“بابائے حریت شہید کشمیر مقبول بٹ شہید”

143

تحریر:نعیم الحسن نعیم
جب پنجرے توڑے جائیں گے، تو ہمارے خواب سچ ہوں گے، جب برف پہاڑوں پر سے پگھل جائے گی، تو ہمارے خواب سچ ہو جائیں گے (مقبول بٹ)آج کا دن یوم عزم نو کا دن ہے. آج مقبول بٹ شہید کا دن ہے وہ دن کہ جس دن دشمن کی ان کو مٹانے کی چاہت نے انکو امر کر دیا۔دشمن اپنی کوشش میں خود ناکام ہو گیا مقبول بٹ کو تو پھانسی کے تختے پہ چڑھا دیا مگر بھول گئےشہیدِ اعظم مقبول بٹ ایک فرد نہیں بلکہ ایک سوچ،ایک فکر، ایک نظریہ،ایک تحریک، اور ایک مکمل انقلاب کا نام ہے .جو انشاءاللہ آ کر رہےگا۔41 برس گزرنے کے باوجود مقبول بٹ شہید کا آج بھی لوگوں کے دلوں پہ راج ہے.

مقبول بٹ ہمارے دلوں میں زندہ ہے ہمارے نظریات میں زندہ ہے ہماری آزادی کی چاہ میں زندہ ہے. یہ عجب اتفاق ہے کہ فروری کے مہینے میں ہم سب اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے یومِ یکجہتی کشمیر بھی مناتے ہیں اور اِسی مہینے میں 41 برس قبل مقبوضہ کشمیر کے مقبول و معروف حریت پسند نوجوان رہنما مقبول بٹ اور 11 برس قبل افضل گورو دہلی کی بدنامِ زمانہ تہاڑ جیل میں پھانسی دے کر شہید کئے گئے، کشمیریوں کو اپنے پنجہ استبداد میں جکڑنے والوں نے 1984ء میں ایک ایسے گل سرسبد کو دار کی خشک ٹہنی پر وار کر شہادت کے سرخ سرمدی رنگ میں نہلا دیا، جس سے بسنت کا پیلا رنگ بھی مانند پڑ گیا اور سرسوں کے سبز اور پیلے پودوں نے بھی دار پہ کھنچے اس سربکف و سربلند گلاب کو بدلتے موسم کی سلامی دی مگر اس شہید کو جسے کشمیری شہید کشمیر مقبول بٹ کے نام سے پکارتے ہیں کی شہادت نے ظلم و ستم اور بے رحم موسم کے رخ سے نقاب الٹ دیا اور صرف 5 سال بعد 1989ء میں شہادتوں کے سرخ گلابوں کی ایسی فصل اُگی کہ آج پوری وادی کشمیر کے گلی کوچے آزادی کے نعروں سے گونج رہے ہیں۔

غاصب قوتیں پریشان ہیں جن کا خیال تھا کہ مقبول کی موت سے آزادی کا نعرہ دم توڑ دے گا، آج کشمیر کے چپے چپے پہ خزاں نہیں بہار کا رنگ غالب آچکا ہے، سرد ترین موسم میں بھی وہاں شہیدوں کا لہو گلاب بن کر مہک رہا ہے، زندان بنے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بچے، بوڑھے اور جوان، مرد و زن سب بھارتی افواج کے خلاف سینہ سپر ہو کر آزادی کی جنگ مقبول بٹ کے سنگ لڑنے کا عملی مظاہرہ کر رہے ہیں، ہر جوان مقبول بٹ کی شکل میں بھارتی سامراج کے سامنے کھڑا ہے، 10 لاکھ سے زیادہ بھارتی مسلح افواج نے وادی کشمیر کو مقتل اور زنداں بنا دیا ہے مگر وہ تمام تر ظلم و استبداد کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو سرد نہیں کر پائے اور کشمیری اپنے مقدس مادر وطن کے چپے چپے کی حرمت اور آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں یہ آزادی کی جنگ ایک لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کے لہو کا خراج لے چکی ہے۔

اقتدار کی کرسی کو لات مارنے والا مرد مجاہد جسے اپنے وطن کی وحدت و بقاء اور اہل ریاست کی خودداری کو بحال رکھنے کی پاداش میں عقوبت خانوں کی اذیت برداشت کرنا پڑی .جس مرد مومن نے ریاست و اہل ریاست کی محبت میں پھانسی کی رسی کو ہنس کر قبول کیا. شہید مقبول بٹ 18 فروری 1938 کو ضلع کپوڑا
کے ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا نام غلام قادر بٹ تھا، گیارہ سال کی عمر میں والدہ کی شفقت سے محروم ہوگئے، والد نے دوسری شادی کر لی اور یوں آغاز عمری سے ہی محرومیوں کی بھٹی میں یہ نوجوان کندن بننے لگا، 1971 ء میں بھارتی حکمرانوں نے ایک طیارے کے اغوا میں شہید مقبول بٹ کو بھی ملوث کر دیا اور پھر جب یہ نوجوان اپنے وطن پہنچا تو ایک بار پھر 1974ء میں اسے گرفتار کر لیا گیا، پھانسی کی گزشتہ سزا کی تلوار ابھی بھی لٹک رہی تھی کہ اسی دوران 6 فروری 1984 کو برمنگھم، برطانیہ میں ایک بھارتی سفارتکار کا قتل ہوگیا، بھارتی انتظامیہ نے جیل میں پڑے ہوئے اس نوجوان کو حسب سابق اس کا ماسٹر مائنڈ قراردے دیا او رتہاڑجیل نئی دہلی میں 11 فروری 1984ء کو اس مرد مجاہد کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا۔

ایک شہید مقبول بٹ لٹک گیا تو کیا ہوا کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحرپیدا، شہید کی ایک ایک بوند سے شہیدوں کی نسلیں جوان ہوئی ہیں اور آج استعمار کے خلاف تیسری نسل کا تسلسل ہے جو شہید مقبول بٹ کی تاریخ دہرا رہا ہے۔”سچ یہی ہے کہ میں نے مذہبی رجعتی عناصر، غلامی، سرمایہ دارانہ نظام، استحصال، بدعنوانی، ظلم اور منافقت کے خلاف بغاوت کی ہے۔ بھارتی حکمران کشمیر کو لمبے عرصے تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر نہیں رکھ سکیں گے۔ ہمارے لئے آزادی کے معنی صرف بیرونی قبضے کا خاتمہ نہیں ہے۔ ہمیں غربت، بھوک، جہالت، بیماری اور رجعتی عناصر سے آزادی درکار ہے۔ معاشی اور سماجی محرومی سے چھٹکارا حاصل کر کے ہم آزادی لے کر رہیں گے“ (مقبول بٹ شہید , لاہور ہائی کورٹ 1973ء)۔

یہ وہ آدرش تھے جن آدرشوں پر مقبول بٹ نے کبھی سودے بازی نہیں کی، کسی سامراجی ادارے کے لیے ایجنٹ کے طور کام کرتے محنت کشوں غریبوں کے لیے ٹسوے نہیں بہائے بلکہ اپنی زندگی جہد مسلسل میں گزار دی اور دنیا بھر کے محنت کش ساتھیوں اور انقلابیوں کے لیے اپنی زندگی کا نذرانہ دیتے ایک ہمت اور حوصلے کا استعارہ بن گیا۔
ھے لاکھ سلامی بٹ تم پر قرباں تمہارے پرچم پر
یہ کام تمہارا زندہ ہے مقبول ہمارا زندہ ہے
“مجھے کل پھانسی دے دی جاۓ گی اور مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے مجھے یقین ہے کہ کل میری قوم اس حقیقت سے آگاہ ہو گی جس کے لیے میں سالوں سے لڑ رہا ہوں اور جس کے لیے میں قربانی دے رہا ہوں”
( مقبول بٹ شہید )

مقبول بٹ شہید کو پھانسی لٹکا دیا گیا لیکن مقبول شہید کے نظریات کو اس وقت تک پھانسی پر نہیں لٹکایا جا سکتا جب تک سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی نا انصافی استحصال باقی ہے۔مقبول بٹ شہید کے عہد سے کئی زیادہ آج اس جبر، نا انصافی اور محکومی کے خلاف جدوجہد کی ضرورت ہے۔ آج سرمایہ دارانہ نظام تاریخ کے گہرے بحران میں شکار انسانی زندگی نگل رہا ہے اور مقبول بٹ شہید کی جدوجہد بھی اس خونریزی پر مبنی نظام کے خلاف تھی۔ جو جدوجہد محض کسی زمینی ٹکڑے کے بجائے وسیع تر انسانیت کی خوشحالی کی ضمانت تھی۔مقبول بٹ شہید کی جدوجہد ہر عہد کے انقلابیوں کے لیے حوصلہ اور شکتی کا باعث ہے اور ایک عظیم انقلابی کو بہترین خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک انقلاب ہی ہو سکتا ہے۔

اس استحصال، ناانصافی اور خونریزی کے خلاف محنت کشوں اور نوجوانوں کو منظم ہونا ہو گااور سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی مستقبل کی نسل انسانی کو بچانے کے ساتھ تمام انسانیت کو خراج عقیدت پیش کی جا سکتی ہے۔مقبول بٹ شہید کو آج عقیدت سے تو دیکھا جاتا ہے لیکن مقبول بٹ کی شخصیت کو مقبول بٹ کے نظریات سے الگ کر دیا گیا ہے۔ مقبول بٹ آزدی پسند تھا جس کی جدوجہد کو محض قوم پرستی قرار دے کر اس کی لہو رنگ عظیم جدوجہد کو محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔آپ کے آخری الفاظ تھے ”مجھے کل پھانسی دے دی جائے گی اور مجھے کوئی پچھتاوا نہیں۔ میں اپنے لوگوں سے محبت کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے لوگ اس سچائی اور حق کو جان جائیں گے جن کے لیے میں ان تمام سالوں میں لڑتا رہا اور جس کے لیے میں آج خود کو قربان کر رہا ہوں۔ “

مقبول بٹ کی لاش ان کے ورثاء کے حوالے کرنے سے بھارتی حکومت نے انکار کر دیا۔ چنانچہ جیل کے مسلمان قیدیوں نے انہیں وہیں جیل کے احاطے میں دفن کر دیا. کشمیر کی جدوجہد آزادی میں مقبول بٹ شہید کو سب سے اعلی و ارفع مقام حاصل ہے ۔ راه آزادی میں مقبول بٹ کی قربانی نے کشمیریوں کو نیا عزم و حوصلہ عطا کیا۔ بلاشبہ کشمیر کی نئی نسل میں مقبول بٹ کو جو عزت و اہمیت حاصل ہے وہ کسی دوسرے شخص کے حصے میں نہیں آئی نئی نسل مقبول بٹ کو جدوجہد آزادی کا ہیرو مانتی ہے ۔ مجھے کل پھانسی دے دی جاۓ گی اور مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے مجھے یقین ہے کہ کل میری قوم اس حقیقت سے آگاہ ہو گی جس کے لیے میں سالوں سے لڑ رہا ہوں اور جس کے لیے میں قربانی دے رہا ہوں (مقبول بٹ شہید) مقبول بٹ شہید نے خود کو پھانسی کے لیے آمادہ کر کے کشمیریوں کو دنیا میں شناخت دی.
انکی پہلی اور آخری محبت کشمیر تھی
سر محفل جو بولوں تو زمانے کو کھٹکتا ہوں
رہوں میں چپ تو اندر کی بغاوت مار دیتی ہے
اللہ سبحان تعالی آپ کے درجات بلند فرمائے. آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں