حق ملکیت، ایک نئی تعبیر کی ضرورت

45

تحریر:راجہ سعود
آزاد کشمیر میں آج کل “حق ملکیت اور حق حکمرانی” کے عنوان سے ایکشن کمیٹی کی کانفرنسز عروج پر ہیں۔حق حکمرانی کی حد تک تو ٹھیک ہے اور قانونی اور ائینی طور پر ہمارے پاس ہی ہے لیکن عملا نہیں ہے جو ایک الگ بحث ہے۔حق ملکیت کے ضمن میں عوام کو روایتی ذرائع پیداوار زمین، پانی، اور جنگلات پر اپنے حق کے لیے بیدار کیا جا رہا ہے۔ بلاشبہ یہ جدوجہد اپنی جگہ اہم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ جب دنیا اپنی معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو بدل چکی ہے، ہم اب بھی پرانی زمین اور پرانی سوچ سے چمٹے کیوں ہوئے ہیں؟

دنیا نے پچھلی دو دہائیوں میں ایک بڑی تبدیلی دیکھی ہے، جسے “نالج اکانومی” (Knowledge Economy) کہا جاتا ہے۔نالج اکانومی میں معیشت کی بنیاد مادی وسائل پر نہیں، بلکہ علم، تحقیق، معلومات اور تخلیقی صلاحیت پر ہوتی ہے۔ یہاں دولت کی تخلیق زمین یا سونا نکالنے سے نہیں، بلکہ نئے آئیڈیاز، سافٹ ویئر، ڈیجیٹل مصنوعات اور تحقیقی ایجادات سے ہوتی ہے۔جس کے پاس زیادہ علم، مہارت اور تخلیق ہے، وہی آج دنیا پر حکمرانی کر رہا ہے۔
گوگل، ایپل، مائیکروسافٹ، اور ایمازون جیسی کمپنیاں اس کی زندہ مثال ہیں، جن کی اصل دولت علم اور تحقیق پر مبنی ہے، نہ کہ زمین یا معدنی وسائل پر۔
روایتی معیشت میں ترقی کا پیمانہ زمین کی ملکیت، زراعت کی پیداوار اور صنعتوں کی تعداد تھا۔

مگر جب انفارمیشن ٹیکنالوجی نے دنیا کو آپس میں جوڑا، اور جب علم کو ڈیجیٹل صورت میں تیز رفتاری سے پھیلایا جا سکتا تھا، تو معیشت کی بنیاد ہی تبدیل ہو گئی۔ اب ایک نوجوان اپنے موبائل سے ایک ایپ بنا کر لاکھوں ڈالر کما سکتا ہے، جبکہ کسی بڑی جاگیر کا مالک اپنی زمین کے باوجود اقتصادی دوڑ میں پیچھے رہ سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا نے ہائیڈرو پاور منصوبوں جیسے روایتی ترقیاتی تصورات پر بھی نظرثانی کی ہے۔آج ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کو بڑے ماحولیاتی خطرات میں شمار کیا جاتا ہے: دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ، آبی حیات کی تباہی، اور مقامی ماحولیات کی خرابی۔

ترقی یافتہ ممالک اب رینیوایبل انرجی — جیسے کہ شمسی توانائی (Solar Energy)، ہوائی توانائی (Wind Energy) اور بایو ماس — پر تیزی سے شفٹ ہو رہے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مستقبل ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی میں پوشیدہ ہے۔ہمارے ہاں سب سے اہم قدرتی اثاثہ جنگلات ہیں۔ مگر ہم انہیں بھی صرف آمدن کے ذرائع کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ ان کی اصل اہمیت ہمارے آکسیجن کے ذخائر، پانی کے توازن اور ماحولیاتی تحفظ سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر جنگلات کو صرف لکڑی اور چراگاہ کی نظر سے دیکھا گیا تو یہ خودکشی کے مترادف ہوگا۔ ہمیں جنگلات کو بقا کا ضامن سمجھ کر محفوظ بنانا ہوگا۔

لہٰذا، آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم “حق ملکیت” کے پرانے تصور سے آگے بڑھیں۔ملکیت اب زمین اور درختوں کی حد تک محدود نہیں رہی؛ آج علم، مہارت اور آئیڈیاز اصل اثاثے ہیں۔ ہمیں نوجوانوں کو نالج اکانومی کا حصہ بننے کے لیے تیار کرنا ہوگا . انہیں تعلیم، تربیت، تحقیق اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کی طرف راغب کرنا ہوگا۔ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی رسائی، جدید تعلیم کا فروغ، اور ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کا ماحول پیدا کرنا ہوگا تاکہ ہم عالمی معیشت کا فعال حصہ بن سکیں۔

اگر ہم نے اب بھی محض زمین اور جنگلات پر ملکیت کو ترقی سمجھا، تو ہم نہ صرف دنیا سے پیچھے رہ جائیں گے بلکہ اپنے ہی وسائل کی تباہی کا سامنا کریں گے۔ حق ملکیت اب زمین کی جڑوں میں نہیں، بلکہ علم کے افقوں میں پنہاں ہے۔ وقت کی پکار ہے کہ ہم اس نئی دنیا کو پہچانیں، اور اپنے لوگوں کو علم و تحقیق کی طرف موڑ کر ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں