پروپیگنڈے کے منہ زور گھوڑے پر سوار بھارتی میڈیا

33

تحریر: خالد گردیزی
جنوبی ایشیا کا خطہ پہلے ہی کشیدگی، بداعتمادی اور سیاسی عدم توازن کا شکار ہے۔ ایسے میں اگر میڈیا کا کردار آگ بجھانے کی بجائے اسے بھڑکانے کا ہو جائے تو سوال صرف پیشہ ورانہ اخلاقیات کا نہیں رہتا، بلکہ یہ خطے کے امن، انسانی حقوق اور سچائی کی بقا کا سوال بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے بھارتی میڈیا نے پچھلے چند سالوں میں یہی طرز عمل اختیار کیا ہے—بغیر تحقیق کے الزام تراشی، واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، اور ہر ممکن طریقے سے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی کوشش۔

پروپیگنڈا اس وقت خطرناک حد تک زہریلا ہو جاتا ہے جب وہ بغیر کسی ثبوت اور تحقیق کے پھیلایا جائے۔ بھارتی میڈیا کی بڑی اکثریت اب اسی روش پر گامزن ہے، جہاں خبر کے بجائے بیانیہ بیچا جا رہا ہے، اور سچ کی جگہ سرکاری مفاد کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ یہ صرف صحافت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں بلکہ اجتماعی دانش کے ساتھ ایک خطرناک مذاق ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے بھارت میں صحافت کی آڑ میں ایک خاص سیاسی ایجنڈے کو تھوپنے کی مہم جاری ہے۔ کشمیر میں کوئی واقعہ ہو یا کسی نوجوان کی گرفتاری، پہلا ردعمل ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ الزام پاکستان پر دھرا جائے، بغیر یہ دیکھے کہ زمینی حقائق کیا ہیں، واقعات کی نوعیت کیا ہے، اور حقائق کیا کہتے ہیں۔

یہی نہیں، ہر کشمیری کو مشکوک نظروں سے دیکھنا، ہر مظاہرے کو ملک دشمنی قرار دینا، اور ہر نعرے کو غداری سے تعبیر کرنا، دراصل ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کا مقصد کشمیری عوام کو دہشت گرد، پاکستان کو سازشی اور ہر سچ بولنے والے کو باغی ثابت کرنا ہے۔حیرت اس بات پر ہے کہ میڈیا، جو کبھی جمہوریت کا چوتھا ستون سمجھا جاتا تھا، آج طاقتور اشرافیہ کا ہتھیار بن چکا ہے۔ ایسی صحافت جو سوال کرنے سے گھبرائے، جو صرف حکم بجا لانے پر تیار ہو، اور جو صرف مخصوص حلقوں کو خوش کرنے کے لیے رپورٹنگ کرے، وہ صحافت نہیں، پروپیگنڈا ہے۔

دنیا کے سنجیدہ حلقے اور خود بھارت کے باشعور عوام اب اس گمراہ کن رپورٹنگ سے اکتا چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہزاروں آوازیں روزانہ ان “گودی چینلز” کی جانبداری اور جھوٹ پر انگلی اٹھاتی ہیں۔ افسوس کہ یہ آوازیں مین اسٹریم میڈیا میں جگہ نہیں پاتیں، کیونکہ سچ سننے سے زیادہ سچ دبانا اب وہاں معمول بن چکا ہے۔یہ صرف کشمیر یا پاکستان کا معاملہ نہیں۔ یہ انسانی حقوق، آزادیِ اظہار اور غیرجانبدار رپورٹنگ کا مسئلہ ہے۔ اگر عالمی ادارے اس روش پر خاموش رہے تو کل یہ زہر دوسرے خطوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔ عالمی صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں کو چاہیے کہ وہ اس جھوٹ پر مبنی صحافت کا نوٹس لیں جو نہ صرف کشمیری عوام کے خلاف نفرت کو بڑھا رہی ہے بلکہ خطے کے امن کو بھی داؤ پر لگا رہی ہے۔

اب وقت آ چکا ہے کہ صحافت اور پروپیگنڈے کے درمیان لکیر کھینچی جائے۔ جو ادارے سچ کی تلاش میں سنجیدہ ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر ان جھوٹے بیانیوں کا پردہ چاک کریں۔ صرف یہی نہیں، بلکہ ان آوازوں کو تقویت دیں جو ظلم کے خلاف، سچ کے ساتھ اور مظلوم کے حق میں کھڑی ہوتی ہیں۔کشمیر کی جدوجہد محض جغرافیہ کا سوال نہیں، یہ انسانوں کی زندگی، ان کے مستقبل اور ان کی شناخت کا مسئلہ ہے۔ ایسے میں میڈیا اگر صرف ایک فریق کا ترجمان بن جائے تو وہ مظلوم کی آواز چھیننے کا جرم کرتا ہے۔

پروپیگنڈا وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر تاریخ کے آئینے میں جھوٹ ہمیشہ بےنقاب ہوتا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب سچ بولنے والے پھر سے سر اٹھائیں گے اور جھوٹ کی چادر تار تار ہو جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں