بھارتی دہشت گردی اور جمہوریت کا راگ

137

تحریر:عزیر احمد غزالی چیئرمین پاسبان حریت جموں کشمیر
مقبوضہ ریاست جموں کشمیر جس پر بھارت غیر قانونی طور پر گزشتہ ستتر برسوں سے قابض ہے.بھارت جہاں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس شدہ کم و بیش اٹھارہ قراردادوں کو نظر انداز کر رہا ہے ۔ وہیں بھارت کشمیری عوام کی مرضی و منشاء کو بندوق کی طاقت سے کچلنے کے گمراہ کن راستے پر گامزن ہے .ہندوستان خود کو ایک جمہوری ملک کہلانے اور ثابت کرنے کی کوششیں کر رہا ہے ۔ لیکن دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ بھارت کے ساتھ منسلک مقبوضہ کشمیر کی زمینی سرحد شروع ہوتے ہی بھارت کی نام نہاد جمہوریت ختم ہو کر بدترین عفریت کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور جموں کشمیر کے عوام کیلئے جمہوریت کی آڑ میں چھپا ہوا بھارتی استحصالی رویہ سامنے آجاتاہے ۔

مقبوضہ کشمیر میں آزادی مانگنا بدترین جرم ہے حالانکہ یہ حق تو اقوامِ متحدہ نے ہی کشمیر کے عوام کو دے رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک سوا لاکھ کشمیری شہریوں کو بھارتی فوج اس پاداش میں شہید کرچکی ہے کہ وہ اپنی ریاست کی آزادی مانگ رہے تھے۔ آزادی کا حق مانگنے والے ساڑ نو ہزار کشمیری شہریوں کو بھارتی فوج ماورائے عدالت شہید کرکے گمنام قبروں میں دفن کرچکی ہے .مقبوضہ کشمیر جہاں بھارتی مظالم کیخلاف احتجاج کرنے والے دس ہزار سے زائد بچوں کو بھارتی فوج پیلٹ گنوں کا نشانہ بنا چکی ہے جن میں اڑھائی سال کی حبہ نثار بھی شامل ہے۔ مقبوضہ کشمیر جہاں آسیہ ، نیلوفر اور پٹھان کوٹ کی تیرہ سالہ آصفہ سمیت 11500 خواتین کو بھارتی فوجیوں نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ۔

1991 کنن پوش پورہ کپواڑہ کا وہ دردناک واقع جس میں بھارتی درندوں نے پچاس سے زائد عفت مآب کشمیری بہنوں کی چادر عصمت تار تار کردی آج بھی بھارتی جعلی جمہوریت کے چہرے پر بدنما داغ کی طرح موجود ہے۔

بھارت کی ڈھونگ جمہوریت جس نے کشمیر میں ایک لاکھ اور بائیس ہزار بچوں کو یتیم کیا۔ بھارتی حکمرانوں نے اپنے سیاسی اور فوجی مقاصد کے لیے وادی کشمیر کو جہنم زار بنا دیا ہے جہاں چوبیس ہزار بیوہ خواتین موجود ہیں کشمیر کے درد کا ایک درد ناک پہلو یہ بھی ہے کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں ستائیس سو نیم بیوہ خواتین بھی موجود ہیں جن کے شوہروں کو بھارتی دہشت گرد فوجیوں نے کئی کئی برس پہلے گھروں سے اغواء کر کے لاپتہ کردیا اور ان خواتین کو اپنے شوہروں کے زندہ یا شہید ہونے کا اب تک پتہ نہیں چل سکا۔

نام نہاد جمہوریت کے لبادے میں چھپے ہندوستان کے سفاک حکمرانوں نے کشمیری عوام کی جدوجھد آزادی کو کچلنے ، عوام کو خوف زدہ کرنے اور کشمیری عوام کی مزاحمت کو کمزور کرنے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں کو پچاس مرتبہ سے زائد بار اجتماعی قتل عام کا نشانہ بنایا جس میں بھارتی فوجیوں نے بیجبہاڑہ ، سرینگر ، سوپور ، ہندواڑہ ، کپواڑہ ، مگر مل ، گاؤ کدل ، چوٹہ بازار میں شہروں کے اندر راہگیروں ، دوکانداروں اور عام لوگوں پر حملے کیئے جن میں ہزاروں شہریوں کو ٹاور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو زخمی کیا گیا ہے۔

جعلی جمہوریت کا راگ الاپنے والے بھارتی حکمرانوں کی مسلّط کردہ فوج کے آفیسران مقبوضہ کشمیر میں ترقی اور انعام کی لالچ میں کشمیری نوجوانوں کو تختہ مشق بنا رہے ہیں نوجوانوں کو اغواء کر کے کہیں بھی جعلی انکاؤنٹرز میں شہید کیا جاتا ہے مچھل ، سرینگر ، حیدر پورہ ، شوپیان اور کئی سے المناک کہانیاں کشمیر میں دہرائی گئی ہیں جن میں کشمیری نوجوانوں کو جعلی انکاؤنٹرز میں شہید کیا گیا ہے۔

بھارتی جعلی جمہوریت کا جنازہ گزشتہ پینتیس برسوں میں بار بار اٹھا ہے کہ جب کشمیر میں آزادی کا مطالبہ کر رہے ہزاروں شہریوں کو گھروں سے اغواء کیا گیا انہیں بھارتی زندانوں ، اذیت خانوں اور ٹارچر سیلوں میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، انسانیت کو شرما دینے والے تشدد سے گزارا گیا جنہیں سال ہا سال کے تشدد کے بعد جب بھاری رشوتیں وصول کرنے کے بعد چھوڑا گیا تو وہ زندہ لاشوں کی طرح گھر لوٹے۔ دنیا جانتی ہے کہ جمہوریت کے دعویدار ملک بھارت نے مکر و فریب اور مکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نریندرا مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے 5 اگست 2019 کو ریاست جموں کشمیر کو لخت کیا ، ریاست کا تشخص ختم کیا اور ماضی میں کشمیری عوام سے کیئے گئے معاہدوں اور وعدوں کو یکطرفہ طور پر توڑ دیا گیا۔

ہزاروں کی تعداد میں کشمیری شہریوں کو ایک بار ہھر گرفتار کیا گیا جس میں کل جماعتی حُریت کانفرنس کی قیادت مسرت عالم بٹ ، محمد یسین ملک ، شبیر احمد شاہ ، آسیہ اندرابی ، ایاز اکبر ، سیف اللہ پیر سمیت ساری قیادت کو جیلوں میں قید کرلیا اور وہ آج بھی جیلوں میں ہی بند ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں صحافی ، وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن بھی جیلوں میں قید رکھے گئے ہیں۔ دنیا کی گمراہ کن جھوٹی جمہوریت بھارت نے کشمیر کے آزادی پسند سیاسی راہنماؤں محمد مقبول بٹ شہید اور محمد افضل گورو شہید کو معض ہندوتوا کے متعصب لوگوں کو خوش کرنے کیلئے پھانسی دی ۔ سید علی گیلانی شہید کو گیارہ برس مسلسل گھر میں نظر بند رکھا جب تک کہ وہ شہید ہو گئے ۔ محمد اشرف خان صحرائی اور سید الطاف شاہ کو شدید علالت میں بھی جیل میں قید رکھا جب تک وہ شہادت پا گئے۔

بھارت کشمیری عوام کے تمام جمہوری ، سیاسی ، سماجی ، انسانی اور مذہبی حقوق چھین رہا ہے۔ آزادی اظہارِ رائے پر مکمل پابندیاں عائد ہیں۔ الیکٹرانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر کوئی کشمیری شہری بھارتی فوجیوں کی دہشت گردی پر بات نہیں کرسکتا اور نہ ہی حق خودارادیت ، عوامی حقوق اور عوامی انصاف کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر اس وقت ایک مُکمل جیل کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس کا ہر باسی ایک قیدی کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔بھارتی حکومت ڈھونگ جمہوریت کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں کالے قوانین AFSPA, POTA, TADA, UAPA PSA کے تحت کشمیری شہریوں کے تمام بنیادی انسانی حقوق بری طرح کچل رہی ہے۔

دلی کے حکمران سیاہ جمہوریت کے پردے میں کشمیر میں غالب مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی سازشیں کررہی ہے۔ بیالیس لاکھ بھارتی شہریوں کو ریاست کے ڈومیسائل جاری کیئے گئے ہیں ۔ ہزاروں کنال کشمیر کی اراضی پر دلی سرکار قبضے جما رہی ہے۔ دلی سرکار کی ایجنسیز NIA ,CIK SIU مقامی شہریوں کی زمینوں پر قبضے ، جائیدادوں کی ضبتگی اور مسماریگی پر کام کررہی ہے۔ ان تمام جنگی جرائم کا مرتکب بھارت جمہوری نہیں بلکہ ایک دہشت گرد ملک ہے ۔ جس نے کشمیر کی بستیوں کو تاراج کیا ، عوامی حقوق چھین لیئے کشمیری عوام اس غاصب ملک بھارت سے اپنی آزادی کی جدوجھد کو ہر صورت میں جاری رکھیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں