یوم یکجہتی کشمیر

175

تحریر:نعیم الحسن نعیم
یاراں جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت
جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

آج ہم 35واں اظہار یکجہتی کشمیر اس حال میں منا رہے ہیں کہ مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کاخاتمہ ہوئے ساڑھے چھ برس ہو چکے ہیں.حریت کانفرنس کی ساری قیادت جیلوں میں ہے ، قابض فوج کی تعداد روز بروز بڑھائی جا رہی ہے. مقبوضہ جموں کشمیر کی سرکاری عمارتوں پر کشمیر کے پرچم کی بجائے بھارتی ترنگا لہرا رہا ہے. مقبوضہ کشمیر کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے.لاکھوں بھارتی شہریوں کو مقبوضہ جموں کشمیر کی شہریت مل چکی ہے ۔ان حالات میں آج ہم ایک بار پھر اظہار یکجہتی کشمیر منا رہے ہیں ہمیں جائزہ لینا ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہمارے کشمیری بھائی کس کرب واذیت سے گزررہے ہیں؟ ہماری کشمیر پالیسی کیا ہے؟ اور 34 برس سے اظہار یکجہتی کشمیر منانے کے کیا اثرات ونتائج اور فوائد ہیں؟

بات یہ ہے کہ اظہار یکجہتی کرنا بذات خود ایک اچھا عمل ہے ۔لیکن اظہار یکجہتی کے مختلف مدارج اور طریقے ہوتے ہیں۔جب دشمن آپ کے سینے پر بیٹھا گردن کو دبوچ رہا ہو اور شہ رگ کو کاٹ رہا ہو تو پھر زبانی کلامی اظہار یکجہتی کی بجائے عملی اقدام اٹھانے اور دشمن کے ہاتھوں کو توڑنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ایسی حالت میں دشمن کے ہاتھ نہ توڑے جائیں تو دشمن آپ کے جسم اور روح کے رشتے کو توڑ دے گااور یقینی موت کوآپ کا مقدر کر دے گا ۔ کشمیر ہمارے لیے صرف زمین کا ٹکڑا ہی نہیں ہے بلکہ ہماری شناخت اور پہچان ہے، ہماری زندگی ہے اور ہمارے تحفظ وبقا کی ضمانت وعلامت ہے ۔المیہ یہ ہے کہ کشمیر ہمارے لئے جتنا اہم ہے ہمارے حکمران اور سیاستدان اس سے اتنا ہی صرف ِ نظر کئے بیٹھے ہیں ۔

کاش! ہمارے سیاستدان اورحکمران یہ حقیقت جان لیں کہ غلامی کے اندھیرے سال میں ایک دن منانے سے نہیں چھٹتے اورنہ ہی اس طرح سے آزادی کے سورج طلوع ہوتے ہیں جیسا کہ پانچ فروری کادن کئی سالوں سے ہم اظہارِ یکجہتی کشمیر کے طور پر مناتے چلے آرہے ہیں۔’’اظہار‘‘ محض جذبات کا نام ہے اور جذبات بذات خود کچھ بھی نہیں ہوتے کہ جب تک ان کے ساتھ عمل نہ ہو۔ اس لئے کہ جذبات عمل اور کردار کے متقاضی ہوتے ہیں۔جب تک جذبات کوعمل اور کردار کے سانچے میں نہ ڈھالاجائے بات نہیں بنتی ۔اگرمحض دن منانے سے مسائل حل ہونے ہوتے تو اس وقت پاکستان ایک مثالی ، فلاحی ، اسلامی ریاست بن چکا ہوتا۔جس میں ہر طرف امن وامان ہوتا۔ یکجہتی کشمیر کا دن تو منا رہے تھے اب ہم نے 5اگست کا دن بھی منانا شروع کردیا ہے اور یہ دن منا کر ہم سمجھ رہے ہیں کہ بس اہل کشمیر کے ساتھ محبت ومودت کاحق ادا کر دیا ہے.

جبکہ مقبوضہ جموں کے مسلمانون کیلئے ہر دن پانچ فروری اور 5 اگست کا دن ہے۔کشمیری مسلمان ہر روز پاکستان کے ساتھ محبت وتعلق کی داستانیں خون جگرسے رقم کررہے ہیں۔اگرچہ بھارتی حکمران مظالم کے پہاڑ توڑنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑ رہے لیکن دنیا نے بھی اہل کشمیر سے بڑھ کرکوئی باوفا اورصاحبِ استقامت قوم نہیں دیکھی جب بھارتی فوجی ان کے سینوں پرگولیاں مارتے ہیں تووہ جواب میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے اورپاکستان کے سبزہلالی پرچم لہراتے ہیں۔مقبوضہ جموں کشمیراس وقت ایک برفانی جیل بن چکاہے بلکہ اس سے بھی سخت تر ہے ۔دنیامیں جیلیں بنائی جاتی ہیں توان کارقبہ محدود ہوتا ہے ہزاروں مربع میل پرپھیلی جیل دنیامیں کسی جگہ نہیں پائی جاتی ماسوائے مقبوضہ جموں کشمیرکے۔

اگریہ کہاجائے توبے جانہ ہوگاکہ مقبوضہ جموں کشمیرصرف جیل ہی نہیں بدترین جہنم بھی ہے جہاں بلاناغہ کشمیری مسلمانوں پرظلم وتشدد کے پہاڑتوڑے جاتے ،ان کے بچے یتیم کئے جاتے،مائوں بہنوں کے دامان عصمت تارتارکئے جاتے اوربے گناہوں کے لاشے گرائے جاتے ہیں۔ظلم و تشدد کرنا اور خون بہانا ہندو مذہب کاحصہ ہے یہی وجہ ہے کہ ہندومذہب میں کہیں آگ کادیوتاہے جولوگوں پرآگ برساتاہے توکہیں کالی دیوی ہے جو بیگناہوں اور معصوم بچوں کاخون پیتی ہے۔چنانچہ برہمن اپنے مذہب پرعمل پیراہوتے ہوئے اقلیتوں اورکشمیری مسلمانوں پرآگ بھی برسا رہا ہے اور ان کاخون بھی پی رہا ہےاگرآج مقبوضہ جموں کشمیرمیں ظلم وستم کابازارگرم ہے تواس کی کئی وجوہات ہیں مثلاً یہ کہ کشمیرکے لوگ مسلمان ہیں،اسلام سے محبت کرتے ہیں،بھارت سے آزادی چاہتے ہیں ، پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ؎ ہیں۔

برہمن کے نزدیک کشمیری قوم کے یہ جرائم ناقابل معافی اورناقابل برداشت ہیں۔ بھارتی حکمران یک نکاتی ایجنڈے پرعمل پیرا ہیں، ایجنڈا یہ ہے کہ سرزمین کشمیرسے مسلمانوں کانام و نشان مٹادیاجائے اوران کے دلوں سے پاکستان کی محبت کونکال دیاجائے۔اپنے گھر بار اور املاک کی بربادی ، چاردر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی کے باوجود ان مظلوموں کے جذبہ حریت میں کسی قسم کی بھی کمی واقع نہیں ہوئی۔جموں کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی ہر نئی صبح شدت اختیار کر رہی ہے۔ حراستی قتل اورگرفتاریوں کے سلسلے بڑھتے جا رہے ہیں۔بابائے حریت سید علی گیلانی ، اشرف صحرائی نظر بندی کی حالت میں خالق ِ حقیقی سے جا ملے جبکہ مسرت عالم بھٹ ، میر واعظ عمر فاروق ، سیدشبیرشاہ ، ڈاکٹر محمد قاسم،یسین ملک، سمیت دءگر حریت قیادت جیلوں میں نظر بند ہے۔ بھارتی فوج اسرائیلی طرز پر نہتے کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر کا ہر گھر شہید کا گھر بن چکا ہے.

لاکھوں کشمیری بھارتی سفاک سپاہ کی بربریت کا نشانہ بن کے موت کی آغوش میں جاکر سو گئے، باقی کو بھی ایسے ہی جانکاہ حالات کا سامنا ہے، وہ امید بھری نظروں سے پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ مایوس ہوئے تو ان کی الحاق پاکستان کی سوچ خود مختار کشمیر کی سوچ میں ڈھل سکتی ہے، جس سے بانی پاکستان کی روح تڑپ اٹھے گی۔ بھارت کو یہ تو باور کروانے کی کوشش کریں کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر کوئی سودے بازی کرنے پر تیار نہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کی بھارت کی طرف سے حقیقی کوشش تک اس کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھا جائے۔۔ اب تو پاک فوج بھی پوری قوت اور طاقت سے بھارت کا منہ توڑ سکتی ہے پاکستانی افواج پر بھروسہ کریں اور انھیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا کہیں مذاکرات سے ہوئے تو ٹھیک ورنہ چھین لیں گے ہمارے بہادر فوجی جوان، بھارت کو بھی پتا چل جائے گا کہ اس نے کس ایشیائی شیر سے پنگا لیا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ سیاست دان خود تو کچھ کرتے نہیں ہیں اور پاک فوج کے بھی ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔۔ اس پانچ فروری کو ہمیں کشمیر کا مسئلہ مکمل طور پر فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ ان سیاست دانوں سے لے کرنا ہوگا تب ہی اس کا حل ممکن ہے۔ ورنہ قیامت تک سیاست دان اپنی کرسی بچانے اور تجارت و کاروبار کے چکر میں کشمیریوں پر ظلم و ستم ہونے دیں گے اور بیان بازیوں سے ہم عام عوام کو بیوقوف بناتے رہیں گے۔پانچ فروری 1990ءکو جس یکجہتی کا اظہار کیاگیا تھا اس وقت حکمرانوں اور قوم کے اندر برابر کا جوش و خروش تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں وہ جذبہ موجود نہ رہا ۔ حکمرانوں کی پالیسیوں میں وقتاً فوقتاً کمزوریاں سامنے آتی رہی ہیں۔

آئیے یوم یکجہتی کشمیر پر ہم جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ اپنے عہد کی تجدید کریں اور تنازعہ کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے کام کریں۔ دعا ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ آخرکار اپنے مصائب کا خاتمہ دیکھیں اور آخرکار وہ امن اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔جب ہم اس یومِ کشمیر کی یاد مناتے ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی اور حقِ خود ارادیت کی جدوجہد صرف پاکستان اور بھارت کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے حقوق کا احترام کیا جائے اور خطے میں امن و استحکام بحال ہو۔

چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں
موت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیں
ہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیں
چیخوں میں سسکیوں کی صدائیں سنتے ہیں..
برف پوش وادیوں میں سلگتی آہیں دیکھتے ہیں
چلو کشمیر چلتے ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں