ہلہ شیری

68

تحریر:سید افراز گردیزی
پہلگام واقعہ بھارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی طرف سے کرائی گئی دہشت گردی ہے تو اس کے رد عمل میں سب سے پہلے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ منسوخی کی بات کیوں کی گئی.جتنی سادگی سے یہ بیانیہ بنایا جا رہا بات اتنی سادہ نہیںں ہے کوئی تو ہے جس نے سکرپٹ تیار کیا تھا اور جب پہلگام واقعہ ہوا تو فوری طور پر اس طرح کا رد عمل دیا گیا حالانکہ پاک بھارت کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔چند سالوں کو چھوڑ کر ہمیشہ ہی معاملاتِ کبھی بھی اچھے پڑوسیوں والے نہیں رہے۔جنوبی ایشیاء کے امن میں ہمیشہ پاک بھارت تعلقات کو ہی رکاوٹ سمجھا جاتا رہا لیکن اس رکاوٹ کے خاتمے کے لیے جو قوتیں کردار ادا کر سکتی ہیں وہ خاموش ہی رہیں کیونکہ کشیدگی بڑھتی ہے تو کون سے ان کے لوگ مارے جاتے ہیں یا ان کی سرزمین پر آتش و آہن کی برسات ہوتی ہے۔
بھارتی اقدامات کے جواب میں پاکستان نے بھی فضائی حدود کی بندش سمیت ضروری فیصلے کرتے ہوئے بھارتی حکام کو آگاہ کر دیا ہے.

ایک بات یاد رہے کہ پاک بھارت تناؤ محض دو ملکوں کے درمیان کشیدگی نہیں بلکہ چھوٹی سے غلطی دو جوہری طاقت رکھنے والے ممالک کے درمیان کشیدگی ہے۔جوہری وار ہیڈز کو اگر دیکھا جائے تو بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو برتری ہے اور پاکستان جارح کی بجائے ابھی تک دفاعی پوزیشن پر کھڑا ہے۔اور جنگی میدان میں بھارت ماضی قریب میں ایک تلخ تجربے سے گزر چکا ہے ۔جب ان کے مایہ ناز پائیلٹ آزاد کشمیر کے عام شہریوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور فوجی جوانوں نے اس کی جاں بخشی کروائی تھی ۔خدانخواستہ یہ کوئی روایتی جنگ تو نہیں ہو گی کہ بھارت سرجیکل اسٹرائیک کے نام پر مرضی کے میدان کا انتخاب کرے گا اور نتائج بھی اس کی مرضی کے آئیں گے اور بھارت کے اندر پائی جانے والی داخلہ بے چینی ختم ہو جائے گی۔پہلگام واقعے کے بعد بھارت کے اندر رائے عامہ سے وہاں کے پالیسی سازوں کو بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا۔

جوہری طاقت کے حامل ممالک کے درمیان تنازعات اپنے ملکی مفادات کو لے کر پیدا ضرور ہوتے ہیں لیکن ان کے حل کے لیے ان کا رویہ ان کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ ایٹمی اثاثے رکھنے والے ملک روس کی مثال تو کل ہی کی ہے کہ اس نے اپنی بقا کے لیے یوکرائن کے حوالے سے کیا طرز عمل اختیار کیا ہے۔وہ قوتیں جو جنوبی ایشیاء کے اس خطے کو جنگ کے میدان کے طور پر دیکھ کر بھارت کو ہلہ شیری دے رہی ہیں وہ یوکرائنی صدر کی ملاقات کے منظر کو ذہن میں ضرور رکھیں کیونکہ ہلہ شیری دینے والوں کے مقاصد جب پورے ہوتے ہیں تو ان کے بدلنے میں دیر نہیں لگتی ۔
موجودہ حالات میں ،مودی،ڈاکٹرائن،کی بجائے بھارتی عوام کی سنجیدہ رائے کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔جنگ سے پہلے کی ہیجانی کیفیت کچھ دیر کے لیے تو لطف دیتی ہے لیکن ان کے مضمرات وہاں دیکھے جا سکتے ہیں جہاں نسلیں آج بھی اپاہج پیدا ہوتی ہیں۔

ہلہ شیری دینے والے ماضی میں کسی کے ساتھ رہے ہیں ہیں اور نہ آئندہ ان سے امیدیں لگا کر نسلوں کے مستقبل کو تباہی کریں۔پاکستان نے ایسے ماحول میں بھی سکھ یاتریوں سمیت دییگر کے حوالے سے بہترین رویئے کا مظاہرہ کیا ہے۔بھارتی جنگی جنون دو مملک کے لیے نہیں بلکہ خطے کے امن کو تہ و بالا کر سکتا ہے اور جب آخر میں نفع و نقصان کا شمار ہوا تو نقصان میں بھی اس کا پلڑا بھاری ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ ،ہلہ شیری ، دینے والو کے بیڑے بیچ پانی ہی گم ہو گر تماشائی بنے رہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں