اللہ کا یاد نہیں رھتا تو والدین عزیز واقارب و پڑوسیوں کا کہاں یاد رھتا ھے۔انکو یاد نہیں رھتا جنکے اندر و باھر الاؤ سلگھ رھے ھیں یا سلگھائے جارھے ھیں لیکن ایک خاموش اور لا تعلق لوگوں کی ایک خطیر تعداد ھے جنکی خاموشی و نظر اندازی کے باعث یہ سب کچھ پروان چڑھ رھا ھے انکے سوچنے کو ایک لمحہ فکریہ ھے کہ وہ بھی اپنا کردار ادا کریں وہ بھی باھر نکلیں وہ بھی آواز بلند کریں یہ بھی سوچیں کہ کیا کسی پول سے جھنڈا اتارنے سے یا لگانے سے ھم آزاد ھو جائیں گے یا کسی پر کوئی فرق پڑے گا ھمارا یہ خطہ land locked ھے آزاد پتن،ٹائیں ڈھلکوٹ،کوھالہ،ھولاڑ ھمیں دریا پار کرنے ھوتے ھیں ایک برار کوٹ مظفرآباد کا زمینی راستہ ہے.

جہاں بیریر ھے.1992 کے سیلاب میں یہ سب پل ٹوٹ گئے تھے کون ھمارے ریسکیو کو آیا تھا 2005 کے زلزلے میں کون ھماری مدد کو پہنچا تھا کون ھے جو ھمارا نام پیار سے لیتا ھے ھمیں ھر وہ سہولت بلکہ اپنے سے بھی بڑھکر ھمیں دیتا ھے ھمیں شناخت بھی دیتا ھے دنیا میں ھمارا نام بھی کاز بھی مسلسل الاپتا ھے ھم تو ایک ڈویثرن ضلع سے بھی کم ھیں ھمارے ڈیڑھ لاکھ سے زاھد ملازمین کا بوجھ ان جھنڈے برداروں کا بوجھ اور لاڈ، کون برھان وانی سمیت لاکھوں شہدا و قیدیوں کا ذکر اقوام متحدہ میں کرتا ھے، کون ھماری حق خودارادیت کی وکالت کرتا ھے بھارت نے تو کشمیر کو اپنے اندر ضم کرکے دفعہ 370/35A کو ھی ختم کردیا ھے یہ پاکستان ھی ھے جس نے اپنے آئین کے آرٹیکل 257 میں ھمارے حق خودارادیت کی ضمانت فراھم کی ھے۔ کون ھے جس نے ھمارے لئے اپنی سلامتی کو داؤ پر لگایا ھے .

کون ھے جس نے اپنا پیٹ کاٹ کر جب دیکھا کہ ھمیں سستا آٹا اور سستی بجلی کی مشکلات کا سامنا ھے فوری طور پر 22 ارب فراھم کئے۔ھم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ھیں لیکن نفرتیں بڑھا کر اپنے خلاف نفرتیں پیدا کرسکتے ھیں کیا ھم ان لوگوں کا شکریہ ادا کرسکتے ھیں جو برف پوش پہاڑوں سے لیکر میدانوں میں ھماری حفاظت پر مامور ھیں کیا ھم ان روحوں کی جواب دھی کرسکتے ھیں جنہوں نے اس وطن کی آزادی کے لئے اپنی جانوں کا بے دریغ نذرانہ پیش کیا اور آج بھی کر رھے ھیں کیا ھم ان اپنے عزیزوں، مائیں اپنے بیٹوں،بہنیں اپنے بھائیوں،بیوائیں اپنے سہاگوں اور معصوم بچے اپنے باپوں کا سوال ھم سے نہیں کریں گے جنہوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی ھے اور جب چاک و چوبند دست انکی قبروں پر آکر سلامی Gaurd of Honour پیش کرتے ھیں تو ھم غم و حزن کے باوجود ایک فخر محسوس کرتے ھیں کہنے کو تو لاتعداد و بے شمار دلیلیں نہیں حقیقتیں ھیں جو ھمارے سوچنے و سمجھنے کے لئے ھیں لیکن اس سب کے باجود میرا اپنا موقف یہ ھے کہ آپکو سنا جائے آپکو سمجھا جائے آپکا دکھ آپکا درد شئیر کیا جائے اور ایک واحد شخص جسے ناگزیر سمجھا جا رھا ھے .

جسکی وجہ سے یہ آلاؤ دہکے ھیں یا پیدا ھوئے ھیں وہ اس قدر ناگزیر نہیں ھے اور اس کے ساتھ یہ بھی کہ آزاد کشمیر کے لوگوں کے جو اصل مسائل ھیں انکو ایڈرس کیا جائے خواہ وہ بجلی کا مسئلہ ھے یا بے روزگاری کا مسئلہ ھے لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ یا رسل و رسائل کا مسئلہ ھے سرکاری مراعات و تعیشات میں کمی کا مسئلہ ھے بہتر نمائیندگی کا مسئلہ ھے یا اختیار کا مسئلہ ھے یہ معاملات انتظامی سطح پر اس طرح حل ھونے کے اب نہیں رھے تمام سٹیک ھولڈرز کو اعتماد میں لیکر اصل درد کی نشان دھی ضروری ھے کہ انکے پیچھے اور انکے اندر یہ بے چینی،یہ نفرت کیوں سلگ رھی ھے کہ یہاں ایسا تو کبھی نہیں تھا کبھی نہیں تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں