جان سے پیارے پاپا، آپ کبھی واپس نہیں آئیں گے

80

تحریر:قراۃالعین طاہر
یہ کیسا صدمہ ہے، یہ کیسی جدائی ہے، یہ کیسا اندھیرا ہے جو ہماری زندگی میں اتر آیا ہے؟ پاپا، آپ ہمیں یوں روتا چھوڑ کر کیوں چلے گئے؟ گھر کے در و دیوار سہمے ہوئے ہیں، ہر کمرہ ویران ہو چکا ہے۔ جہاں آپ کی ہنسی گونجتی تھی، وہاں اب سسکیوں کی آوازیں ہیں۔پاپا، آپ جب بھی گھر آتے تھے، ہمیں گلے لگاتے تھے، پیار کرتے تھے، ہنستے تھے، خوشیاں بکھیرتے تھے۔ مگر آج… آج دروازہ کھلتا بھی ہے تو لگتا ہے کہ آپ آنے والے ہیں، مگر یہ ہمارا وہم ہے۔ ہم دروازے کی طرف دوڑتے بھی ہیں، لیکن وہاں صرف خاموشی ہوتی ہے، درد بھری خاموشی۔پاپا، میری آنکھیں دروازے پر جمی ہیں، انتظار میں، امید میں، مگر آپ کا وہ قدموں کی چاپ اب کبھی سنائی نہیں دے گی۔ پپا، آپ نے کبھی دیر سے آنے پر بھی مجھے اکیلا محسوس نہیں ہونے دیا تھا، لیکن اب تو ایسا خلا ہے کہ سانس لینا مشکل لگتا ہے۔آپ کے جانے کے بعد گھر میں سب کچھ ویسا ہی ہے، مگر کچھ بھی پہلے جیسا نہیں۔ صوفہ وہی ہے، مگر اس پر بیٹھنے والا نہیں۔ دسترخوان وہی ہے، مگر اس پر آپ کے بغیر کھانے کا کوئی لطف نہیں۔ مما کے ہاتھ میں وہی چائے کا کپ ہے، مگر آنکھوں میں ایک گہری اداسی ہے۔ پپا، ہم سب بے جان ہو گئے ہیں، جیسے کوئی ہمیں اندر سے کھا گیا ہو۔فری دروازے کے پاس بیٹھی رہتی ہے، جیسے آپ کہیں سے آ جائیں گے۔ مبشر خاموش ہو چکا ہے، وہ جو ہر بات پر ہنستا تھا، اب آنکھیں جھکائے رکھتا ہے۔ مما سارا دن بس آسمان کی طرف دیکھتی رہتی ہیں، شاید آپ کو وہاں تلاش کر رہی ہیں۔

پپا، آپ نے ہمیں کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی، مگر اب آپ نے ہمیں اس دنیا کی سب سے بڑی محرومی دے دی—۔ آپ جانتے ہیں، پاپا، لوگ یتیم لفظ بہت آسانی سے بول دیتے ہیں، مگر جب یہ لفظ حقیقت میں زندگی پر لگتا ہے تو سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔پاپا، میں آج گھر سے نکلی، چھتر چوک پہنچی، وہی راستے، وہی جگہیں، مگر سب کچھ خالی خالی سا تھا۔ گاڑی میں بیٹھی تو پہلی بار ایسا محسوس ہوا جیسے کچھ بہت اہم پیچھے چھوٹ گیا ہو، جیسے دل کا کوئی حصہ کھو چکا ہو۔ پہلے جب بھی گھر سے نکلتی تھی، تو آپ کی کال آتی تھی، “عینی جی! پہنچ گئیں؟ سب ٹھیک ہے؟”آج فون سائلنٹ تھا، آج کوئی کال نہیں آئی، آج کوئی فکر نہیں تھی۔ پپا، یہ کیسی خاموشی ہے؟ یہ کیسی جدائی ہے؟یونیورسٹی میں سب کچھ معمول پر تھا، لوگ آ جا رہے تھے، باتیں کر رہے تھے، ہنس رہے تھے، مگر میری دنیا رک گئی تھی۔ مجھے ہر چیز بے معنی لگ رہی تھی۔ کیا کوئی اندازہ بھی کر سکتا ہے کہ میری دنیا اجڑ چکی ہے؟پاپا، آپ بار بار فیس کیوں پوچھتے تھے؟پپا، آپ کو یاد ہے، میرا سمسٹر اینڈ نہیں ہوا تھا اور آپ بار بار فیس کے بارے میں پوچھ رہے تھے؟ مجھے اس وقت سمجھ نہیں آئی تھی کہ آپ اتنے پریشان کیوں ہیں۔ اب لگتا ہے کہ آپ کو شاید کسی نہ کسی طرح معلوم ہو گیا تھا کہ آپ ہمیں چھوڑ کر جانے والے ہیں۔ آپ اس وقت ہماری فیس، ہمارے مستقبل، ہماری ذمہ داریوں کو لے کر فکرمند تھے، مگر ہم تو اس وقت کچھ بھی نہیں سمجھے تھے۔

پپا، اگر ہمیں ذرا سا بھی اندازہ ہوتا، تو ہم آپ کو پلک جھپکنے بھی نہ دیتے۔ ہم آپ کو مضبوطی سے تھام لیتے، آپ کو کہیں نہیں جانے دیتے، آپ کے قدموں سے لپٹ جاتے، روکتے، منت کرتے، لیکن پپا… آپ تو کسی کو کچھ کہنے کا موقع دیے بغیر چلے گئے۔مما، فری اور ہم بہن بھائی سب بکھر گئے ہیں .پپا، مما کی آنکھوں کی چمک کھو گئی ہے۔ وہ جو آپ کا انتظار کر کے دروازے پر کھڑی رہتی تھیں، اب خالی نظروں سے دروازے کو دیکھتی ہیں، مگر ان کی آنکھوں میں اب امید نہیں، صرف ویرانی ہے۔ فری ہر رات سسک کر سوتی ہے، وہ جو ہمیشہ آپ کو فکر مند کرتی تھی، اب خود سب سے زیادہ کمزور اور بے بس ہو گئی ہے۔پل پل آپکی یاد میں تڑپتی ہے.پاپا، ہم سب بھائی بہن بظاہر زندہ ہیں، لیکن اندر سے مر چکے ہیں۔ وہ ہنسی، وہ خوشی، وہ رونق سب ختم ہو چکی ہے۔ کوئی کچھ نہیں کہتا، مگر ہر ایک کی آنکھیں چیخ چیخ کر آپ کو پکار رہی ہیں۔پاپا، خواب میں ہی سہی، واپس آ جائیں .پپا، اگر آپ واقعی ہمیں چھوڑ کر جا چکے ہیں، تو ایک بار خواب میں ہی سہی، ہمیں گلے لگا لیں۔ ہمیں وہی پرانی محبت، وہی پرانا پیار، وہی پرانی شفقت پھر سے محسوس کرنے دیں۔پاپا، کیا جنت میں سب اچھا ہے؟ کیا وہاں بھی آپ ہمیں یاد کرتے ہیں؟ کیا وہاں آپ کو ہماری سسکیاں سنائی دیتی ہیں؟ پپا، ہم آپ کے بغیر نہیں جی سکتے، ہم ہر پل آپ کی یاد میں گھل رہے ہیں۔

یہ دنیا بے رنگ ہو گئی ہے، پپاپاپا، سب کہتے ہیں کہ زندگی چلتی رہتی ہے، وقت کسی کے لیے نہیں رکتا، زخم بھر جاتے ہیں۔ مگر ہمیں لگتا ہے کہ یہ سب جھوٹ ہے۔ وقت تو ٹھہر گیا ہے، ہمارے لیے تو سب کچھ رک چکا ہے۔
پاپا، آپ جب کہیں جاتے تھے، تو فری آپ کو کال کر کے پوچھتی تھی کہ آپ ٹھیک ہیں یا نہیں، دوا لی یا نہیں؟ اب فری کس کو کال کرے؟ اب وہ کس کی خیریت دریافت کرے؟ مبشر جو ہمیشہ آپ کے سائے میں خود کو دنیا کا سب سے مضبوط انسان تصور کرتا تھا اب بالکل مرجھا چکا ہے.پاپا، آپ نے ہمیشہ کہا تھا کہ بیٹیاں باپ کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہیں، مگر آپ کی بیٹی تو اب بالکل کمزور ہو گئی ہے۔ آپ کے بغیر زندگی ایک ایسی کتاب بن گئی ہے جس میں صرف درد لکھا ہے، صرف جدائی لکھی ہے۔پاپا، آپ کے بغیر ہم دنیا کے سب سے بڑے سائے سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ یتیمی صرف ایک لفظ نہیں ہے، یہ ایک ایسا زخم ہے جو ہر لمحہ ٹھیس دیتا ہے، جو ہر سانس کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔پپا، اگر کہیں سے، کسی بھی طرح، ہماری آواز آپ تک پہنچ رہی ہو، تو بس اتنا جان لیں کہ ہم آپ کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ ہمارا ہر دن آپ کے بغیر ادھورا ہے، ہر رات بے سکون ہے، ہر لمحہ بوجھل ہے۔پپا، بس ایک بار گلے لگا لیں، ایک بار “عینی جی!” کہہ کر پکار لیں، ورنہ یہ دنیا ہمارے لیے ایک بے جان قید خانہ بن گئی ہے، جہاں ہم ہر لمحہ تڑپ رہے ہیں، ہر پل مر رہے ہیں .

زندگی میں کبھی کبھار ایسے موڑ آتے ہیں کہ انسان اپنے آپ کو تنہا، بے بس اور اداس محسوس کرتا ہے۔ جب کوئی ایسا پیارا رشتہ اچانک سے ختم ہو جائے، تو دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ پاپا، آپ نے اپنی اچانک جدائی سے ہماری دنیا کو ایسے بدل دیا کہ ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ لمحے آئیں گے۔ آپ کی محبت، آپ کی شفقت اور آپ کی موجودگی ہمارے لیے وہ محفوظ پناہ گاہ تھی جس میں ہمیں سکون ملتا تھا۔ مگر اب وہ سایہ چُھٹ گیا ہے، اور ہماری زندگی اندھیروں میں ڈوب گئی ہے۔یاد آتا ہے وہ دن جب چھوٹی سی گلی میں ہم اپنی دوڑ بھاگ میں ہنستے کھیلتے تھے اور آپ کا ہنستا چہرہ ہماری خوشیوں کا مرکز ہوتا تھا۔ آپ کی آنکھوں میں ایک خاص چمک ہوتی تھی جو ہر دکھ کو دور کر دیتی تھی۔ وہ لمحات جب آپ ہمیں کہانیاں سناتے، پیار سے سر تھپتھپاتے اور ہر مسئلے کا حل بتاتے۔ آج وہ لمحے یاد آتے ہیں تو دل ٹھہر جاتا ہے، کیونکہ وہ خواب اب کبھی دوبارہ نہیں دہرایا جا سکتا۔ہر ایک یاد میں آپ کی موجودگی ہےوہ گرم جھپکی، وہ محبت بھرا گلے لگانا، وہ مسکراہٹ جس سے ہمیں یقین ہوتا تھا کہ ہم دنیا کے ہر درد سے محفوظ ہیں۔ مگر اب وہ لمحے، وہ یادیں ایک خاموشی میں تبدیل ہو چکی ہیں جس کا کوئی نعم البدل نہیں.آپ کی جدائی نے ہمیں ایسا توڑ دیا کہ ہر دن ایک نئی آزمائش بن گیا۔ رات کی تنہائی میں، جب ہم چپ چاپ بیٹھے ہوتے ہیں آنکھیں بار بار دروازے کی جانب دیکھتی ہیں ، تو دل کو بے انتہا درد ہوتا۔ آپ کے جانے کا ہر لمحہ ہمارے لیے ایک ناقابلِ برداشت صدمہ تھا جس کی گونج ہمارے دلوں میں بس چکی ہے۔
پاپا، گھر اب وہ گھر نہیں رہا جہاں آپ کی موجودگی سے زندگی کی رونقیں بکھرتی تھیں۔ صوفے کے کنارے وہ پرانا تکیہ اب بھی یاد دلاتا ہے کہ آپ کی سرسراہٹ کی گونج کیسے اس کمرے میں گونجتی تھی۔ ہر کونے میں وہی ماضی کی خوشبو بسی ہوئی ہے، مگر آپ کے بغیر وہ خوشبو اداس ہو چکی ہے۔

دیواریں بھی اب سکوت کا گیت گانے لگیں ہیں۔ کھڑکیوں سے جھلکتے ہوئے وہ دھندلے سایے، ہمارے آنسوؤں کی طرح بے زبان، بے حس محسوس ہوتے ہیں۔ ہر صبح کی پہلی کرن بھی اب وہ روشنی نہیں دیتی جس طرح کبھی آپ کے آنے سے ہوتی تھی۔ اب تو گھر کے ہر کونے میں ایک عجب سی ویرانی ہے، جو ہر گزرتے لمحے ہمارے دلوں کو چیرتی ہے۔مماں ، آپ کے جانے کے بعد ایک ایسی تنہائی میں مبتلا ہو گئی ہیں جس کا کوئی مداوا نہیں۔ ان کی آنکھوں میں وہ بے قراری، وہ امید کی لکیریں اب مدھم پڑ چکی ہیں۔ ہر شام جب وہ دروازے پر کھڑی ہو کر آپ کی واپسی کا انتظار کرتی ہیں، تو دل کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وقت ہی رک گیا ہو۔مماں کی ہر ادا میں، ہر نظر میں آپ کی یاد کی جھلک نظر آتی ہے۔ مماں کی دعاؤں میں آپ کی کمی ہے، ان کی نظروں میں آپ کے آنے کا اشتیاق، مگر وہ لمحہ کبھی نہیں آتا۔ ان کی اداسی، ان کی تنہائی ہمارے دلوں کو مزید بے چینی سے بھر دیتی ہے.پاپا، آپ کے جانے سے نہ صرف مماں بلکہ ہم سب بھائی بہن ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ہیں۔ فری، مبشر، مصباح، وقاص، آفاق بھائی صبیحہ اور رقیہ باجی ہر ایک کی زندگی میں آپ کا اثر تھا۔ اب ہم سب آپ کی کمی محسوس کرتے ہیں، ہر لمحہ آپ کی یاد میں آنکھیں ترس جاتی ہیں۔ہماری یتیمی صرف ایک لفظ نہیں، ایک ایسی حالت ہے جس میں ہماری روح بکھر چکی ہے۔ آپ کی موجودگی ہمارے لیے ایک حفاظت کا بندوبست تھی، اور آپ کے بغیر ہم خود کو اس دنیا میں بے سروسامان محسوس کرتے ہیں۔ آپ کے جانے کے بعد ہر ایک دن ایک نئے زخم کی طرح ہے، جو وقت کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ہم اپنے آپ سے یہ سوال بار بار کرتے ہیں کہ کیا ہم آپ کے بغیر زندہ رہ پائیں گے؟ کیا یہ بے یقینی کا عالم کبھی ختم ہوگا. جان سے پیارے پپا جب بھی ہم ماضی کی یادوں میں کھو جاتے ہیں، تو ہر ایک منظر آپ کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ وہ وقت جب آپ اپنے ہاتھ پکڑے ہمیں سکھاتے تھے کہ کیسے زندگی کے سنگین راستوں پر چلنا ہے، وہ لمحے آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہیں۔ آپ کی ہر بات میں محبت تھی، ہر نظر میں شفقت تھی۔

آج وہ محبت بھرا گلے لگانا، وہ پیار سے بھرا ہاتھ پکڑنا، وہ کہانیاں سنانا سب کچھ اب ماضی بن چکا ہے۔ ہر یاد ہمیں مزید تکلیف دیتی ہے۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ شاید یہ سب خواب تھا، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ آپ ہمیشہ کے لیے ہم سے رخصت ہو گئے ہیں۔ہر رات جب ہم آنکھیں بند کرتے ہیں، تو آپ کی یاد ہمیں جگا دیتی ہے۔ وہ آوازیں، وہ ہنسی، وہ باتیں سب کچھ اب ایک دُور کی یاد بن چکی ہیں۔ دل کو اُلجھن ہوتی ہے، اور آنکھوں سے بے ساختہ آنسو بہنے لگتے ہیں۔ ہر یاد میں درد کا ایک نیا پہلو ہے، ہر لمحہ آپ کی کمی کو محسوس کرتا ہے۔زندگی کے ایسے لمحے جب ہر چیز رکی ہوئی محسوس ہوتی ہے، اور دل کے ہر گوشے میں صرف آپ کی یاد بسی ہوتی ہے، وہ وقت کبھی نہیں بھولتا۔ جب بھی ہم اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتے ہیں، تو وہ لمحے یاد آتے ہیں جب آپ ہمیں قریب رکھتے تھے۔ اب ہر لمحہ ایک اداسی، ایک تنہائی کی کیفیت میں ڈوب چکا ہے۔رات کا سناٹا، چاندنی کی ٹھنڈی ہوا اور وہ خاموش فضائیں لیکن اب وہ سب کچھ بے رنگ ہو چکا ہے۔ ہم ہر رات آپ کے خواب دیکھتے ہیں، ہر گزرتا لمحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آپ کہاں ہیں، اور ہم کتنے تنہا رہ گئے ہیں۔ یہ خلش ہمارے دلوں میں ایسے گھر کر چکی ہے کہ ہر سانس کے ساتھ وہ درد اور بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ہمیں وہ دن یاد آتے ہیں جب آپ ہنستے ہوئے گھر آتے تھے اور ہمیں گلے لگا کر کہتے تھے، میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔” اب وہ وعدہ ٹوٹ چکا ہے، اور ہمارے لیے ہر دن ایک نئی آزمائش بن چکا ہے.پاپا، کبھی کبھی دل کو یہ امید ہوتی ہے کہ شاید یہ سب ایک خواب ہے اور ایک دن آپ خواب میں ہی سہی، واپس آ جائیں گے۔ ہم اپنے دل میں آپ کی واپسی کا انتظار کرتے ہیں، جیسے کسی نازک پھول کی خوشبو دوبارہ مہک جائے گی۔رات کی تنہائی میں، جب آنکھیں بند کرتی ہوں تو ایک دھندلی سی امید جگمگاتی ہے کہ شاید ایک دن آپ کی آواز سنائی دے گی، آپ کا لمس محسوس ہوگا، اور وہ محبت بھرے الفاظ”عینی جی”پھر سے گونج اٹھیں گے۔

یہ خواب مجھے زبردست امید دلاتا ہے، مگر حقیقت کے اندھیروں میں یہ امید بھی ٹوٹ گئی ہے۔ ہر دن جب آپ کی یاد دل کو جھنجھوڑتی ہے تو ایک نئی داستان جنم لے جاتی ہے، جو مجھے بتاتی ہے کہ ہم آپ کے بغیر کیسے جینا سیکھیں گے۔
پاپا، آپ کی جدائی کا اثر صرف ہمارے خاندان تک محدود نہیں رہا بلکہ ہمارے دوست، رشتہ دار اور جاننے والے سب اس صدمے کو محسوس کرنے لگے ہیں۔ وہ لوگ جو کبھی آپ کی محبت اور شفقت کی کہانیاں سناتے تھے، آج وہ خاموشی سے آپ کی یاد میں اداس نظر آتے ہیں۔محلے کی گلیوں میں، جہاں کبھی آپ کے ہنسنے کی گونج ہوتی تھی، آج وہی راستے ایک خاموشی کا عالم رکھتے ہیں۔پپا آپکے دوست اب آپ کے بارے میں بات کرنے سے بھی ڈرتے ہیں، کیونکہ ہر لفظ میں آپ کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔رشتہ دار جب ملتے ہیں تو آپ کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں، اور ان کی آنکھوں میں بھی وہی دکھ کے قطرے نظر آتے ہیں جو ہمارے دلوں میں بستے ہیں۔ یہ اجتماعی اداسی ایک ایسی زنجیر بن چکی ہے جو ہر ایک کو اپنے لپیٹ میں لے لیتی ہے، اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک درد چھپا ہوا ہے۔آپ کی محبت، پاپا، ایک ایسا تحفہ تھا جو ہمیں زندگی کے ہر کڑوے لمحے میں سہارا دیتا تھا۔ آپ کی شفقت اور پیار کی چھاؤں میں ہم نے پہلی بار یہ جانا کہ دنیا میں محبت کیا ہوتی ہے۔
آپ نے ہمیں سکھایا کہ زندگی میں چاہے کتنے ہی امتحان کیوں نہ آئیں، ہمیں ہمت نہ ہارنی چاہیے، ہمیں اپنے خوابوں کو جینے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔ آپ کی باتیں آہمارے دلوں میں زندہ ہیں پپا لیکن پاپا آپ کہیں نہیں ہیں اس بے ثبات دنیا میں۔
ہر ایک یاد ہمیں بتاتی ہے کہ آپ کے بغیر زندگی کتنی بے معنی ہے۔ آپ کی محبت وہ چراغ تھی جس نے ہمیں اندھیروں میں راستہ دکھایا۔ اور اب جب وہ چراغ بجھ چکا ہے، تو ہمیں وہ اندھیرا اتنا ہی گہرا محسوس ہوتا ہے کہ ہم کہیں بھی روشنی کی تلاش میں کھو جاتے ہیں.

پاپا، آپ کے جانے کا درد ایسا ہے کہ دل کے ہر گوشے میں ایک زخم بن گیا ہے جو کبھی بھرنے کا نام نہیں لیتا۔ ہر دن ایک نیا زخم کھلتا ہے، ہر رات ایک نئی داستان سنا دیتی ہے کہ کیسے ہم آپ کے بغیر زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ درد صرف ایک لمحے کا نہیں، بلکہ ہر گزرتے لمحے کا ہے۔ جب بھی ہم کوئی خوشی محسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ کی یاد ہمیں روک لیتی ہے۔ آپ کے بغیر یہ دنیا بے رنگ ہو گئی ہے، اور ہر خوشی ایک اداس یاد بن کر رہ گئی ہے۔
یہ زخم ہمارے دلوں پر ایسے نقش ہو گئے ہیں کہ ہر بار جب ہم دل کی گہرائیوں میں جھانکتے ہیں تو ہمیں وہی دکھ بھرے لمحے یاد آتے ہیں۔ یہ درد، یہ جدائی، یہ تنہائی—سب کچھ ایک ایسی داستان ہے جو وقت کے ساتھ اور بھی شدید ہوتی جا رہی ہے۔کبھی کبھی رات کی تنہائی میں جب ہم اپنی آنکھیں بند کرتے ہیں تو ایک لمحہ ایسا آتا ہے کہ جیسے وقت ٹھہر گیا ہو۔ وہ لمحہ جب آپ کی یادوں کا سمندر ہمارے دل پر چھا جاتا ہے اور ہم ایک پل کے لیے سب کچھ بھول جاتے ہیں۔
لیکن پھر ایک آہستہ سا سانس لینا، ایک ٹوٹا ہوا خواب ہمیں دوبارہ یاد دلاتا ہے کہ آپ کہیں نہیں ہیں۔ آنکھوں سے بہتے ہوئے وہ نمناک مناظر ہمیں بتاتے ہیں کہ ہر آنسو میں آپ کی کمی چھپی ہوئی ہے۔یہ مناظر ہمیں وہ وقت یاد دلاتے ہیں جب آپ ہمارے ساتھ ہوتے تھے، جب آپ کی ہنسی، آپ کی باتیں ہمارے دل کو سکون دیتیں تھیں۔ آج وہ سب کچھ صرف یادوں کا اکٹھا مجموعہ بن کر رہ گیا ہے، ایک ایسا مجموعہ جس کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ کبھی کبھار ہم خود کو سنبھال نہیں پاتے۔
رات جب سناٹے کا عالم ہوتا ہے، تب وہ دعائیں جو کبھی آپ کی موجودگی میں ہم نے دل میں کیا کرتی تھیں، اب ادھوری رہ جاتی ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ کہیں آپ کی روح کو سکون ملے، مگر ہمارے دل کی دھڑکن یہ کہتی ہے کہ ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔

ہر رات جب ہم بستر پر لیٹتے ہیں، تو دل یہ سوچتا ہے کہ شاید ایک خواب میں ہی سہی، آپ کا لمس ہمیں گرمائے گا، آپ کی آواز ہمیں بتائے گی کہ سب ٹھیک ہے۔ لیکن حقیقت ایک کڑوی حقیقت ہے—ایک حقیقت جس میں آپ کی کمی ہمارے دل کو مزید کرب دیتی ہے۔یہ دعائیں، یہ نظریں، یہ آنکھوں سے گرنے والے آنسو سب مل کر ایک ایسی داستان بنا دیتے ہیں جو ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔ آپ کے بغیر یہ دنیا ایک ایسی ویران جگہ ہے جہاں نہ ہنسی ہے نہ خوشی، صرف ایک مسلسل درد ہے جو ہر پل ہمیں اذیت دیتا ہے۔پاپا، آپ کے جانے کے بعد مستقبل کی بے یقینی ہمارے لیے ایک ایسی حقیقت بن گئی ہے جسے ہم قبول نہیں کر پاتے۔ ہر خواب، ہر امید اب ٹوٹ چکی ہے۔ آپ نے ہمیں سکھایا کہ مشکلات میں بھی ہمت نہ ہارنا چاہیے، مگر اب ہم وہ سبق کیسے سیکھیں جب ہمارے دل کی دھڑکن میں ہمیشہ آپ کی یاد بسی رہے؟ہر دن جب ہم مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں وہ روشنیاں نظر آتی تھیں جو آپ کی موجودگی میں ہوتی تھیں۔ اب وہ روشنیاں مدھم پڑ گئی ہیں، اور ہر راستہ ایک اندھیرے سے بھرپور کہانی سناتا ہے۔ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ زندگی کس موڑ پر ہمیں لے جائے گی۔ وہ راستے جہاں کبھی آپ کا ہاتھ تھام کر ہم نے چلنا سیکھا تھا، اب اتنے اجنبی لگتے ہیں کہ ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم خود کو کھو نہ بیٹھیں۔ مستقبل کی بے یقینی ہمارے لیے ایک زخم ہے جو وقت کے ساتھ اور بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے۔پاپا، آپ کی جدائی نے نہ صرف ہمارے خاندان کو، بلکہ پورے معاشرے کو ایک ایسی اداسی میں مبتلا کر دیا ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ دوست، رشتہ دار اور ہمسایہ ہر کوئی اس درد کو محسوس کرتا ہے، مگر کوئی اس کا مداوا نہیں کر سکتا۔

محلے کی گلیوں میں چلتے ہوئے ہر چہرے پر وہی افسردہ تاثرات ہوتے ہیں جو آپ کے جانے کے بعد ہمارے دلوں میں بس گئے ہیں۔ لوگ اکثر آپ کی یاد میں خاموش رہ جاتے ہیں، جیسے وہ بھی جانتے ہوں کہ آپ کی غیر موجودگی ایک ناقابلِ فراموش خلا پیدا کر گئی ہے۔یہ سماجی فضا، یہ اداسی، ہر طرف ایک ایسی خاموش فریاد ہے جو آپ کی کمی کو بیان کرتی ہے۔ ہر ملاقات میں، ہر گزرے لمحے میں آپ کا اثر نمایاں ہے، اور ہر کوئی اپنے اپنے طریقے سے اس درد کا اظہار کرتا ہے۔ لیکن وہ درد، وہ اداسی، ایک دوسرے سے کبھی پوری طرح ختم نہیں ہو پاتی۔آج بھی جب ہم خود سے بات کرتے ہیں تو دل سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کی یاد کو زندہ رکھیں گے، آپ کی محبت کو کبھی مٹنے نہیں دیں گے۔ ہم نے خود سے وعدہ کیا ہے کہ چاہے کتنی ہی اداسی کیوں نہ ہو، آپ کی یاد میں وہی محبت اور شفقت برقرار رکھیں گے جس سے آپ نے ہمیں نوازا تھا۔یہ وعدے ہمارے لیے ایک طرح کی تسلی کا ذریعہ ہیں، مگر ساتھ ہی ایک درد کا سمندر بھی ہیں۔ ہر وعدے میں یہ عہد ہوتا ہے کہ ایک دن شاید آپ کی واپسی ہو جائے گی، یا کم از کم آپ کی محبت کی خوشبو دوبارہ ہمارے آس پاس ہو جائے گی لیکن یہ وعدے، یہ امیدیں ہمیں اکثر خود کو برباد کرتے دیکھتی ہیں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ وقت کے ساتھ آپ کی کمی اور بھی محسوس ہوتی جا رہی ہے۔ دل کی بے قراری میں وہ وعدے ہمیں مزید تکلیف دیتے ہیں، اور ہم ہر دن ایک نئے صدمے کے ساتھ اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔پاپا، خواب اور حقیقت کے بیچ کا یہ متصادم سنگم آج بھی ہمارے دلوں پر چھایا ہوا ہے۔ خوابوں میں آپ کی واپسی کی جھلک دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت کی دنیا میں وہ صرف ایک اداس یاد بن کر رہ گئی ہے۔

ہم اکثر سوچتے ہیں کہ شاید یہ سب ایک پل بھر کے لیے ہو، کہ ایک دن آپ دوبارہ ہمارے درمیان ہونگے۔ مگر جب آنکھ کھلتی ہے تو وہ خواب ٹوٹ کر ٹکڑوں میں بکھر جاتا ہے، اور ہمیں وہی بے پناہ درد یاد دلاتا ہے۔یہ متصادم سنگم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی میں کبھی کبھی خواب اور حقیقت میں کوئی فرق نہیں رہتا، بلکہ وہ ایک دوسرے میں ڈوب جاتے ہیں۔ آپ کی یاد، آپ کا پیار، وہ سب کچھ جو کبھی ہمارے لیے امید کا منبع تھا، اب صرف ایک ایسے زخم کی طرح ہے جو ہر گزرتے لمحے ہمیں مزید تکلیف دیتا ہے۔ہر لمحہ جب ہم اپنی آنکھیں بند کرتے ہیں تو ایک ایسا منظر آنکھوں کے سامنے آتا ہے جس میں آپ کی محبت کی ہر جھلک موجود ہوتی ہے۔ وہ مناظر جہاں کبھی آپ کی ہنسی گونجتی تھی، اب صرف خاموشی کی صدا بن کر رہ گئے ہیں۔یہ درد کا ہر گوشہ ہمارے دل میں ایک نئی تلخی لے کر آتا ہے۔ کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہمارے دلوں میں آپ کی یاد ایک ایسی آگ بن کر جل رہی ہے جو کبھی بجھی نہیں۔یہ تلخی، یہ درد ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ آپ کے بغیر زندگی کتنی بے رنگ ہو گئی ہے۔ ہر ایک لمحہ، ہر ایک یاد ہمیں مزید قریب لے آتی ہے اس حقیقت کے کہ ہم آپ کے بغیر کیسے جینے کی ہمت کر پائیں گے.جان سے پیارے پپا ,آپ کی وہ محبت بھری باتیں، وہ نصیحتیں جو آپ نے ہمیں بچپن سے ہی سکھائیں، آج بھی ہمارے دلوں میں گونجتی ہیں۔ آپ نے ہمیشہ ہمیں یہ سمجھایا کہ زندگی چاہے کتنی بھی مشکل کیوں نہ ہو، ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔وہ الفاظ جو آپ نے محبت سے کہا کرتے تھے—”عینی جی، ہمیشہ یاد رکھنا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں”آج میرے دلوں میں اس طرح گونجتے ہیں جیسے کوئی پیغام ہو جو کبھی مٹ نہ سکے۔

ہم چاہتے ہیں کہ وہ دن دوبارہ آجائے جب آپ کی باتیں ہمارے لیے سکون کا باعث ہوتی تھیں، جب آپ کی موجودگی ہمارے لیے ایک چراغ کی مانند تھی جس نے ہمیں اندھیروں میں راستہ دکھایا تھالیکن حقیقت یہ ہے کہ اب وہ الفاظ صرف یادوں کا حصہ بن چکے ہیں، اور ان کی گونج ہمیں ہر گزرتے لمحے مزید درد دیتی ہے۔ وہ پیغام جو کبھی مٹ نہ سکے، آج بھی ہمارے دلوں میں ایک زخم کی طرح کھا رہی ہیں .پاپا، آپ کے بغیر زندگی کا ہر رنگ ماند پڑ گیا ہے۔ ہمارے دلوں میں ایک ایسی خالی جگہ ہے جسے بھرنے کی کوئی امید نہیں رہ گئی۔ ہر صبح جب آنکھیں کھلتی ہیں تو ایک عجب سی مایوسی چھا جاتی ہے کہ شاید یہ دن بھی وہی خالی لمحے لے کر آئے گا۔میں نے کئی بار سوچا کہ شاید وقت کے ساتھ یہ زخم بھر جائیں گے، شاید ہم دوبارہ خوشیاں محسوس کرنے لگیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ کی یاد میں یہ زخم دن بدن گہرا ہوتا جا رہا ہے۔کیا مستقبل میں کبھی وہ دن آئیں گے جب ہم اپنی اداسی کو بھلا کر دوبارہ ہنس سکیں گے؟ یا یہ زندگی ہمیشہ کے لیے ایک ایسی کہانی بن کر رہ جائے گی جس میں صرف درد اور جدائی کے رنگ ہوں گے؟یہ سوچ ہمیں ہر گزرتے لمحے مزید پھیلا دیتی ہے.پاپا، آپ کے بغیر وقت ایک ایسی گھڑی بن چکا ہے جس کی سوئیاں رک چکی ہیں، مگر ہم اب بھی اس کی ٹک ٹک سننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہر روز ایک نیا زخم، ہر لمحہ ایک نئی آزمائش، مگر سب سے تکلیف دہ وہ لمحہ ہے جب رات کی تنہائی میں اچانک دل دہلانے والا احساس ہوتا ہے—وہ خوفناک سچ جو ہر بار نئی شدت سے وار کرتا ہے:

آپ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔یہ جملہ دل میں ایک خالی پن پیدا کر دیتا ہے، جیسے کسی نے سینے میں ایک ایسا خلا بنا دیا ہو جس میں کوئی آواز، کوئی امید، کوئی دعا داخل نہیں ہو سکتی۔ہم آپ کی تصویر کو دیکھتے ہیں، مگر وہ تصویر ایک دھندلا سا عکس بن چکی ہے، جیسے وقت نے اسے مٹا دینا چاہا ہو۔ ہم آپ کے کپڑوں کو چھوتے ہیں، مگر وہ کپڑے سرد اور بے جان ہو چکے ہیں، جیسے ان میں وہ گرمی کبھی تھی ہی نہیں۔ ہم آپ کا نام پکارتے ہیں، مگر ہر بار جواب میں صرف گہری، بے رحم خاموشی گونجتی ہے—وہ خاموشی جو قبرستان کی مٹی سے بھی زیادہ بھاری ہے، جو رات کے اندھیرے سے بھی زیادہ گہری ہے، اور جو ہماری رگوں میں بہتے خون سے بھی زیادہ تلخ ہے۔پاپا، شاید آپ ہمیں دیکھ رہے ہوں، مگر ہم آپ کو کبھی نہیں دیکھ سکیں گے۔ شاید آپ کی روح ہمیں سن رہی ہو، مگر ہم آپ کی آواز کبھی نہیں سن سکیں گے۔ شاید آپ کہیں قریب ہوں، مگر ہم آپ کو کبھی چھو نہیں سکیں گے۔یہ حقیقت کہ آپ کبھی واپس نہیں آئیں گے .پپا، اگر ممکن ہو تو بس ایک بار خواب میں آ کر مجھے بتائیں کہ آپ جہاں بھی ہیں، خوش ہیں۔بس ایک بار میرے ماتھے پر وہی محبت بھرا بوسہ دے دیں، تاکہ مجھے لگے کہ میں ابھی بھی آپ کے سائے میں ہوں۔دنیا کہتی ہے کہ آپ چلے گئے ہیں، مگر میرے دل میں آپ ہمیشہ زندہ ہیں۔

آپ کی بیٹی
قراۃالعین طاہر
جو ہر لمحہ آپ کو یاد کرتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں