تحریر :سردار شعیب حیدری
میرے جذبات و احساسات اپنی جگہ پر ، پھر روایتی الفاظ بھی کہ کسی کے جانے سے زندگی کا گزر بسر محال ہے ، زندگی کی راہیں اور کسی حد تک اسکی سمت بعض دفعہ الگ ہو جایا کرتی ہے ، کچھ لوگوں کا کردار ذاتی اور مقامی ہوتا ہے کچھ کا معاشرتی اور قومی ہوتا ہے ، سردار منظور حسین خان کا کردار سماجی معاشرتی اور قومی درجے کا تھا ، بطور چیرمین پارلیمانی بورڈ انکے بہت سارے انٹرویوز جو انہوں نے امیدواروں سے کیے اسکا میں شاہد ہوں ، معاشرہ اور جماعت یا تحریک محروم تو آج بھی نہیں مگر ایک دور میں مخلصین کے پھریرے ہر سو لہراتے تھےسمع و طاعت کے ستارے اور مینار ہر جانب نظر آتے تھے تحریک کا پائے دان (پیڈسٹل) استمعال میں لاکر لوگ اپنی “ہٹی اور کھٹی”(دوکان اور کمائی) کا بندوبست نہیں کرتے تھے ، لوگ اخلاص کی تصویر ہوا کرتے تھے۔ سردار منظور حسین ان میں ایک تھے ، مخلصین و محسنین کی کمی اب بھی نہیں، ایسا ہوا تو ملک و معاشرہ موت کی نیند سو جائے گا۔

ان مخلصین و محسنین کی فہرست میں ایک ممتاز فرد سردار منظور حسین خان صاحب بھی تھے .جناب مختار مسعود نے بہت خوبصورتی سے شہدا،محسنین اور اہل جمال بارے آواز دوست میں کہا ہے کہ “پہلے گروہ کے لوگ شہید کہلاتے ہیں اور اس دوسرے گروہ میں جو لوگ شامل ہیں انھیں محسنین کہا جاتا ہے .اہل شہادت اور اور اہل احسان میں فرق صرف اتنا ہے کہ شہید دوسروں کے لیے جان دیتا ہے – اور محسن دوسروں کے لیے زندہ رہتا ہے .ایک کا صدقہ جان ہے اور دوسرے کا تحفہ زندگی .ایک سے ممکن وجود میں آتا ہے اور دوسرے سے اس وجود کو توانائی ملتی ہے .ان کے علاوہ ایک تیسرا گروہ بھی ہوتا ہے جو اس توانا وجود کو تابندگی بخشتا ہے .
جو لوگ اس آخری گروہ میں شامل ہوتے ہیں انھیں اہل جمال کہتے ہیں
زندگی کو ایک گروہ نے ممکن بنایا دوسرے نے توانا اور تیسرے نے تابندہ
جہاں یہ تینوں گروہ موجود ہوں وہاں زندگی موت کی دسترس سے محفوظ ہو جاتی ہے ، اور جس ملک یا عہد کو یہ گروہ میسر نہ آئیں اسے موت سے پہلے بھی کئی بار مرنا پڑتا ہے .آجکل صورتحال یہ ہے کہ ہر موڑ پر آپکو راہزن اور جیب تراش دندناتے پھرتے ملیں گے ،،کچھ نے پیش قیمت فرنگی ملبوسات زیب تن کر رکھے ہیں، اور گھومتی ہوئی کرسیوں پر براجمان ہیں، کچھ نے شیروانیاں واسکٹیں اور عمومی پہن رکھے ہیں، کچھ سبز رنگ کے چولے پہنتے ہیں، کچھ کے گلوں میں موتیوں کی مالائیں ہیں لیکن قدر سب میں مشترک ہے کہ وصول کرنا ہے ، اس سے البتہ فرق نہیں پڑتا کہ جائز ہے یا ناجائز ، حلال ہے یا حرام ، آجائے آتا رہے اور آتا ہی رہے یہ انکا اصول ہے ، اس میں نہ کسی ساتھی دوست کو نہ کسی رشتے دار کو نہ کسی پڑوسی کو نہ کسی جاننے چاہنے والے کو ، کوئی استثنی حاصل نہیں اس معاملے پر انصاف کیا جاتا ہے اور سب سے یکساں سلوک ہوتا ہے.
بندہ ناچیز چونکہ فکر معاش میں دیار غیر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے تو براہ راست سردار منظور صاحب سے رابطہ اس درجے پر قائم نہیں ہوتا تھا جیسا ریاست میں موجودگی میں ہوا کرتا تھا ، ہر وقت تشنگی رہتی تھی کہ رابطہ ہو ، فون پر البتہ مستقل رابطہ رہتا تھا جب کبھی بھی کوئی سیاسی اور نظریاتی الجھن ہوتی تو سیدھا سا آسان حل سردار منظور صاحب سے رابطہ ہی ہوتا تھا ،، پتہ نہیں کتنا وقت اور عرصہ گزر گیا اس تعلق کو اور ہر گزرتے دن یہ تعلق گہرا ہی ہوتا گیا ، موت کا ایک وقت مقرر ہے جس نے ہر حال میں بندے کو گھیر کر اس مقام پر لے جانا ہے جہاں اس کا وقت مقرر ہوتا ہے ، لیکن ایسے لوگوں کے جانے سے زندگی سے اعتبار ہی اٹھ جاتا ہے ، ساتھی دوستوں کے گلے شکوے شاید کم یا زیادہ ان سے ہوئے ہوں گے کیونکہ ہر ایک کی سوچ کا معیار الگ ہے لیکن میں نے ذاتی طور پر سردار منظور صاحب کو ہمیشہ بہت مثبت تعمیری اور ویژنری پایا ہے جنکے دل میں عامی کا درد تھا ، جنکی برادری اس علاقے میں رہنے والا ہر شخص تھا۔ مذاق کی حد تک بھی وہ برادری ازم اور قبیلائی تعصب کو درست نہ سمجھتے تھے۔
عوامی حقوق کے لیے وزرا تک سے میں نے انہیں لڑتے دیکھا،، میرے نظریاتی ساتھی دوست اس بات کے گواہ ہیں کہ بنگوئیں جنڈالہ کی حد تک سردار منظور حسین میری پسندیدہ ترین شخصیت تھے اور والد محترم کی وفات کے بعد اگر دل اتنا مغموم ، رنجیدہ اور کبیدہ خاطر ہوا تو وہ سردار منظور صاحب کی جدائی پر ہوا ،، میرے دل میں انکے لیے انکی زندگی میں ہی بڑا احترام بڑی قدر اور بڑی انسیت تھی ، ایسا ہر جگہ اور وقت انکی موجودگی میں محسوس ہوتا تھا کہ وہ سائبان کی سی حیثیت رکھتے تھے ،، ہر وقت خواہش اورکوشش ہوتی تھی کہ ان کیساتھ بیٹھا جائے، وہ گفتگو کرتے جائیں اور ہم سنتے جائیں ، سمجھانے کا انداز بہت سہل اور سادہ ہوتا تھا، بھبھر سے تاؤ بٹ کے سیاسی کارکنان سے نہ صرف واقفیت تھی تعلق تھا بلکہ انکے بڑوں تک سے تعلق تھا ، تقریبا سبھی سیاسی کارکن ریاست بھر میں انہیں عزت احترام دیتے تھے ،، بطور سیاسی، سماجی شخصیت آپ اعلیٰ کردار اور ظرف کے حامل تھے۔
وفا آپ کی شخصیت کا خاصا تھی، اپنے بچوں سے بھی چھوٹوں کی بات بھی توجہ سے سنتے تھے ، شاید اور لوگ بھی سنتے ہوں لیکن جس بردباری اور تحمل سے وہ اپنے اوپر ہوئی بیجا تنقید مسکراتے ہوئے برداشت کرتے تھے یہ انہی کا خاصا تھا ، اس تنقید جو اکثر بے بنیاد ہوتی تھی کو جواز بنا کر کبھی کسی سے کدروت نہیں پالی کبھی کسی سے دلی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا ، تعلق اور رشتہ نبھانا جانتے تھے تعلق کی نوعیت انفرادی ہو یا پھر سیاست کا وسیع میدان آپ نے وفا کا علم ہمیشہ بلند رکھا۔ ساری زندگی اپنے وسیع حلقۂ تعلق کو نبھاتے رہے، یہ ہماری کتنی بڑی خوش قسمتی تھی کہ ہمارے درمیان وہ موجود تھے ، لکھنے کو بہت کچھ ہے بڑی یادیں ان سے وابسطہ ہیں ، مجھے اس بات کا بے حد افسوس بھی ہے اور اپنی برادری سے شکوہ بھی کہ ہم سب سردار منظور صاحب کی اس طرح قدر و اہمیت نہ جان سکے جسکے وہ حقیقی معنوں میں حقدار تھے .
ان سے ہوئی اکثر ملاقاتوں کے بعد میں سوچتا رہتا تھا کہ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں ایسا بھی ظرف اور دل انسانوں کا ہوتا ہے، پھر ان سب خصوصیات کو کاپی کرنے کی کوشش میں رہتا تھا ، دو ہزار ایک کے انتخابات کے بعد جب سردار سیاب خالد صاحب مرحوم سپیکر اسمبلی منتخب ہوئے تھے اس انتخابی مہم کے دوران میں انکے بہت زیاہ قریب رہا تھا، سیاب صاحب مرحوم سے سیاسی اختلاف کے باوجود انہوں نے بھرپور کردار ادا کیا اور انکی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کیا ، اسکے بعد اس وقت کی انکی رہائش سیٹلائٹ ٹاؤن میں انکے برادر افتخار صاحب مرحوم و مغفور کی موجودگی میں ہم جملہ سیاسی کارکنان کی دعوت آج بھی میرے ذہن پر اسی طرح نقش ہے ،،پھر کھانے کے بعد مجاہد منزل میں جو اسلوب ہمارے دوستوں کا رہا اسکا ذکر یہاں مناسب نہیں ،، پہلی بار اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ کیوں ہم پسماندہ ہیں، سردار صغیر چغتائی صاحب کی سیاسی کامیابی اور سفر میں بھی سردار منظور صاحب کا کلیدی کردار رہا ، سردار صغیر چغتائی صاحب بھی اپنی مثال آپ تھے ، دونوں کا تعلق مثالی تھا او منظور صاحب صغیر صاحب کی جدائی پر بھی بہت مغموم تھے .
پچھلی چھٹی پر گاؤں سے واپس راولپنڈی ہم نے اکھٹے سفر کیا ، راستے میں بڑے اہم سیاسی اور نظریاتی موضوعات پر تبادلہ خیال ہوتا رہا ، اس سے پہلے بھی ایک بار ہمرا سردار صغیر چغتائی صاحب اور منظور صاحب سفر کیا تھا تو اسکی یاد تازہ ہوگئی ،، سردار منظور صاحب نے بطور خاص اس سفر کا ذکر کیا اور عزیز القدر مشیر حکومت احمد صغیر صاحب کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا جو انکا بڑا پن اور وہ خاص کردار تھا جو مجھے انکی شخصیت کا گرویدہ بنائے ہوا تھا ،، دوران سفر سردار منظور صاحب نے متعدد بار اس کا ذکر کیا کہ اب عمر ہو گئی ہے اور ہمارے جانے کا وقت ہوگیا ہے ، میں ہر بار انہیں روکتا اور ٹوکتا رہا کہ جناب ایسی باتیں تو مجھ جیسے کی حوصلہ شکنی کا باعث ہیں، ہمارے درمیان تیسرے دن ملاقات دوبارہ طے پائی ، میں نے انہیں کال کی تو وہ اس وقت سہنسہ کی طرف عازم سفر تھے ، کہنے لگے مجھے ذہن میں تھا کہ آپ سے ملاقات کرنی ہے.
لیکن میں واپسی پر پھر رابطہ کرو نگا تو خود جگہ اور مقام کا تعین کرینگے کہ کدھر ملنا ہے ، دوبارہ کوئی ہفتہ بعد انہوں نے کال کی تو میں ملتان تھا ، خیر جس دن مجھے واپس عازم سفر کویت ہونا تھا اسی شام اپنے مربی و استاد کی کال وصول ہوئی کہ میرے ایک عزیز نے نیا آشیانہ تعمیر کیا ہے اور اس میں دیگر لوگ بھی مدعو ہیں میری خواہش ہے کہ آپ بھی شامل ہوں ، معذر اس وجوہ پر کی کہ فکر معاش آڑے آ رہی ہے اور رات کو ہی مسافر پرواز کر جائیگا ، آج سوچتا ہوں کہ کاش واپسی ان سے ملاقات سے مشروط کر لیتا ، خیر سب نصیب کی بات ہے ، دنیا تو ہے ہی حادثات کے مجموعے کا نام ، پاکستان کی موجودہ سیاسی اور نظریاتی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہمارا اکثر رہتا ، عمومی طور انہیں میرے خیالات سے اور مجھے انکی فکر سے اتفاق ہی رہتا ، مذہبی اور سیاسی کے علاوہ مسلکی طور بھی ہم آہنگی تھی ، مجھے تو خیر سے معلوم تھا لیکن انہیں بہت عرصے بعد پتہ چلا کہ میں مسلک میں بھی انکا ہی ہم خیال ہوں ، اگرچہ انہی کی طرح ، انہی کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اسکا نہ کبھی پرچار کیا اور نہ اس بنیاد پر کبھی کسی اور مسلک کی بابت کوئی اختلافی خیال ذہن میں آیا .
ایک بڑی معروف سیاسی شخصیت کی بابت انکا تبصرہ بھی ایک سند کی حیثیت رکھتا تھا کہ کسی بھی انسان پر پڑی افتاد سے لطف اندوز ہونا دراصل انسانیت کی نفی ہے ، میں نے جب عرض کی کہ اگر ایسا ہوجائے تو یہ ہو جائیگا تاریخ بن جائیگی تاریخ لکھی جائیگی ، تو فرمانے لگے میرے عزیز یہ سب ہم اپنی آنکھوں کے سامنے بہت بار دیکھ چکے آپکو عجیب اس لیے لگ رہا ہے کہ آپ پہلی بار دیکھ رہے ہو ، سردار منظور صاحب پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے بس اس تحریر کا اختتام ان الفاظ پر – کچھ راہ عشق کی مستی تھی ، کچھ لوگ تھے ہم دیوانے سے ، اب شہر تیرا چھوڑ دیا ، دل خوب لگا ویرانے سے جو جان سے بھی پیارے تھے وہ لوگ نظر سے دور ہوئے ، ایک ٹھیس سی دل میں اٹھتی ہے اب یادوں کو دہرانے سے ، اے موت تو ٹھہر ذرا آخر میں انکو دیکھ تو لوں ، بات فقط ایک پل کی ہے انکار نہیں مر جانے سےکا وسیع میدان آپ نے وفا کا علم ہمیشہ بلند رکھا۔
ساری زندگی اپنے وسیع حلقۂ تعلق کو نبھاتے رہے، یہ ہماری کتنی بڑی خوش قسمتی تھی کہ ہمارے درمیان وہ موجود تھے ، لکھنے کو بہت کچھ ہے بڑی یادیں ان سے وابسطہ ہیں ، مجھے اس بات کا بے حد افسوس بھی ہے اور اپنی برادری سے شکوہ بھی کہ ہم سب سردار منظور صاحب کی اس طرح قدر و اہمیت نہ جان سکے جسکے وہ حقیقی معنوں میں حقدار تھے ،، ان سے ہوئی اکثر ملاقاتوں کے بعد میں سوچتا رہتا تھا کہ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں ایسا بھی ظرف اور دل انسانوں کا ہوتا ہے، پھر ان سب خصوصیات کو کاپی کرنے کی کوشش میں رہتا تھا ، دو ہزار ایک کے انتخابات کے بعد جب سردار سیاب خالد صاحب مرحوم سپیکر اسمبلی منتخب ہوئے تھے اس انتخابی مہم کے دوران میں انکے بہت زیاہ قریب رہا تھا، سیاب صاحب مرحوم سے سیاسی اختلاف کے باوجود انہوں نے بھرپور کردار ادا کیا اور انکی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کیا ، اسکے بعد اس وقت کی انکی رہائش سیٹلائٹ ٹاؤن میں انکے برادر افتخار صاحب مرحوم و مغفور کی موجودگی میں ہم جملہ سیاسی کارکنان کی دعوت آج بھی میرے ذہن پر اسی طرح نقش ہے ،،پھر کھانے کے بعد مجاہد منزل میں جو اسلوب ہمارے دوستوں کا رہا اسکا ذکر یہاں مناسب نہیں ،، پہلی بار اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ کیوں ہم پسماندہ ہیں، سردار صغیر چغتائی صاحب کی سیاسی کامیابی اور سفر میں بھی سردار منظور صاحب کا کلیدی کردار رہا ، سردار صغیر چغتائی صاحب بھی اپنی مثال آپ تھے ، دونوں کا تعلق مثالی تھا او منظور صاحب صغیر صاحب کی جدائی پر بھی بہت مغموم تھے.
پچھلی چھٹی پر گاؤں سے واپس راولپنڈی ہم نے اکھٹے سفر کیا ، راستے میں بڑے اہم سیاسی اور نظریاتی موضوعات پر تبادلہ خیال ہوتا رہا ، اس سے پہلے بھی ایک بار ہمرا سردار صغیر چغتائی صاحب اور منظور صاحب سفر کیا تھا تو اسکی یاد تازہ ہوگئی ،، سردار منظور صاحب نے بطور خاص اس سفر کا ذکر کیا اور عزیز القدر مشیر حکومت احمد صغیر صاحب کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا جو انکا بڑا پن اور وہ خاص کردار تھا جو مجھے انکی شخصیت کا گرویدہ بنائے ہوا تھا ،، دوران سفر سردار منظور صاحب نے متعدد بار اس کا ذکر کیا کہ اب عمر ہو گئی ہے اور ہمارے جانے کا وقت ہوگیا ہے ، میں ہر بار انہیں روکتا اور ٹوکتا رہا کہ جناب ایسی باتیں تو مجھ جیسے کی حوصلہ شکنی کا باعث ہیں، ہمارے درمیان تیسرے دن ملاقات دوبارہ طے پائی ، میں نے انہیں کال کی تو وہ اس وقت سہنسہ کی طرف عازم سفر تھے ، کہنے لگے مجھے ذہن میں تھا کہ آپ سے ملاقات کرنی ہے.
لیکن میں واپسی پر پھر رابطہ کرو نگا تو خود جگہ اور مقام کا تعین کرینگے کہ کدھر ملنا ہے ، دوبارہ کوئی ہفتہ بعد انہوں نے کال کی تو میں ملتان تھا ، خیر جس دن مجھے واپس عازم سفر کویت ہونا تھا اسی شام اپنے مربی و استاد کی کال وصول ہوئی کہ میرے ایک عزیز نے نیا آشیانہ تعمیر کیا ہے اور اس میں دیگر لوگ بھی مدعو ہیں میری خواہش ہے کہ آپ بھی شامل ہوں ، معذر اس وجوہ پر کی کہ فکر معاش آڑے آ رہی ہے اور رات کو ہی مسافر پرواز کر جائیگا ، آج سوچتا ہوں کہ کاش واپسی ان سے ملاقات سے مشروط کر لیتا ، خیر سب نصیب کی بات ہے ، دنیا تو ہے ہی حادثات کے مجموعے کا نام ، پاکستان کی موجودہ سیاسی اور نظریاتی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہمارا اکثر رہتا ، عمومی طور انہیں میرے خیالات سے اور مجھے انکی فکر سے اتفاق ہی رہتا ، مذہبی اور سیاسی کے علاوہ مسلکی طور بھی ہم آہنگی تھی ، مجھے تو خیر سے معلوم تھا لیکن انہیں بہت عرصے بعد پتہ چلا کہ میں مسلک میں بھی انکا ہی ہم خیال ہوں .
اگرچہ انہی کی طرح ، انہی کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اسکا نہ کبھی پرچار کیا اور نہ اس بنیاد پر کبھی کسی اور مسلک کی بابت کوئی اختلافی خیال ذہن میں آیا ، ایک بڑی معروف سیاسی شخصیت کی بابت انکا تبصرہ بھی ایک سند کی حیثیت رکھتا تھا کہ کسی بھی انسان پر پڑی افتاد سے لطف اندوز ہونا دراصل انسانیت کی نفی ہے ، میں نے جب عرض کی کہ اگر ایسا ہوجائے تو یہ ہو جائیگا تاریخ بن جائیگی تاریخ لکھی جائیگی ، تو فرمانے لگے میرے عزیز یہ سب ہم اپنی آنکھوں کے سامنے بہت بار دیکھ چکے آپکو عجیب اس لیے لگ رہا ہے کہ آپ پہلی بار دیکھ رہے ہو ، سردار منظور صاحب پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے بس اس تحریر کا اختتام ان الفاظ پر – کچھ راہ عشق کی مستی تھی ، کچھ لوگ تھے ہم دیوانے سے ، اب شہر تیرا چھوڑ دیا ، دل خوب لگا ویرانے سے جو جان سے بھی پیارے تھے وہ لوگ نظر سے دور ہوئے ، ایک ٹھیس سی دل میں اٹھتی ہے اب یادوں کو دہرانے سے ، اے موت تو ٹھہر ذرا آخر میں انکو دیکھ تو لوں ، بات فقط ایک پل کی ہے انکار نہیں مر جانے سےکا وسیع میدان آپ نے وفا کا علم ہمیشہ بلند رکھا۔ ساری زندگی اپنے وسیع حلقۂ تعلق کو نبھاتے رہے، یہ ہماری کتنی بڑی خوش قسمتی تھی کہ ہمارے درمیان وہ موجود تھے ، لکھنے کو بہت کچھ ہے بڑی یادیں ان سے وابسطہ ہیں ، مجھے اس بات کا بے حد افسوس بھی ہے اور اپنی برادری سے شکوہ بھی کہ ہم سب سردار منظور صاحب کی اس طرح قدر و اہمیت نہ جان سکے.
جسکے وہ حقیقی معنوں میں حقدار تھے ،، ان سے ہوئی اکثر ملاقاتوں کے بعد میں سوچتا رہتا تھا کہ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں ایسا بھی ظرف اور دل انسانوں کا ہوتا ہے، پھر ان سب خصوصیات کو کاپی کرنے کی کوشش میں رہتا تھا ، دو ہزار ایک کے انتخابات کے بعد جب سردار سیاب خالد صاحب مرحوم سپیکر اسمبلی منتخب ہوئے تھے اس انتخابی مہم کے دوران میں انکے بہت زیاہ قریب رہا تھا، سیاب صاحب مرحوم سے سیاسی اختلاف کے باوجود انہوں نے بھرپور کردار ادا کیا اور انکی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کیا ، اسکے بعد اس وقت کی انکی رہائش سیٹلائٹ ٹاؤن میں انکے برادر افتخار صاحب مرحوم و مغفور کی موجودگی میں ہم جملہ سیاسی کارکنان کی دعوت آج بھی میرے ذہن پر اسی طرح نقش ہے ،،پھر کھانے کے بعد مجاہد منزل میں جو اسلوب ہمارے دوستوں کا رہا اسکا ذکر یہاں مناسب نہیں ،، پہلی بار اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ کیوں ہم پسماندہ ہیں، سردار صغیر چغتائی صاحب کی سیاسی کامیابی اور سفر میں بھی سردار منظور صاحب کا کلیدی کردار رہا ، سردار صغیر چغتائی صاحب بھی اپنی مثال آپ تھے ، دونوں کا تعلق مثالی تھا او منظور صاحب صغیر صاحب کی جدائی پر بھی بہت مغموم تھے ،،
پچھلی چھٹی پر گاؤں سے واپس راولپنڈی ہم نے اکھٹے سفر کیا ، راستے میں بڑے اہم سیاسی اور نظریاتی موضوعات پر تبادلہ خیال ہوتا رہا ، اس سے پہلے بھی ایک بار ہمرا سردار صغیر چغتائی صاحب اور منظور صاحب سفر کیا تھا تو اسکی یاد تازہ ہوگئی ،، سردار منظور صاحب نے بطور خاص اس سفر کا ذکر کیا اور عزیز القدر مشیر حکومت احمد صغیر صاحب کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا جو انکا بڑا پن اور وہ خاص کردار تھا جو مجھے انکی شخصیت کا گرویدہ بنائے ہوا تھا ،، دوران سفر سردار منظور صاحب نے متعدد بار اس کا ذکر کیا کہ اب عمر ہو گئی ہے اور ہمارے جانے کا وقت ہوگیا ہے ، میں ہر بار انہیں روکتا اور ٹوکتا رہا کہ جناب ایسی باتیں تو مجھ جیسے کی حوصلہ شکنی کا باعث ہیں، ہمارے درمیان تیسرے دن ملاقات دوبارہ طے پائی ، میں نے انہیں کال کی تو وہ اس وقت سہنسہ کی طرف عازم سفر تھے ، کہنے لگے مجھے ذہن میں تھا کہ آپ سے ملاقات کرنی ہے لیکن میں واپسی پر پھر رابطہ کرو نگا تو خود جگہ اور مقام کا تعین کرینگے کہ کدھر ملنا ہے .
دوبارہ کوئی ہفتہ بعد انہوں نے کال کی تو میں ملتان تھا ، خیر جس دن مجھے واپس عازم سفر کویت ہونا تھا اسی شام اپنے مربی و استاد کی کال وصول ہوئی کہ میرے ایک عزیز نے نیا آشیانہ تعمیر کیا ہے اور اس میں دیگر لوگ بھی مدعو ہیں میری خواہش ہے کہ آپ بھی شامل ہوں ، معذر اس وجوہ پر کی کہ فکر معاش آڑے آ رہی ہے اور رات کو ہی مسافر پرواز کر جائیگا ، آج سوچتا ہوں کہ کاش واپسی ان سے ملاقات سے مشروط کر لیتا ، خیر سب نصیب کی بات ہے ، دنیا تو ہے ہی حادثات کے مجموعے کا نام ، پاکستان کی موجودہ سیاسی اور نظریاتی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہمارا اکثر رہتا ، عمومی طور انہیں میرے خیالات سے اور مجھے انکی فکر سے اتفاق ہی رہتا ، مذہبی اور سیاسی کے علاوہ مسلکی طور بھی ہم آہنگی تھی ، مجھے تو خیر سے معلوم تھا لیکن انہیں بہت عرصے بعد پتہ چلا کہ میں مسلک میں بھی انکا ہی ہم خیال ہوں ، اگرچہ انہی کی طرح ، انہی کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اسکا نہ کبھی پرچار کیا اور نہ اس بنیاد پر کبھی کسی اور مسلک کی بابت کوئی اختلافی خیال ذہن میں آیا ، ایک بڑی معروف سیاسی شخصیت کی بابت انکا تبصرہ بھی ایک سند کی حیثیت رکھتا تھا کہ کسی بھی انسان پر پڑی افتاد سے لطف اندوز ہونا دراصل انسانیت کی نفی ہے .
میں نے جب عرض کی کہ اگر ایسا ہوجائے تو یہ ہو جائیگا تاریخ بن جائیگی تاریخ لکھی جائیگی ، تو فرمانے لگے میرے عزیز یہ سب ہم اپنی آنکھوں کے سامنے بہت بار دیکھ چکے آپکو عجیب اس لیے لگ رہا ہے کہ آپ پہلی بار دیکھ رہے ہو ، سردار منظور صاحب پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے بس اس تحریر کا اختتام ان الفاظ پر کچھ راہ عشق کی مستی تھی ، کچھ لوگ تھے ہم دیوانے سے ، اب شہر تیرا چھوڑ دیا ، دل خوب لگا ویرانے سے جو جان سے بھی پیارے تھے وہ لوگ نظر سے دور ہوئے ، ایک ٹھیس سی دل میں اٹھتی ہے اب یادوں کو دہرانے سے ، اے موت تو ٹھہر ذرا آخر میں انکو دیکھ تو لوں ، بات فقط ایک پل کی ہے انکار نہیں مر جانے سے.