محسن عباسپور پروفیسر محمد انور شیخ مرحوم،تعلیم و تربیت کا مینارہ

171

سٹیٹ ویوز میگزین رپورٹ

پروفیسر محمد انور شیخ مرحوم کا نام سنتے ہی تعلیمی انقلاب ذہنوں میں آتا ہے۔عباسپور کی موجودہ شرح خواندگی اور خواتین میں اعلی تعلیم کے حوالے سے مرحوم کا کسی سے موازنہ ممکن نہیں۔انکے فیض سے اپنے پرائے سب مستفید ہوئے۔ خواتین کی تعلیم کے حوالے سے ایک جنون تھا کہ جس کی وجہ سے بلا معاوضہ گھر گھر جا کر پڑھاتے تھے۔مذہبی شخصیت تھے جس وجہ سے والدین ہمیشہ پروفیسر صاحب کی رائے کا احترام کرتے تھے۔ اسوقت ایف اے اور بی اے کا امتحانی سنٹر راولاکوٹ ہوا کرتا تھا۔ اور راولاکوٹ جانا کسی جوکھم سے کم نہیں تھا۔ مگر پروفیسر صاحب کی شخصیت ہی ایسی تھی کہ والدین انکے کہنے پہ بچیاں دور دراز سنٹر میں امتحانات دینے کے لیے بھیجنے پہ آمادہ ہوجاتے تھے اور ہر بار پروفیسر انور صاحب ساتھ جاتے رہے۔ انہی کاوشوں کے ثمرات ہیں کہ آج عباسپور میں خواتین ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کر چکی ہیں۔انکی تقاریر آج بھی یاد ہیں کہ بچیوں کو مشکل وقت کے لیے تیار کرو۔ کردار کی تعمیر اسقدر پختہ ہو کہ جنگل میں بھی اکیلی جا سکیں۔ آج اسی شعور، ترغیب اور محنت کا نتیجہ ہے کہ عباسپور تعلیمی میدان میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔۔کہتے ہیں کہ حضرت انسان کا سب سے بڑا کام یہی ہے کہ وہ ایک فائدہ مند نسل دیکر اس دنیا سے رخصت ہو۔ اس حوالے سے بھی ہم سب گواہ ہیں کہ انکی تمام اولاد حتی المقدور انہی کے نقش قدم پہ چلنے کے لیے کوشاں ہے اور معاشرے میں مفید کردار ادا کر رہی ہے۔

مرحوم کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ باغ، عباسپور، حویلی اور ھجیرہ میں انکی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔۔مگر عباسپور میں انکی خدمات کا سلسلہ الفاظ میں تحریر نہیں کیا جا سکتا۔۔پروفیسر صاحب نےبلا تفریق تعلیم کو عا م کیا۔ اور ان کے انگنت شاگرد ( مرد و خواتین) اسوقت اعلی عہدوں پر فائز ہیں۔مرحوم پروفیسر صاحب بوائز کالج عباسپور اور گرلز کالج عباسپور میں مختلف ادوار میں پرنسپل رہے۔ گرلز کالج میں تعیناتی کے دوران ایک والد کی طرح کردار ادا کیا۔ خود لیکچر لینے، بچیوں کی تربیت کو ترجیح دینی اور کالج کی اپ گریڈیشن میں کلیدی رول ادا کیا۔ہاسٹل کی کمی اگر ہوئی تو کئی کئی ماہ تک سٹاف کو اپنے گھر رکھا۔یہ تمام خدمات فقط ایک چھوٹی سی جھلک ہے۔

ایسے محسن کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے عوام علاقہ عباسپور میرے ساتھ بالکل متفق ہے کہ گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج کا نام پروفیسر محمد انور شیخ مرحوم کے نام سے منسوب کیا جائے۔ انکی اولاد کی اعلی ظرفی ہے کہ انہوں نے خود اس کی تحریک نہیں کی کیونکہ یہ کام عوام اپنے محسن کی محبت اور خدمات کے اعتراف میں کرتی ہے۔اور یہ ذمہ داری بھی عوام ہی کی ہے کہ اپنے محسنوں کو یاد کرتے ہوئے جس شعبہ میں انکا کلیدی کردار بنتا ہے اسی کے متعلقہ ادارے کو انہی کے نام سے منسوب کرے۔

لہذا ہمارا پر ذور مطالبہ ہے کہ ایک لوکل کمیٹی بنائی جائے۔۔گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج کو پروفیسر محمد انور شیخ صاحب کے نام منسوب کر کے اس معاملے کو یکسو کیا جائے۔علاقے کی موجودہ قیادت اور سابق وزیر اعظم آذاد کشمیر اس طرف توجہ دیں۔اور اس معاملے کو سمیٹیں۔ ‎

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں