تحریر: تنویرالاسلام (سابق چئیرمین متحدہ جہاد کونسل جموں کشمیر)
ریاست جموں و کشمیر دلکش قدرتی حسن اور جغرافیائی اہمیت کے سبب ”جنتِ نظیر” کہلاتی ہے حقیقت میں صدیوں پر محیط ظلم و جبر اور انسانی تکالیف کی وجہ سے ”دکھوں کی سر زمین” ہے جہاں لوگ مدت مدید سے اپنی بقاء اور حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں اور ان کی جدوجہد” مزاحمت اور استقامت” کی ایک روشن مثال بنی ہوئی ہے۔کشمیری مسلمانوں کی لازوال قربانیاں اور غیر متزلزل عزم اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنی عزت، وقار اور حق خودارادیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔کشمیری مسلمانوں کو پشت در پشت سیاسی محرومی، معاشی استحصال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا رہا ہے اس کے باوجود انہوں نے ہمیشہ اپنے تشخص اور اسلامی اقدار کو بچائے ر کھا ہے۔
کشمیری مسلمانوں پر منظم جبر کا آغاز 1819ء میں سکھ حکمرانی کے دور سے ہوا۔اس دور میں بھاری ٹیکسوں، مذہبی بغض و عناد، سماجی و قانونی استحصال اور ظلم و جبر نے مسلمانوں کو سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر بدحال کیا۔1846ء میں برطانوی سامراج نے معاہدہ امرتسر کے تحت کشمیر کو 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ کو فروخت کر دیا جس کے نتیجے میں کشمیر میں ظلم و جبر کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ڈوگرہ حکمرانی کے دوران کشمیری مسلمانوں کو ناقابلِ بیان مظالم، مذہبی پابندیوں، جبری مشقت (بیگار)، بھاری ٹیکسوں اور معاشی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔29 اپریل 1865 ء کو کشمیری شال بافوں نے ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف صدائے احتجاج بلندکی۔
اس احتجاج کے دوران 28 معصوم کاریگروں کو بے دردی سے شہید کردیا گیا۔ 21 جولائی 1924 ء کو سرینگر ریشم خانہ کے مزدوروں نے اجرتوں میں اضافے کے لیے پرامن احتجاج کیا جس کو ڈوگرہ حکمرانوں نے طاقت کے زور پر دبایا۔اس احتجاج کے دوران گولیوں کی بوچھاڑ سے 10 مزدور شہید اور 20 زخمی ہوگئے۔یہ مظاہرہ جنو بی ایشاء کی تاریخ میں مزدوروں کے حقوق کے لیے اپنی نوعیت کا پہلاواقعہ تھا جس کو بزور طاقت کچلا گیا۔ریاستی مسلمانوں نے اس ظلم کے خلاف 1930ء میں ایک موثر تحریک شروع کی۔ 13 جولائی 1931ء کو سرینگر کی سنٹرل جیل کے باہر مظاہرین پر اندھا دھند گولیاں چلائی گئی جس سے 21 معصوم مسلمان شہید کر دئے گئے۔اس سانحہ نے کشمیری عوام کی تحریک کو جلا بخشی اور اس تحریک کو برصغیر کے مسلمانوں کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی.
جس کے نتیجے میں پنجاب میں مقیم کشمیری مسلمانوں نے ”آل انڈیا مسلم کشمیر کمیٹی” کا قیام عمل میں لایا۔اس کمیٹی نے کشمیری مسلمانوں سے اظہاریکجہتی کے لیے 14 اگست 1931ء کو لاہور کے موچی دروازہ میں ڈاکٹر علامہ اقبال ؒکی صدارت میں ایک عظیم الشان جلسے کا انعقا د کیا۔اس دن کو ”یومِ کشمیر” کے طورپر منایا گیا اور یہ دن کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد آزادی میں تاریخی سنگ میل ثابت ہوا۔کشمیر کمیٹی کے خاتمے تک ہر سال 14 اگست کو یوم کشمیر کے طور منایا جاتا رہا۔کشمیری عوام کے حقوق اور حق حکمرانی کی تحریک اپنے عروج پر تھی جب برصغیر کے مسلمانوں نے قیام پاکستان کی منظم تحریک کا آغازکیا اور اس دوران قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے 1944ء میں کشمیر کا دورہ کیا۔کشمیری مسلمانوں نے علامہ اقبال ؒکے ملی نظریے کی تقلید کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کے ساتھ وحدت کا مظاہرہ کرکے تحریکِ پاکستان میں بھر پور شمولیت اختیار کی جو اس عزم کی عکاسی تھی کہ کشمیری اپنے مستقبل کو آزادی اور اسلام کے نام پر قائم ہونے والے مملکت پاکستان کے ساتھ وابستہ دیکھتے تھے۔
بدقسمتی سے برصغیر کی آزادی اور قیام پاکستان کے بعد برطانوی سامراج اور کانگریسی قیادت کی ملی بھگت کے سبب کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننے نہیں دیا گیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے ابتدا ء میں پاکستان کے ساتھ ‘ا’سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ” کیا مگر بعد میں بھارت سے الحاق کرلیا۔ 27 اکتوبر 1947ء کو بھارت نے اپنی فوجیں ریاست جموں کشمیر میں داخل کر کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔کشمیریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اور صوبہ سرحد کے قبائلی عوام کی مدد سے ریاست کے ایک حصے کو آزاد کرایا جو آج آزاد کشمیر کہلاتا ہے۔بھارت نے پاکستان پر دراندازی کا الزام لگا کر مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں پیش کیا جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے 5 جنوری 1949ء کو کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کے لیے ایک تاریخی قرارداد منظور کی جس میں آزادانہ استصوابِ رائے کے ذریعے کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا۔
تاہم بھارت نے آج تک ان قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کیا اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیالیکن جموں کشمیر کی غیور عوام نے حق خودارادیت کے حصول کے لئے سیاسی اور سفارتی جدوجہد جاری رکھی لیکن حق آزادی سے محروم رہے۔ تنگ آمدبہ جنگ آمد کے مصداق سال 1989ء میں مسلح جدوجہد کا آغاز کیاسال 1990 ء میں مقبوضہ کشمیر میں عسکری تحریک عروج پر پہنچی۔جب بھارتی مظالم میں شدت آگئی تو 5 فروری 1990 ء کو جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر مرحوم قاضی حسین احمد نے کشمیریوں کی حمایت میں ہڑتال کی اپیل کی جسے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد نواز شریف اور وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی مکمل حمایت حاصل ہوئی جب سے یہ دن ہر سال” یوم یکجہتی کشمیر “کے طور پر پاکستان میں جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس دن ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں، سیمینارز، اور مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر کی سنگینی سے آگاہ کیا جا سکے۔
اس دوران مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی مظالم کی تاریخ ایک لاکھ سے زائد شہداء، ہزاروں زخمی اور بے شمار نقل مکانی کرنے والے افراد کی قربانیوں اور کھربوں روپے کے املاک اور کاروباری نقصانات سے عبارت ہیں۔بھارت نے کشمیریوں کے جائز مطالبے حق خودارادیت دینے کے بجائے کشمیر کی داخلی خودمختاری سلب کرکے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو تقسیم کر کے بھارت میں ضم کردیا . مسلمانان جموں و کشمیر 5اگست 2019ء کے بعد بھارت کی پاکستان اور مسلم دشمنی، سخت گیر انتقامی پالسیوں اور امتیازی قانون سازی کی وجہ سے مذہبی آزادی، انسانی حقوق کی شدید پامالیوں، ثقافتی استحصال کے علاوہ معاشی، معاشرتی، سیاسی اور تعلیمی تنزلی کے شکار ہیں۔ بھارت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے مسئلہ کشمیر کو مزید گمبھیربنایا ہے جو بنیادی طور پر آزادی کشمیر، پاکستان کی سلامتی و استحکام اورہر پاکستانی کے امن و خوشحالی کا مسئلہ ہے۔
بھارتی حکومت کے ”ہندو توا نظریہ“ اور خطرناک منصوبوں کے پیش نظر جہاں آج کشمیری مسلمانوں کاتحفظ و بقا،اسلامی تشخص اور تحریک آزادیئ کشمیر کا تسلسل انتہائی مشکلات کا شکار ہے وہاں آزاد کشمیر کی سلامتی،پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات، سندھ طاس معاہدہ اور سی پیک کا منصوبہ بھی سنگین خطرات کے زد میں ہے۔ہندوتوا نظریے کی علمبردار بھارتی حکومت کے جارحانہ عزائم اور کشمیری مسلمانوں کو درپیش سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے محض بیانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات ناگزیر بن چکے ہیں۔کشمیریوں کے ساتھ حقیقی یکجہتی کا تقاضا ہے کہ رسمی تقاریب کے بجائے موثر حکمت عملی اپنا کر مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے، انسانی حقوق کی تنظیموں کو متحرک کرنے، کشمیری عوام کی معاشی بدحالی اور متاثرین تحریک کی بحالی کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی بقاء و ترقی کے لئے حکمت و دانائی سے دور جدید کے تقاضوں کے ہم آہنگ اقدامات کرنے ہوں گے اور دنیا کو باورکرا نا ہوگا کہ کشمیر اور پاکستان ملت واحدہ ہیں اور مسئلہ کشمیر کا عوامی امنگوں کے مطابق منصفانہ حل جنوبی ایشاء کی امن و ترقی کے لئے لازم و ملزوم ہے۔