انیسو یں صدی میں کشمیر کے چند مغر بی محققین اور سیاح

55

تبصرہ :خالد اکبر
انیسو یں صدی میں کشمیر کے چند مغر بی محققین اور سیاح معروٖف مصنف و استا دپرو فیسر مسعودا حمد خان کی ایک ایم تاریخی تصنیف ہے۔سردار مسعوداحمد خان کا شمار سنجیدہ اور با مقصد تحا ریر کے حوالے سے کشمیر کے صف اول کے لکھا ر یوں میں ہو تا ہے۔زیر نطر کتاب تار یخی صنف ادب میں شمار ہو تی ہے۔ اس کتا ب کو پڑ ھنے کے بعد انیسو یں صدی کی عالمی طاقتوں کے مابین گر یٹ گیم کے تناظر میں جموں و کشمیر کی خون آشام تا ریخ کو جاننے اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ جغرا فیا ئی لحا ظ سے بہت ہی اہم محل و قو ع کی وجہ سے جموں کشمیر کی تز ویراتی حثییت، فی زمانہ مقامی اور بین الا قوامی طاقت کے مرا کز کے لیے اہم رہی ہےاور شاہد اس کی صد یوں کی غلامی میں اس پہلو کا فیصلہ کن کردار رہا ہے۔ اس تصنیف کے مطا لعہ سے پتا چلتا ہے کہ جموں و کشمیر کی تہذ یب و ثقافت کے گہرے مطالعہ کے ساتھ ساتھ کس طرح کشمیر کی جیالو جی ،اس کے فلک بوس پہا ڑوں ،وادیوں ،مر غزاروں، جھیلوں، ند یوں، نالوں وغیرہ کی پیمائش اور سروے کا غیر معمولی کا م شماریاتی اور ریا ضیاتی شکل میں جدید ٹیکنا لو جی کی مدد سے مغربی ما ہر ین نے سر انجام دیا۔ یقینا یہ سارا کام جو سینکڑوں نگارشات کی شکل میں محفوظ ہے۔ کشمیر شناسی کے باب میں ایک بیش بہا قیمتی اضافہ ہے۔

جموں کشمیر دنیا عالم میں قد یم تر ین تا ریخ رکھنے والہ خطہ کہلا تا ہے۔ تقسیم کشمیر کے کارن، ہر دو اطراف میں کچھ سرکاری تحقیقی اداروں کے باو جود کسی مو ضو ع پر ٹھوس تحقیق ،ایک کار مشکل رہا ہے۔ بلا شک و شبہ کشمیر کے حوالے سے علم و تحقیق کے کہیں ماخزات اور حوالے مو جود ہیں۔راج تر نگنی سے لیکر آہین اکبری تک پھیلی ہو ئی سینکڑوں کتب کشمیر فہمی اور تحقق کے حوالے سے مطالعہ کے مستند اور ٹھوس حوالے رہے ہیں۔تاہم انیسو یں صدی میں کشمیر کے چند مغر بی محققین اور سیاح میں مر قو م اور مزکور متن ایسا علمی سر مایہ ہے جو ہر لحاظ سے منفرد اور بے مثال ہے۔ یہ کام انتہائی پہشہ وارانہ اور غیر جا نبدارنہ انداز میں، تمام تعصبات سے بالا تر ہو کر مغربی اقوام اور عظیم روس کے در میان گر یٹ گیم کے پیرائے میں کیا گیا ہے۔اس کام کی تکمیل کے لئے بے شمار مادی اور انسانی وسائل استعما ل کیے گیے۔اس میں کئی یگانہ روز گار مغر بی مشاہیر اور ماہر ین شامل رہے ہیں جنھو ں نے اپنی پوری زند گیا ں اس کا م پر وقف کر دی، بلکہ بہتوں کی زندگیاں اس عمل میں لٹ بھی گئیں۔

زیر نظر کتا ب کے مشمولات کو ایک نظر دیکھنے سے ہی اس تصنیف کی اہمیت و افا دیت کا اندازہ لگایا جا سکتاہے۔اس کتاب کے کل اٹھارہ ابواب ہیں گر یٹ گیم کا اولین مہم جو ،ولیم مور کرافٹ ؛ گلاب سنگھ کا امر یکی مشیر، الیگز نڈر گارڈنر ،بلتستان کا اولین یو رپی سیاح،جی ٹی وا ینے؛ شمال مغر بی سر حدوں کی تلاش،بیرن چارلس ہیو گل ؛ کشمیر کی شمال مشرقی سر حدوں کی تحقیق اور تعین،الیگز نڈر کنگم؛گر یٹ ٹر یگنو میٹر یکل سروےاف کشمیر، ولیم جانسن؛ ڈاکٹر لنٹر،ایک بے مثال کام؛ مقتو ل مہم جو کر نل جے وا ٹا کر ہیو رڈ؛کشمیر کی جیا لو جی کے اولیں محقق فر یڈرک ڈریو،سر والٹر لار نس؛راج تر نگنی کے انگر یز متر جم آریل سٹاہن ، وغیرہ جیسے اہم اور قابل زکر موضو عات شا مل ہیں۔ ان تمام مز کورہ بالا محو لہ محققین کے جموں کشمیر کی تاریخ ،جغرافیہ اور تہزیب و ثقافت پر چھپے ہو ے ہزاروں صحفات ایک بہت ہی نادر اور نا یا ب قیمتی سر ما یہ ہیں۔ سردار مسعود احمد نے برسوں کی عرق ر یزی کے بعد ہمیں انکی نایاب کتب کے content سے اگاہی کے زریع ان تک رسائی کی رہنمای فرا ہم کی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ان کے مغر بی مصنفین کی کتب پر مختصرہ تبصرے جو اس کتا ب میں شامل ہیں بہت اہمیت کے حا مل ہیں۔ مثال کے طور پر ایک جگہ رقم طراز ہیں ریاست جمو ں کشمیر کے مختلف حصوں میں جو بلند پہاڑ ،وادیاں اور میدان شامل ہیں ان کے طول بلد،طول عرض کے خطوط ، فاصلےاور Dimensions ان علا قوں کی آب و ہوا،در جہ حرارت،مو سمی حالات ،پیداواری امکا نات کا پورا سائنسی و تکنیکی ریکارڈ ایک مغر بی ما ہر ارضیات ولیم لمبٹن کے سر جا تا ہے جس نےجد ید آلات کے ذریعے بڑی پیشہ وارانہ مہارت سے یہ مشکل کام کیا۔ یقینا یہ ایک منفرد اور یگا نہ روز گار کام ہے۔آج بھی جب ہم جموں کشمیر کی جغرافیائی خدو خال سے متعلقہ جو بھی اعدادبو شمار پیش کر تے ہیں اس کا کر یڈ ٹ اسی انگریز ماہر جیالو جی کو ہی جا تا ہے۔ اسی طر ح جموں وکشمیر کی جیا لو جی کے بارے میں ہمارے علم کی بنیاد ایک اور مغر بی محقق فر یڈرک ڈریو کے سرہے۔ علاوہ ازیں،مشہور زمانہ معا ہدہ امر تسر کی گلاب سنگھ کو فروخت کر نے کے حوالے سے گر یٹ گیم کے تناظر میں پہناں اس عہد کےعالمی منظر نامہ کا احوال زیر تبصرہ تصنیف کا ایک اہم باب ہے جس سے ایک قاری کا تناظر اور ذہنی افق ایک نئی آگا ہی حاصل کرتاہے۔

ایک نقط نظر سے دیکھا جائے تو انیسو یں صدی میں کشمیر کے چند مغر بی محققین اور سیاح Ground breaking کا کام ہے ۔یہ ایک ہینڈ بک کی مانند ہےجس کو کشمیر کے حوالے سے علم وادب کے ایک انمول سر مایہ کا انڈکس کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔اس کتاب کے مطالعہ سے کشمیر کے تاریخ ،،جغرا فیہ تہذ یب و ثقافت کو تقابلی انداز میں سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہےجس سے کشمیر فہمی کے حوالے سے ایک نیا افق اور تناظر ابھر کر سا منے آتا ہے۔یہ حقیقت اظہر الشمس ہےکہ تمام جد ید فطری اور سماجی علوم کی تر قی کا زیادہ تر کر یڈ ٹ اہل مغر ب کو ہی جا تا ہے۔اس کی و جہ تحقیق و تخلیق کے بہت ہی اعلی معیارات کی سکہ بند اور پیشہ وارانہ انداز میں پیروی اور اطلا ق ہے۔بد قسمتی سے اس کا عشر عشیر بھی ہمارے ہاں نہیں بر تا جا تا۔اس کی وجہ صلا حیت ،ذہا نت اور افتادطبع کی کمی نہیں بلکہ قو می سطع پر جد ید تعلیم کا تر جیحات میں نہ ہو نا اور اہل علم و تحقیق کی بے قدری ،عدم پز یرائی اورمالی سر پر ستی کا نہ ہو نا ہے۔

پرو فیسر سر دار مسعود ا حمدخان کو بہرحال یہ کر یڈٹ ضرورجا تا ہے کہ انھوں نے اپنی مدد اپ کے تحت کشمیر کے باب میں ایک بہت بڑے اعلی پایہ کے کشمیر پر کیے گیے مغر بی محققین اور سیاحوں کے کام کا نہ صرف کھوج لگا یا بلکہ اسے کھنگال کر ،اس کا جا مع تعارف پیش کر کے ایک قابل قدر فر یضہ بھی سر انجام دیا ہے۔ جو یقینا اداروں کے کر نے کا کام تھا ۔یوں دھر تی کے اس جینون سپوت نے اس کاوش سے ایک ا ہم تاریخی قرض بھی ادا کر نے کی سعادت حا صل کی جس پر وہ ڈھیروں مبارک بادوں کے حق دار ہیں۔ دھر تی کے عظیم سپوت ، کالج کمیو نٹی کے ما تھے کا جھومر، یہ درویش صفت انسان اس سے قبل تاریخ سد ھنو تی،علامہ اقبال کے خطبات میں قرانی مباحث، مقبول بٹ کی سوانح حیات سمیت درجن بھر مفید کتب تحر یر کر چکیں ہیں۔ اس انتہا ئی اہم کام اور ایک تاریخی قرض کو بے باق کر نے کی اعلی اور معتبر کاوش پر ہم اپنے مربی پرو فیسر سردار مسعود احمد خان کو دل کی اتھاہ گہرا ءیوں سے مبارک باد پیش کر تے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں