نوجوانوں کی حالت زار

141

تحریر:نعیم الحسن نعیم
اس موضوع پہ کچھ بھی لکھتے ہوئے میری حالت عجیب ہے اور افسوس ہو رہا ہے ، کیونکہ میں خود بھی ایک نوجوان ہوں تو جہاں اس موضوع پہ بات کرتے ہوئے حالت غیر ہو رہی ہے وہاں بحیثیت نوجوان نوجوانوں کی موجودہ حالت زار سے بھی وقف ہوں.انسانی زندگی مختلف ادوار کا امتزاج ہے جس میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ انسان آگے کی طرف سفر کرتا ہے مگر تمام انسانی زندگی میں جوانی وہ عرصہ ہو تا ہے جب انسان قدرت کی تمام نعمتوں سے بھر پور استفادہ اٹھا سکتا ہے مگر موجودہ بحران زدہ گلے سڑے سماجی ڈھانچے میں جوانی کا عہد اب کمزوریوں، ناانصافیوں، ظلم اور زیادتیوں کا عہد بن چکا ہے۔ جس میں داخل ہوتے ہی اپنے والدین اور عزیز اقارب کی طرف سے مہیا محبت و الفت کے تمام لمحات کسی تصوراتی دنیا کے قصے کہانیاں لگتی ہیں۔ یہ وہ عہد بن چکا ہے جب انسان کے سامنے بناوٹی اور بازاری غلاف میں لپٹی مکاریاں، دھوکہ دہی اور فریب عیاں ہونا شروع ہوتا ہے۔

جب وہ والدین کی طرف سے بندھی ہوئی امیدوں اور خوابوں کو اس بازار میں سر عام رسوا ہوتے دیکھتا تو اپنے اندر توڑ پھوڑ محسوس کرتے ہوئے جرائم یا منشیات میں پناہ ڈھونڈنے لگ جاتا ہے۔ وہ خوش قسمت نوجوان جو کہ کسی طرح بڑے بڑے تعلیم کے نام پر چلنے والے کاروباری اداروں میں علم خریدنے کے قابل ہو تا ہے تو اس کو دوران تعلیم ہی رائج الوقت حکمران طبقات کے غلامی کے ’سنہری اصولوں‘ کے مطابق تیا ر کر کے محنت کی منڈی میں فروخت کے لئے جب بھیجا جاتا ہے تو وہ کسی نئی دلہن کی طرح اونچے خواب سجائے منڈی میں داخل ہو کر بیروزگاری، مہنگائی، لاعلاجی لاقانونیت سفارش رشوت اور غربت جیسے عذابوں سے لڑتے لڑتے انہی سرمایہ داروں کے لئے بے کار ہو جاتا ہے جس کو کسی فالتو مشینی پرزے کی طرح اٹھا کر غلاظتوں کے ڈھیر پر پھینک دیا جاتا ہے۔ لیکن اس سرمایہ دارانہ نظام کی غلاظتوں کو بروکار لاتے ہوئے یہی انسان نما خونخوار بھیڑیے دہشت گردی اور منشیات جیسی منافع بخش صنعتوں کے ایندھن کے طور پر ان مایوس نوجوانوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے شرح منافع میں بتدریج اضافہ کرتے جاتے ہیں۔

ایک وقت تھا کہ جب سرمایہ دارانہ نظام کے لئے بیروزگاروں کی فوج رکھنا ضرورت تھی پر اب پاکستان میں مستقل بیروزگاری نظر آرہی ہے جو کہ نظام کا نامیاتی بحران ظاہر کرتی ہے۔ نجانے کتنے عرصہ سے تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات کو منڈی کی جنس بنانے کے بعد اب بیروزگاروں کو بھی منڈی کی جنس بنا دیا گیا ہے جن سے وقتاً فوقتاً مختلف غیر انسانی افعال سرانجام دیئے جاتے ہیں۔ جس ملک میں ہر دوسرا پاکستانی غربت کا شکار ہو جہاں ہر تیسرا نوجوان بےروزگار ہو وہاں پر سیاسی منظر عام پر ان کو استعمال کرنے کا کاروبار بھی عروج پر ہے۔ تعلیمی اداروں میں عرصہ دراز سے طلبہ یونین پر پابندی لگا کر ریاست نے فسطایت کا بازار گر م کیا ہوا ہے وہاں ہی محنت کش نوجوانوں پر آئے روز ظلم کے نئے پہاڑ توڑنے کا عمل بھی شدید کر دیا ہے۔ موجودہ نسل عشروں میں واحد نسل ہے جو اپنے آباواجداد سے غریب ہے جس کو اپنی روزمرہ ضروریات کے لئے بھی والدین کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔

کسی بھی معاشرے کا مستقبل اس کے نوجوان ہوتے ہیں اور ان نوجوانوں کی حالت زار سے بخوبی معاشرے کے مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ عالمی طور پر سرمایہ دارانہ بحران میں نوجوانوں کی حالت ہر گزرتے دن کے ساتھ بد سے بدتر ہو رہی ہے جس سماج میں نوجوان نسل کے سامنے کوئی راستہ نہ ہو وہ مایوسی کی دلدل میں گری جا رہی ہو تو اس کا مستقبل بھی خطرے میں ہو تا ہے جو کہ کسی نظام کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتا ہے۔ نوجوانوں کی غربت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ ان کی آزادی کم ہوتی جا رہی ہے اسی طرح سے ان کی پریشانیوں اور مصیبتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کسی قسم کے معیار زندگی میں بہتری کے امکانات ختم ہوتے جا رہے ہیں سامنے صرف مایوسی، پریشانیاں اور مصائب کا نہ رکنے والا سلسلہ ہے.

آج نوجوان پاکستان کے موجودہ نظام سے مایوس ہیں، انہیں کوئی نجات دہندہ چاہیے، کسی مسیحا کی تلاش میں ہیں، مقام افسوس ہے کہ نوجوانوں کو جوانی کے عالم میں بھی مسیحا کی تلاش ہے، ذرا تصور کریں کہ ایک ایسا نوجوان جس نے ڈگری کے بعد نوکری حاصل کرنے کے لئے بہت سی قربانیاں دی ہوں آخر جب اسے نوکری نہیں ملے گی تو اس پہ کیا بیتے گی، مثال کے طور پر اگر آپ کسی صحرا میں ہوں اور پیاس کی شدت ہو اور آپ کو سامنے پانی نظر آ رہا ہو اور آپ دھوپ کی شدت میں سفر کر کے اس مقام تک پہنچے اور پانی وہاں موجود نہ ہو، دھوپ کی شدت سے جان جا رہی ہو، تو سوچیں اس حالت میں آپ پہ کیا بیتے گی؟
کیا سچ میں ایک نوجوان جس نے اپنی جوانی اتنی مشکلات سے گزاری ہو وہ ایک روشن مستقبل کو پا لیتا ہے؟ جس نے جوانی کی رنگینی تک نہیں دیکھی، صرف اس لئے کہ مجھے گھر کا چولہا جلانا، میں گھر کا مستقبل ہوں، حالانکہ اس نوجوان کا اپنا مستقبل تاریک ہوتا ہے، اور بالآخر جب اس کے ہاتھ میں ڈگری آتی ہے تو وہ در بدر پھرتا ہے کہ کوئی تو ہو جو اس کی محنت کو سراہے، کوئی تو ہو جو اس کی محنت کا پھل اسے دے.

وہ جہاں بھی جاتا ہے بس تاریکی ہی تاریکی نظر آتی ہے، آج پاکستان میں حالات ایسے ہیں کہ نوجواں ہاتھوں میں اعلیٰ ڈگریاں لے کر لائن میں کھڑے ہیں کہ کوئی پرسان حال ہو، چپڑاسی تک کی ہی نوکری مل جائے، لیکن کمال یہ ہے کہ اعلیٰ افسر تو کوسوں میل دور کی بات ہے یہاں چپڑاسی بھی اپنا رشتہ دار، اپنی برادری، اپنا قریبی لگایا جاتا ہے، اتنا گھٹیا نظام ہے کہ اعلیٰ ڈگری یافتہ نوجوان ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور بیشتر جعلی ڈگری والے افراد بڑے بڑے عہدوں پہ بیٹھے ہیں، فقط اپنے تعلق کی وجہ سے، اس ساری صورتحال میں وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان در بدر کی ٹھوکروں کے بعد اپنے آبائی پیشے کو ترجیح دیتے ہیں، ان میں سے اکثر محنت و مزدوری کرتے ہیں، کچھ ایسے بھی ہیں جو کم تنخواہ والی ملازمت کرتے ہیں تاکہ گھر کا نظام چل جائے، لیکن کیا اس ملک میں ایسا ممکن ہے کہ آپ چند ہزار روپے سے گھر کا نظام چلا سکیں؟

پاکستان جس کی آدھی سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے یہ اب چلتی پھرتی لاشوں کا عجب کدہ بن چکا ہے۔ خوف اور ڈر کے ماحول میں پرورش پانے والی نوجوان نسل اپنے آئے روز کے بگڑتے سماجی، سیاسی اور ثقافتی ڈھانچوں کے اثرات کے تابع عملی طور پر بیگانگی کی تمام حدوں کو پھلانگتے ہوئے عجب تماشہ پیش کر رہی ہے جس کا اظہار سٹریٹ کرائمز اور منشیات کے بڑھتے ہوئے رحجان سے لگایا جا سکتا ہے۔ سماجی طور پر مواقعوں کی کمی ہونے کی وجہ سے معاشرے میں خصوصاً نوجوان نسل میں لمپنائزیشن میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ شدید دردناک عمل ہے. اس سے بھی بدتر حالت اور سوچ اس نوجوان کی ہوتی ہے جسے یہ بتایا جاتا ہے کہ تم نے اپنی پانچ بہنوں کی شادی کرنی ہے، ان کو جہیز بھی دینا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں یہ لعنت ہر کسی کو چاہیے، پھر آپ کو اپنی شادی بھی کرنی ہے تمہارے رشتہ دار بھی تب ہی تمہارا رشتہ لیں گے.

جب اچھی نوکری یا کام ہو گا، یا اگر پسند کی شادی کرنی ہے تو لڑکی کے ماں باپ بھی اچھی نوکری ہوگی تو رشتہ کریں گے، پھر تمہیں اپنی اولاد کو اچھا مستقبل بھی دینا ہے، اپنی بیٹی کی کل کو شادی بھی کرنی ہے اس کو بھی جہیز دینا ہے، ہماری ذمہ داری بھی بڑھاپے میں اٹھانی ہے، اور ساتھ ساتھ زندگی کے کئی اور اتار چڑھاؤ بھی دیکھنے ہیں، تو سوچیں جب اسے اس ارض پاک میں جہاں لوگوں کی بیٹیاں محفوظ نہیں جہاں کچھ بھی محفوظ نہیں کیا وہاں کسی نوجوان کا مستقبل کیا خاک محفوظ رہ سکتا ہے؟ جب نوجوان اپنے سر پہ اتنی ذمہ داریاں دیکھتا ہے تو اپنے ہاتھ میں ڈگری اور اتنی محنت کی بدولت کچھ حاصل نہیں ہوتا اور سامنے تاریک مستقبل ہوتا ہے تو پس اکثر و بیشتر راستے سے ہٹ جاتے ہیں نا امید ہو جاتے ہیں اور مایوس ہو کر ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں.

اگر ہم مستقبل کی جانب دیکھیں تو یہ بات عیاں ہے کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں کسی قسم کی معیار زندگی میں بہتری ناممکن ہے۔ موجودہ نظام کی متعفن لاش غلاظتوں اور جنگوں کے علاوہ کچھ دینے سے قاصر ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے حالیہ وظیفہ خور دانشور بھی کسی بہتری کی امید چھوڑ کر جو ہے اس کو برداشت کر نے کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں اس کرہ ارض پر جہاں ایک طرف تو دولت کے انبار میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف محرومی، ذلت اور لاچاری میں بھی اتنا ہی اضافہ ہو ا ہے۔ یہ نظام کب کا اپنی طبعی عمر پورا کر چکا ہے اب اس کی لاش کو تاریخ کے کوڑے دانوں میں ٹھکانے لگانے کا وقت ہے۔ نوجوان ہی وہ پرت ہیں جو کہ تحریکوں کو ایک نئی اٹھان دیں گے کیونکہ اگر ہم تاریخی اعتبار سے دیکھیں تو ہرتحریک میں نوجوان ہراول دستہ کے طور پر سامنے آئے۔

سیاستدانوں اور مذہبی ملاء نے نوجوانوں کو استعمال کرنے کی ناکام کوشش کی کیونکہ اس عارضی ابھار میں جانے والے نوجوان بھی جلد ہی سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ان کے دکھ پریشانیوں کا حل ان کے پاس نہیں۔ یہ نام نہاد ’انقلابی ‘ لیڈر جس تبدیلی کی بات کرتے ہیں وہ سراسر جھوٹ اور فریب ہے. یہ ہمارا مستقبل نہیں‘ نہ ہی ہمارے گناہوں کی سزائیں بلکہ یہ یہ گرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کی ہولناک بربادیاں ہیں جن کا شکار ہم نہ چاہتے بھی بن چکے ہیں۔ ان بربادیوں کے جہاں میں سے ہی سرخ سویرا روشن ہو گا جس کے لئے جدوجہد کرنا ہو گی۔ وہ وقت دور نہیں جب یہا ں کے محنت کش اور محکوم عوام اٹھ کر ان ظالموں سے اپنے خون کا حساب لیں گے اور وہ حساب صرف سوشلسٹ انقلاب ہی ہو سکتا ہے. آخر پہ اپنے نوجوان دوستوںھ کو کہنا چاہوں گا کہ جتنی بھی مشکلات ہوں زندگی سے ہار نہ مانیں، زندگی کو جئیں مصیبتوں اور پریشانیوں کے ساتھ، زندگی ہے ہی یہی اور کبھی بھی خدا کی ذات سے مایوس نہ ہوں۔خدا کرے اس ملک خدا داد پاکستان کے حکمران آج کی نوجوان نسل کی حالت زار پہ رحم کریں اور آپسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اس ملک کی خدمت آج کے نوجوان کو دی جائے، اور یقین جانیے ہمارے نوجوان اس صلاحیت کے مالک ہیں کہ وہ اس ارض پاک کا نام پوری دنیا میں روشن کر سکتے ہیں، اور انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں