پہلگام واقعہ،ظلم اب تہذیب بن گیا

37

تلاش/ سید خالد گردیزی
مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاح بھی محفوظ نہ رہے۔اس خطے میں جنگی حالات معمول ہیں اور سچ بولنا جرم ہے۔انڈیا نے چونکہ آزادانہ رپورٹنگ نا ممکن بنائی ہوئی ہے۔مقامی صحافت پر قدغن ہے۔انٹرنیٹ معطل ہے۔انڈین میڈیا اکثر نیوز روم کو “وار روم” بنا دیتا ہے۔حالیہ واقعہ میں بھی بغیر ثبوتوں کے “پاکستان کا ہاتھ “بیانیہ بنا دیا گیا جس کے باعث حقائق مسخ ہو جاتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق نا معلوم افراد کے ایک حملے میں کم از کم 26 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ایک ذمہ دار ملک کی حثیت سے پاکستان نے اس واقعہ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ نامعلوم حملہ آوروں نے ایک سیاحتی گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی اور آسانی سے فرار ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ 8 لاکھ سے زائد فوجی اہلکاروں کی موجودگی میں ایسا حملہ کیسے ممکن ہوا؟

بھاری بھر کم سیکوریٹی کے حصار میں یہ حملہ آور بچ نکلے ہیں تو پھر یہ انٹیلیجنس کی ناکامی نہیں بلکہ انٹیلیجنس کی شاطرانہ چال ہو سکتی ہے۔یہ سوال کیوں نہ ہو کہ کیا یہ صرف ایک “واقعہ” ہے یا پھر انڈیا کی سٹیبلمشنٹ کے اسکرپٹ میں لال رنگ بھرا گیا ہے؟انڈیا کے ماضی کے پردوں میں چھپے فالس فلیگ آپریشنز کا جائزہ لیا جائے تو بیشک یہ واقعہ دو گروپوں کی آپسی دشمنی ہی کیوں نہ ہو لیکن یہ پہلا موقع نہیں جب کسی واقعے کو ٹول بنا کر کشمیریوں پر جبر کی راہ تلاشی جا رہی ہو۔قبل ازیں پلوامہ حملہ (2019) میں 40 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد فوری طور پر پاکستان پر الزام لیکن بعد میں حقائق تضادات سے بھرے نکلے۔

کٹھوعہ اجتماعی زیادتی (2018) کیس میں
آٹھ سالہ بچی درندگی کا نشانہ بنا کر مذہبی شناخت کے باعث مقامی مسلمانوں کو رگڑا گیا۔ 2016 میں ایک نوجوان حریت پسند برہان وانی کی شہادت نے پوری وادی کو جلا دیا لیکن بھارتی میڈیا نے اسے “دہشت گرد” قرار دے کر ریاستی بیانیہ پروان چڑھایا۔

ان تمام واقعات میں مشترک بات یہ ہے کہ میڈیا پر کنٹرول ، انٹرنیٹ کی معطلی اور آزاد ذرائع تک رسائی کا خاتمہ تاکہ سچ کو منظرِ عام پر آنے سے روک کر من پسند بیانیہ گھڑا جا سکے.اب 2025 میں پہلگام واقعہ پر واضع نظر آ رہا ہے کہ انڈیا مقامی معیشت کو کچلنے کیلئے سیاحت کو دہشت میں بدلنے کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے اور بیانیہ بنا کر ایک تیر سے تین شکار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جن میں ایک بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو کشمیریوں کی حمایت سے پیچھے دھکیلنا بھی ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ انڈین سپانسرڈ عسکری گروپ یہ ذمہ داری قبول کر کے الزامات کی راہ ہموار کر دے۔

اگر مستقبل میں غیر مقامی افراد کو نشانہ بنایا جائے اور الزام مقامی کشمیریوں پر ڈال دیا جائے تو کیا یہ نیا بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش تو نہیں جس کے تحت کشمیریوں پر ظلم کا جواز پیدا کیا جائے؟زمینوں پر قبضے کے منصوبے کو تیز کیا جائے۔

عالمی میڈیا میں کشمیریوں کو بطور دہشت گرد پیش کیا جائے؟
حالیہ بھارتی انتخابات میں کشمیری عوام نے مودی کی کشمیر پالیسی کو ووٹ کے ذریعے مسترد کیا۔ حریت قیادت قید میں ہے۔صحافی، اساتذہ اور عام شہری دباؤ میں ہیں۔یوں کہہ لیجیئے کہ مقبوضہ کشمیر ایک پنجرہ ہے جہاں انسان بند ہیں اور انڈیا اس بھیڑیئے کی طرح ہے جو شکار کے بہانے ڈھونڈتا رہتا ہے۔

اگر عالمی برادری، انسانی حقوق کے اداروں اور صحافتی تنظیموں نے اب بھی راہ نہ لی تو پھر سیاحوں کیصورت میں سچ کو گولیوں سے بھونا جاتا رہے گا اور پھر جب سچ دفن ہو جائے تو ظلم ایک تہذیب بن جاتا ہے تاہم یاد رہے کہ آوازیں مار دی جائیں تو ان کی چیخیں ہمیشہ کانوں کو پھاڑتی رہتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں