ماحولیاتی تبدیلی اور آزاد کشمیر میں آبی وسائل کے مربوط انتظام کی ضرورت

134

نقطہ نظر / سید ظہیر حسین گردیزی(سابق ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ آزاد کشمیر)
2018 میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں جنوبی افریقہ کے ایک ترقی یافتہ شہر “کیپ ٹا ؤن”میں پانی کے شدید بحران کو دکھایا گیا۔ مردو خواتین پانی کے برتن لیئے قطاروں میں کھڑے نظر آئے اور یہ کسی غریب پسماندہ علاقے کے لوگ نہ تھے بلکہ اس شہر کے پوش علاقہ کے متمول اور مہذب شہری ہیں جو پانی کی ایک بوتل حاصل کرنے کے لیےنہایت ڈسپلن کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق کیپ ٹاؤن شہر میں اپریل 2018سے پانی کی راشفشگ شروع کر دی گئی ہے۔ کیوں کے پانی کے دستیاب وسائل میں خطرناک حد تک کمی واقع ہو گئی ہے۔

” پاکستان کونسل برائے آبی وسائل” کی رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان میں صاف پانی کے موجودہ وسائل کو محفوظ اور بہتر نہ بنایا گیا تو 2025 تک یہ وسائل نا کا فی ہو جائیں گے۔دنیا کے اکثر حصوں میں صاف پانی کے وسائل میں اس طرح کی کمی تسلسل کے ساتھ واقع ہو رہی ہے۔جس کی ایک بڑی وجہ ” ماحولیاتی تبدیلی ” ہے۔ آذاد کشمیر کا خطہ، جس کے بارے میں عموماً یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہاں پانی کے وسائل کی کمی نہیں اور دریا ندی، نالے اور چشموں کی بہتات ہے ، بھی مذکورہ بالا ماحولیاتی تبدیلی سے گزشتہ ایک دھائی میں متاثر ہوئے ہیں۔

بالخصوص حالیہ طویل خشک سالی( اکتوبر2024ء تا فروری 2025ء) آذادکشمیر کے آبی وسائل پر بری طرح اثر انداز ہوئی جس کے باعث آبادی کو پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ۔ خاص کرکے وہ آبادی جو بالائی پہاڑی علاقوں میں مقیم ہے۔موسم اور جغرافیائی لحاظ سے آذاد کشمیر کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ شمالی حصہ( نیلم ویلی،مظفرآباد، جہلم ویلی، باغ، حویلی، پونچھ، سندہنوتی، کوٹلی میں نکیال کاعلاقہ) اور جنوبی حصہ(کوٹلی،میر پور اور بھمبر) ۔ تقریباً ٪80 آبادی دور دور تک انفرادی گھروں میں رہتی ہے۔ جسکا بیشتر حصہ پہاڑی علافوں میں رہ رہا ہے جبکہ بقیہ20 فیصد آبادی شہروں اور محلہ جات کی صورت میں مقیم ہے۔

لہذا اس پھیلی ہوئی آ بادی کو صاف پانی کی سہولت بہم پہچانے کے لیے ہر سطح پر اقدامات کیے جاتے رہے ہیں۔ بالخصوص 1980ء سے لے کر 2006ء تک بیرونی امداد سے دیہی آبادی کے لیے موثر انداذ میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے منصوبہ جات نہایت کامیابی سے مکمل کیے گئے۔ ان منصوبہ جات کے تحت دیہات کی سطح پر مقامی آبادی کی تعاون سے نسبتاً بڑی واٹر سپلائی سکیم ہا باقاعدہ ڈیزائننگ کے تحت تنصیب کی گئیں جن کی باعث اب تک یہ دیہات پانی کی بنیادی سہولیات سے بہت بہتر انداذ سے مستفید ہو رہے ہیں۔تاہم ان سکیم ہا کا ڈیزائن پیریڈ 10-15 سال سے زائد نہیں ہوتا لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اربوں روپے مالیت کی آب رسانی کی ایسی سکیم ہا کو مزید بہتر بنانے کے لیےفوری اقدامات کئے جائیں اور اس کے علاوہ مقامی سطح پر موجود آبی وسائل کی ترقی اور حفاظت کے انتظامات کیے جائیں۔

محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات آزاد کشمیر کے اعدادو شمار کے مطابق آزاد کشمیر میں اس وقت ٪68 دیہی اور ٪57 شہری آبادی کو پائپ لائن کے ذریعے صاف پانی کی سہولت میسر ہے۔ یعنی ٪32 دیھی اور ٪43 شہری آبادی کو اس وقت بھی کسی باقاعدہ نظام کے تحت پانی کی فراہمی نہیں کی جا رہی جس کے باعث یہ لوگ مقامی طورپر دستیاب قدرتی نالوں، چشموں اور کنوؤں یا بارشی پانی کے تالابوں سے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ بالخصوص ایسی آبادی کی خواتین کا بیشتر وقت پانی لانے صرف ہو جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف ان کی صحت پر برا اثر ڈالتا ہے بلکہ گھر اور بچوں کی دیکھ بھال بھی متاثر ہوتی ہے۔

آزاد کشمیر میں دو طرح کے آبی وسائل ہیں جن کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ surface water and ground water (زمینی اور زیر زمین) ، شمالی علاقوں( نیلم، مظفرآباد، جہلم ویلی،باغ، حویلی،پونچھ،سدھنوتی اور نکیال)میں قدرتی چشمے، دریا ، ندی ، نالےاور بارشی تالاب جبکہ جنوبی اضلاع میں انکے علاوہ زیر زمین پانی کے کنوئیں، ہینڈو پمپ اور ٹیوب ویل ہا کے ذریعے پانی کی ترسیل عمل میں لائی جاتی ہے۔ تاہم پونچھ اور مظفرآباد ڈويژن کے بعض علاقوں میں لوگ اپنے گھروں کی چھتوں سے بارش کا پانی بھی حاصل کرتے ہیں۔ زلزلہ2005ءکے بعد وفاقی ادارہ ایرا ERRA نے پائلٹ کے طور پر زلزلہ متاثرہ اضلاع کی 20 یونین کونسل ہا کے تقریباً 40،000 گھروں پر l Roof top rain water harvesting کا پروگرام متعارف کروایا جو بارش کے پانی سے فائدہ اثھانے کے لیے ان علاقوں میں ایک بہترین ذریعہ ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بارش اور برف تمام آبی وسائل کا بنیادی ذریعہ ہے اور بارش کا پانی بلواسطہ یا بلاواسطہ آبی وسائل کو قائم دائم رکھتا ہے۔ گزشتہ تیس سالوں کے دوران آزاد کشمیر میں ہونے والی بارشوں کے اعدادو شمار کے مطابق آزاد کشمیر کےشمالی حصوں میں اوسطاً 1500 ملی میٹر جبکہ جنوبی ا‌ضلاع میں 1000 ملی میٹر بارش ہوتی ہے جو کہ ایک بڑی نعمت ہے۔ تاھم یہ امر باعث تشویش ہے کہ بے ہنگم تعمیراتی کام، پہاڑی علاقوں میں بل کھاتی سڑکوں کی تعمیراور جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے باعث بارش کے پانی کا یہ بیش بہا خزانہ زیر زمین پانی کے زخائر میں اضافہ کرنے کے بجائے سیلابی ریلوں کی شکل میں نہ صرف ضائع ہو جاتا ہے بلکہ زمینی کٹاؤاور بعض اوقات املاک کے نقصان کا باعث بھی بنتا ہے۔

پائیدار ترقی کے بین الاقوامی اہداف Sustainable Development Goal No 6.1 کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ 2030ء تک تمام آبادی کو صاف پانی کی سہولت یکساں طور پر بہم پہنچائے۔ اسی طرح SDG GOALE 6-A کے اہداف کے مطابق2030 تک ترقی پزیر ممالک کو بین الاقوامی تعاون مہیا کیا جانا ہے تاکہ وہ سمندر کے پانی کو صاف کرنے(Desalination) ، موجودہ پانی کو محقوظ نے (water conservation) ، پانی کے بہتر اور موثر استعمال (Efficient use) ، گندے پانی(waste water) کو صاف کرنے اور دوبارہ استعمال میں لانے ( recycling) کے ضمن میں اپنے اداروں کی تکنیکی صلاحتوں میں اضافہ کر سکیں۔

بحالات بالا اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ آذادکشمیر کی لئیے ایک موثر اور دیر پا حکمت عملی وضع کی جائے جس کے تحت موسمی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئےاقدامات اٹھائے جائیں۔ آبی وسائل کے بہتر استعمال اور انتظام کیلئے اس طرح کی مربوط حکمت عملی کے تحت بزیل اقدامات شامل کیے جا سکتے ہیں۔

مرحلہ اول:
1۔ شمالی اضلاع اور دیگر ایسی جگہوں پر جہاں مناسب ہو گھروں کی چھتوں سے پانی حاصل کیا جانا (Roof top rain water harvesting۔
2۔ محلہ اور گاؤں کی سطح پر بارش کے پانی کے تالابوں کی بحالی وتعمیر۔
( water conservation ponds)
3۔ ندی نالوں کے ساتھ ساتھ پانی جمع کرنے کیلئے نسبتاً بڑے تالابوں کی تعمیر۔
4۔ جن آبادیوں کو ابھی تک پائپ کے ذریعے صاف پانی کی سہولت نہیں دی جا سکی وہاں باقاعدہ واٹر سپلائی ہا کی فراہمی۔
5۔ پہلے سے تنصیب شدہ واٹر سپلائی سکیموں کی بہترگی اور توسیع کے اقدامات۔
6۔ عوامی سطح کی موئثر آگاہی مہم کا اجراء جس کے تحت بذیل امور کو اجاگر کیا جایے؛
I۔ پانی کے مسائل اور انکے حل۔
II۔ بارش اور ندی نالوں کے پانی کو جمع کرنا تاکہ خشک سالی کے دوران کا آسکے۔
III۔ پینے کے پانی کی کوالٹی کے مسائل اور انکا حل ۔-IV
حفظان صحت اور صفائی کی ترویج۔( Hygiene and sanitation promotion)

مرحلہ دوئم:
باقاعدہ تحقیق اور سروے کے بعد آذاد کشمیر بھر میں مناسب جگہوں پر درمیانے سائز کے ڈیموں کی تعمیر۔
امید واثق ہے کہ حکومتی کمیٹی بہت جلد ایک مؤثر حکمت عملی مرتب کرتے ہوئے ما لی و ما دی وسائل مہیہ کرنے کی تجا ویز دے گی جو خط میں پانی کے مسائل کے دیر پا حل کے لیے سنگ میل ثابت ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں