سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال

161

تحریر:نعیم الحسن نعیم
سوشل میڈیا کا مثبت استعمال معاشرے کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتا ھے۔سوشل میڈیا جدید معاشرے کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، جس میں فیس بک، انسٹاگرام اور ٹویٹر جیسے پلیٹ فارمز کو دنیا بھر میں اربوں لوگ استعمال کر رہے ہیں، یہ پلیٹ فارم انسانوں کو ایک دوسرے سے جڑے رہنے میں بھی بہت اہم کردار ادا کرتا ھے،تاہم کسی بھی ٹیکنالوجی کی طرح سوشل میڈیا کے استعمال کے فوائد اور نقصانات دونوں ہیں. یہ پلیٹ فارم لوگوں کو دوستوں اور کنبہ کے ساتھ جڑنے، مواد کا اشتراک کرنے، اور تازہ ترین خبروں اور حالات سے باخبر رکھتا ھے، چاہے آپ پرانے دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہنے کی کوشش کر رہے ہوں، طویل عرصے سے کھوئے ہوئے خاندان کے اراکین سے دوبارہ جڑنے کی کوشش کر رہے ہوں، یا اسی طرح کی دلچسپیوں والے نئے لوگوں سے ملیں، سوشل میڈیا نے دوسروں کے ساتھ جڑنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے، یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو الگ تھلگ ہیں یا جو دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں.

تاہم سوشل میڈیا کے منفی استعمال کی خرابیاں بھی ہیں، سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے پھیلاؤ، بہت سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر معلومات کا اشتراک کرنے میں آسانی اور حقائق کی جانچ کی کمی کے ساتھ، غلط یا گمراہ کن معلومات کو تیزی سے پھیلانا بھی بہت أسان مشغلہ بن گیا ھے، اس کے سنگین نتائج نکلتے ھیں، سازشی نظریات اور غلط معلومات کے پھیلاؤ سے ہر ممکن اجتناب کیا جانا چاہیۓ،. ان خرابیوں کے باوجود، یہ حقیقت ھے کہ سوشل میڈیا نے جدید معاشرے پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس میں لوگوں کو اکٹھا کرنے اور خیالات اور معلومات کے تبادلے میں سہولت فراہم کرنے کی صلاحیت ہے، لیکن اس کے لیے ممکنہ خطرات سے آگاہ ہونا اور سوشل میڈیا کو ذمہ داری سے استعمال کرنا ضروری ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ جو کچھ پوسٹ کرتے ہیں اس کے اثرات کو ذہن میں رکھنا، آپ جو معلومات شیئر کرتے ہیں اس کے ذرائع سے آگاہ ہونا بھی ضروری ھے، سوشل میڈیا کو مثبت استعمال کریں اور ذندگیوں کو خوشگوار بنائیں۔

سوشل میڈیا کی دنیا میں ہر کوئی اپنی زندگی کا بہترین پہلو پیش کرتا ہے، جبکہ مشکلات اور ناکامیوں کو چھپایا جاتا ہے۔ اس طرح جب لوگ دوسروں کی کامیابیاں اور خوشیاں دیکھتے ہیں تو اپنی زندگی کو کمتر محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہ موازنہ کا عمل رفتہ رفتہ خود اعتمادی کو کمزور کرتا ہے اور احساس کمتری کو جنم دیتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ زیادہ تر لوگ سوشل میڈیا پر دوسرے لوگوں کی زندگیاں دیکھ کر اپنی زندگی سے ناخوش ہوجاتے ہیں۔سوشل میڈیا پر اکثر لوگ حقیقی زندگی سے ہٹ کر ایک مصنوعی تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز پر خوبصورت تصاویر، عیش و عشرت بھری زندگی اور مہنگے سفروں کی پوسٹس دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید دنیا میں سب خوش ہیں، سوائے ہمارے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان سب میں سے زیادہ تر لوگ اپنی زندگی کے اصل حالات کو چھپا کر ایک مثالی زندگی کا دکھاوا کر رہے ہوتے ہیں، جو دوسروں کے لیے مایوسی کا سبب بنتا ہے۔

سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ذہنی صحت کے مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔ مسلسل سکرولنگ اور لائکس، کمنٹس کی امید ہمیں ذہنی طور پر تھکا دیتی ہے۔ یہ عادت آہستہ آہستہ ہمارے دماغ کو ایک مخصوص قسم کی خوشی کے لیے محتاج بنا دیتی ہے، جس سے ہم اصل زندگی کے معمولی لمحات کو انجوائے کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، سوشل میڈیا کی یہ لت ڈپریشن اور اینگزائٹی جیسی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتی ہے۔سوشل میڈیا پر اپ سکرولنگ کرتے ہیں تو کسی کی موت کی خبر سامنے آجاتی ہے, اپ دکھی ہوجاتے ہیں.اپ سکرولنگ کرتے ہیں تو دنیا بھر کی sensational نیوز, سکینڈلز, اور جرم اپ کے سامنے لائے جاتے ہیں. اپ انفارمیشن کے اس بھرمار میں کھو جاتے ہیں, وقت ضایع کرتے ہیں.اپ سکرولنگ کرتے ہیں تو کسی نے اپنے دکھ کو گلیمرائز کیا ہوتا ہے, اپ میں ہمدردی کا جذبہ بیدار ہوجاتا ہے.

اپ اگے بڑھتے ہیں تو کسی couple کی محبت بھری تصویر نظر آجاتی ہے, اپ کے اکیلے پن کا احساس زور پکڑتا ہے.اپ مزید اگے بڑھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ لوگ کتنی اچھی اور پرمسرت زندگی گزار رہیں ہیں, کوئی گاڑی, گھر, پیسے, شہرت کی نمائش کررہا ہے, تو کوئی اپنی خوبصورتی, جسامت, اور skills کی. اپ میں حسد اور احساس کمتری کے جذبات سر چڑنے لگتے ہیں. اپ خود کو کوسنے لگتے ہیں, پریشان ہوجاتے ہیں کہ میں یا میری زندگی ایسی ویسی کیوں نہیں, جیسے باقی لوگ ہیں.آپ اگے بڑھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ بہت سے نرگسیت کے شکار لوگ خودنمائی میں لگے ہوتے ہیں. اپنے زندگی اور achievements کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں, اکثر جھوٹ بھی بولتے ہیں. لیکن اپ سچ سمجھ کر پھر پریشانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں.

اپ مزید سکرول کرتے ہیں تو ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو علمی تحریریں لکھتے ہیں, کتابوں پر باتیں کرتے ہیں, مشکل نظریات پر بات کرتے ہیں, مشکل اصطلاحات استعمال کرتے ہیں, اپ ان لوگوں کو دیکھ کر بھی علمی حسد میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ میں کیوں کچھ لکھ نہیں سکتا, ایسے پڑھ نہیں سکتا, میری سمجھ اتنی کیوں نہیں, ایسے ایڈیاز میرے پاس کیوں نہیں.اس کے علاوہ ہزاروں مثالیں دی جاسکتی ہے. لیکن اب اپ خود سوچیں کہ ایک ہی وقت میں جب آپ کا دماغ اتنے منفی جذبات سے گزرتا ہے تو اس کا کیا حشر ہوتا ہوگا؟اپ کو پھر سمجھ نہیں آتی کہ کیا کرنا ہے, غیریقینی صورتحال سے اپ دوچار ہوجاتے ہیں, کیونکہ اپ کو بیک وقت سب ہی کی طرح بننا ہے, وہی کچھ حاصل کرنا ہے جو اپ نے سوشل میڈیا کے دنیا میں دیکھا ہوتا ہے. اور بیک وقت ان سب چیزوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے جو اپ اپنے زندگی میں نہیں چاہتے یعنی غربت, اکیلا پن, سستی کاہلی, احساس محرومی, جنسی گھٹن, ناکامی, لاعلمی وغیرہ… جبکہ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اپ کچھ بھی نہیں کرپاتے. اور دوبارہ سے وہی سائکل ریپیٹ کرنے لگتے ہیں. جس سے اپ کی ان منفی جذبات میں مزید شدت آنے لگتی ہے اور اپ مختلف mood disorders کو جنم دینے لگتے ہیں.

یہاں سب کچھ real نہیں ہے. بلکہ ہر کوئی اپنا best version دکھانی کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے. وقت کی قدر اور خود کی پہچان ضروری ہے, اور زندگی کے مقصد کا تعین بھی.اس صورتحال سے باہر نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سوشل میڈیا اپ کو کنٹرول نہ کرے بلکہ اپ اسے کنٹرول کریں.آپ کو دن میں کسی مخصوس وقت پر کسی خاص مقاصد کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرنا چاہیے. ایسا نہ ہو کہ اپ random scrolling کرتے چلے جائے.آپکو اپنی سوچ تبدیل کرنا ہوگی کہ سوشل میڈیا پر سب کچھ سچ اور real نہیں ہے. اور یہ کہ اپ سب لوگوں کی طرح نہیں بن سکتے, لوگ مختلف صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں… اپ میں بھی کچھ potentials ہیں جنہیں پہچاننا اور utilize کرنا اپ کا کام ہے, اور وہ اپ تب کرسکتے ہیں جب اپ خود کو وقت دیں. تفکر کریں, مطالعہ کریں, مشاہدہ کریں, اچھی فلمیں دیکھیں, اور اچھے دوستوں کی company رکھے. اگر اپ کے تمام کام انڑنیٹ پر ہیں تو instagram اور tiktok جیسی apps کو یا logout یا uninstall کریں. فیسبک پر مفید لوگ ایڈ کریں اور کم سے کم وقت دیں.

بہترین سائٹس کو دیکھیں یوٹیوب پر فلاسفرز, سکالرز اور مختلف experts کے پوڈ کاسٹس اور لیکچرز سنیں. یا اپنی فیلڈ کے متعلق علم حاصل کریں. سستے motivational speakers, مولوی, اور sadguru جیسے روحانی لوگوں کو سننے سے گریز کریں.غرض یہ کہ وقت کو channelize کرلیں, اپنے منفی عادتوں اور سوچ کو مثبت عادات اور سوچ پر تبدیل کریں.زیادہ موبائل اور سوشل میڈیا استعمال سے بچنے کے لیے ایک پیغام. اپنے وقت کو قیمتی بنائیں زیادہ موبائل اور سوشل میڈیا کا استعمال نہ صرف وقت ضائع کرتا ہے بلکہ ذہنی سکون اور تعلقات پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اپنے دن کا ایک حصہ اسکرین سے دور گزاریں اور زندگی کی حقیقی خوشیوں کا لطف اٹھائیں۔

غیر ضروری نوٹیفکیشنز بند کریں۔ موبائل کے بغیر وقت گزارنے کے لیے اہداف بنائیں۔کوئی کتاب پڑھیں، ورزش کریں، یا نیا مشغلہ اپنائیں۔ کھانے کے دوران اور سونے سے پہلے موبائل استعمال کرنے سے گریز کریں۔زندگی موبائل سے باہر بھی حسین ہے، اسے جینے کا وقت نکالیں!زندگی آسان بنائیں موبائل کا کم استعمال کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں