تحریر:نعیم الحسن نعیم
قائد اعظم(رح) نے فرمایا”مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں۔ مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا۔ الحمد للہ ، قرآن مجید ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا۔”(اجلاس آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن منعقدہ 15 نومبر 1942)مقام شکر ہے جب تاریخ عالم میں تاریخوں کیلئے کیلنڈر ترتیب دیا گیا تو اس میں ایک تاریخ 25دسمبر کی بھی درج ہوئی وہ جلیل القدر تاریخ جس دن جنوبی ایشیاء کی مسلم آبادی کیلئے نجات دہندہ ہستی آئی ۔ہندو اور انگریز کی دوہری غلامی اور جبر و زیادتی کے بوجھ تلے سسکتی ہوئی مسلم آبادی کو آزادی کی کھلی فضاؤں میں سانس لینے اور خوف و ہراس کے اندھیروں سے روشنی کی جانب ایک نئے سفر پر اسے رواں دواں کرنے کیلئے محمد علی جناح کراچی کے مبارک آسمان سے سورج کی طرح طلوع ہوئے.
اس حوالے سے پاکستانی قوم بطور خاص ان کا یوم ولادت مناتی ہے اس دن ہر سمت ہر طرف انکے نام کی گونج سنائی دیتی ہے پرجوش تقاریر وتحاریر میں بجا طور پر اپنے عظیم قائد کو خراج عقیدت و تحسین پیش کیا جاتا ہے تمام تر تعلیمی اداروں میں بھی ان کی ذات و صفات کے بارے میں پروگرام پیش کیے جاتے ہیں لیکن کیا اس بات پر بھی کبھی غور کیا جاتا ہے کہ وہ دھان پان سا مگر چٹانی جبلت والا بے لوث لیڈر اس مقام تک کیسے پہنچا؟جسکی بلندی کیطرف ہمارے لیے دیکھنا بھی کارے وارد ہے؟کسطرح اس تن تنہا شخص نے مکار ہندو عیار انگریز کی دوہری غلامی اور دوہرے پراسرار مظالم سے نجات دلاکر بلکہ انہیں شکست دے کر ہمیں فتح سے ہمکنار کیا اس آسمان جیسی بلندی رکھنے والے نے زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے کیلئے کیسی کیسی قربانیاں دیں علیحدہ وطن کا معجزہ کیسے ظہور پذیر ہوا ؟ آیئے ذرا سوچیں جس ہستی عظم نے ہمارے لیے یہ سب کچھ کیا،ہمیں اپنی روایات رسوم اور مذہبی و ثقافتی آزادی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حوصلہ عطاکیا ہم نے اپنے مال و حیات سے خود کیا ثابت کیا؟
ہندوستان کے مسلمانوں کو قائد اعظم محمد علی جناح کی صورت میں ایسی مخلص قیادت میسر آئی کہ پھر انہوں نے ایک نظریے پر ڈٹ کر اپنے مقصد کے حصول کے لیے تن من دھن کی قربانی سے بھی گریز نہیں کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو اس نظریے پر قائل کیا کہ ان کے لیے ایسا الگ وطن حاصل کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ جہاں وہ امن، سکون اور عزت کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔ حصول علم، آزادی فکر، اور آزادی نقل و حرکت سے بہرہ ور ہوں۔ وہ دنیا میں ایک خود دار اور آزاد قوم کی حیثیت سے پہچانے جائیں۔ ان کی اپنی ایک اسلامی ریاست ہو، جہاں وہ اسلام کے زریں اصولوں پر کاربند ہوں۔ جہاں وہ اپنے آزادانہ فیصلے خود کر سکیں۔ہم سب پاکستانی ہیں اور ہم میں سےکوئی بھی سندھی ، بلوچی ، بنگالی ، پٹھان یا پنجابی نہیں ہے۔ ہمیں صرف اور صرف اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئیے۔ (15 جون، 1948)۔
ایسی شخصیت صدیوں بعد پیدا ہوتی ہے۔ جن کی لگن، محنت اور کارناموں کو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جاتا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو یہ مقام کوئی ایک دو دن کی محنت یا کسی کے سہارے چل کر نہیں ملا تھا۔ بلکہ انہوں نے اس منصب کے لیے خود کی حیثیت کو منوایا تھا۔ ان کی عملی زندگی کا آغاز بیس سال کی عمر میں ہوا، جب ان کا نام بمبئی ہائیکورٹ میں ایک وکیل کی حیثیت سے درج کیا گیا۔ انہوں نے اپنے مطالعے اور فہم قانون کی بنیاد پر قانونی حلقوں کے ساتھ ساتھ سیاسی حلقوں میں بھی اپنی دھاک بٹھائی۔بلاشبہ قائداعظم ایک بصیرت افروز شخصیت تھے۔ وہ سیاست میں بھی بددیانتی کو قریب نہیں آنے دیتے تھے۔ وہ کم ظرفی کا کم ظرفی سے جواب دینے سے بھی کتراتے تھے۔ سفارش کلچر کے وہ انتہائی خلاف تھے۔ اس لیے کہ اس سے اہل لوگوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔ وہ پیسے کی خاطر جھوٹا مقدمہ لڑنے سے بھی گریز کیا کرتے تھے۔ دوسری جانب سرکار کے ایک ایک پیسے کا صحیح استعمال ان کے پیش نظر ہو تا تھا۔ جبکہ قائد کے حالیہ پاکستان میں بہت سے لوگ سرکاری پیسے اور وسائل کو دیکھتے ہی فراخ دل ہو جاتے ہیں۔ سرکاری عہدے اور سرکاری وسائل ایک بھاری ذمہ داری ہوا کرتے ہیں جس کی ایک ایک پائی کا صحیح مصرف یقینی بنا کر ہی کوئی قوم ترقی کے زینے طے کر سکتی ہے.
کسی بھی قوم کی کردار سازی میں اس قوم کی مدبرانہ قیادت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ وہ قیادت جو ایک مخصوص نظریے پر اس قوم کو متحد کرے۔ پھر اسی نظریے پر ان کی منزل کا تعین کرے۔ انہیں اس منزل کی اہمیت اور افادیت کے ساتھ ساتھ اس میں پیش آمدہ مسائل سے آگاہ کرے۔ پھر حصول مقصد کے لیے اس کٹھن راستے کو اپنے اتحاد سے عبور کریں۔ یہ بات واضح ہے کہ نظریہ کسی بھی منزل کی بنیاد اور اساس کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو ہماری کامیابی کے حصول کو یقینی بناتا ہے۔قائد کی زندگی کے ان جیتے جاگتے واقعات سے یہ اخذ کرنا مشکل نہیں رہ جاتا کہ قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے۔عمومی طور پر لوگ خود کو ٹھیک نہیں کرتے۔ ایک مزدور اگر بہت ایماندار بھی ہے تو وہ مزدوری کر کے صرف اور صرف روٹی ہی کما سکتا ہے۔ اس کے بچوں کی تعلیم’ صحت اور مواقع روزگار اور سب سے بڑھ کر وہ عزت اس کے بچے کو کون دے گا کہ وہ ایک مزدور کا بیٹا ہے؟ اس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ یہاں کسی کو اچھی ملازمت مل جاتی ہے تو اس کو اپنے ساتھ کام کرنے والے غریب لوگ اچھے نہیں لگتے کہ وہ اس جیسے نہیں ہوتے۔ قوم کو ایک جیسا بنانے کے لیے ایک جیسا نظام زندگی اور فراہمی انصاف کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
ملازمتوں کی فراہمی میں میرٹ کو سو فیصد یقینی بنانے سے اچھے ‘محنتی اور بہتر کردار والے لوگ سامنے آئیں گے۔ وگرنہ جو کسی کی سفارش پر نوکری لے کر آتا ہے اس کی دفتر میں حاضری کو یقینی بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یوں قائداعظم کے حوالے سے منائے جانے والے ایام خواہ وہ ان کا یومِ پیدائش ہو یا یومِ وصال ان مواقع پر عوام کو بالعموم اور حکمرانوں اور ارباب اقتدار کو بالخصوص اپنا اپنا احتساب کرتے ہوئے غوروفکر کرنا ہو گا کہ موجودہ پاکستان کو قائداعظم کا پاکستان بنانے میں ان کا کیا کردار رہا ہے۔ یاخدانخواستہ قائد کے پاکستان کی شکل بگاڑنے میں اُن کا کتنا حصہ ہے؟ انسان فانی ہے۔ اس نے ایک دن رزقِ خاک ہونا ہے۔ شاید اِن چیزوں کا حساب مانگ لیا جائے’ یہ وقت غنیمت ہے۔ آیئے قائد کے پاکستان کو خوبصورت بنائیں مگر آج اپنے ملک کے حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم قائد اعظم کے وژن پر ہیں؟ کیا بیماری کا بہانہ بنا کر، اپنے مقدمات کا سامنا کرنے کی بجائے، کارکنوں کو پیچھے چھوڑ کر ملک سے بھاگنے والے اپنے آپ کو لیڈر کہلانے کے حق دار ہیں؟ کیا جس ملک کے پڑھے لکھے نوجوان بیس تیس ہزار کی نوکری کے لیے دھکے کھاتے نظر آئیں، بازار میں ریڑھیاں لگاتے نظر آئیں، اس ملک کے سربراہ کو یہ بات زیب دیتی کہ وہ کہے کہ ہم دو افراد کا مہینے میں دو لاکھ سے گزارا نہیں ہوتا؟
کیا ایسا شخص قیادت کا حق دار ہے، جو نہ ملک کے مسائل سمجھتا ہو، نہ اسے خارجی مسائل پر دسترس ہو، نہ آزاد فیصلے کرنے کی ہمت رکھتا ہو، نہ اس کے پاس ناکامی کے سوا دکھانے کو کوئی کارکردگی ہو؟ کیا ایسا شخص قیادت کا حق دار ہو سکتا ہے جو پاکستان میں نفرت انگیز مہم. چلائے، ایسے حکمران جن کی دولت تو دن بدن بڑھ رہی ہو مگر عوام کو اچھا ہسپتال، فوری طبی امداد میسر نہ ہوں، تعلیمی سہولیات اور ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہوں۔ زندگی کی بنیادی سہولیات کی بھیگ مانتے شہری پر کیسے اس طرح کے لوگ حکمران بن سکتے؟یاد رکھیے! موجودہ حالات بہترین قیادت کے فقدان اور نا اہل حکمرانوں کی وجہ سے ہیں۔ پاکستان کی ترقی اور بقا اسی میں مضمر ہے کہ قائد اعظم کے اصولوں کی پیروی کی جائے۔قائداعظم نے 1938ء میں اپنے ایک خطاب میں فرمایا تھا کہ ” اگرمسلمانوں کو اپنے عزائم اورمقاصد میں ناکامی ہوگی تو مسلمانوں ہی کی دغابازی کے باعث ہوگی۔ جیسا کہ گزشتہ زمانے میں ہو چکا ہے۔ میں دغابازوں کا ذکرکرنا پسند نہیں کرتا۔ لیکن ہر انصاف پسند اور سچے مسلمان سے میری درخواست ہے کہ اپنی جماعت کی فلاح و بہبود کی غرض سے متحد و متفق رہیں۔”
قائد کے اس فرمان سے یہ بالکل عیاں ہو جاتا ہے کہ کسی بھی جماعت یا قوم کے لیے متحد و یک جان رہنا کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ ایسے عناصر جو جلاؤ گھیرائو اور تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ملک کے لیے نقصان کا باعث بنتے ہیں، انہیں اس امر کا احساس ہونا چاہیے کہ قائد ہمیں ایک خوبصورت پاکستان دے کر گئے تھے ۔ ہمیں اُسے گزند پہنچانے کے بجائے اس کی ترقی اور خوشحالی میں حصہ ڈالنا ہوگا۔بلاشبہ پاکستان کا مستقبل پاکستانی قوم کے اتحاد و یکجہتی سے مشروط ہے۔ قوم کو متحد رہتے ہوئے وطن کو مضبوط رکھنا ہے اور اس کے لیے اپنے حصے کا کردار ضرور ادا کریں۔ روشنی کا سفر کبھی ختم نہیں ہونا چاہئے۔ قوم کو جہاں خود کوروشن رکھنا ہے وہاں بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے کردار اور اقدار کی روشنی اس طرح پھیلانی ہے کہ جو وطنِ عزیز پاکستان کے لیے عزت و افتخار کا باعث بنے۔
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش کے موقع پر ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ قائد اعظم کی انتھک محنت اور مدبرانہ حکمت عملی تھی جس کی بدولت وطن عزیز پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ ان کا اعلیٰ کردار اور سیاسی بصیرت آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ آج ان کے یوم پیدائش کے موقع پر ہم یہ عزم کرتے ہیں کہ قائد اعظم کے راستے پر چلتے ہوئے پاکستان کو ایک خودمختار ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے