آگاہی اور جدوجہد،یکم مئی مزدور کا عالمی دن

64

تحریر ؛سردار سیماب عباسی
یکم مئی کو دنیا بھر میں مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔عالمی دن منانے کا مقصد فقط یہ نہیں ہے کہ اس روز تعطیل کر دی جائے بلکہ یہ دن منانا اصل میں مزدوروں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے ۔محنت کشوں کی فلاح کیلئے ہر میثاق کی تجدید اور جدید تقاضوں کے مطابق ان میں اضافہ اور ترمیم کرنا ہے۔ یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن منایا جانا دراصل ان مزدوروں اور محنت کشوں کی یاد دلاتا ہے جنھوں نے 1886 میں اپنے مطالبات منوانے کیلئے خون کا نذرانہ دیا۔اس سانحے کا پس منظر دیکھیں تو یورپ اور امریکہ میں جب سرمایہ دارانہ نظام نے سر اٹھایا اسکا سارا ملبہ مزدوروں پر گرا۔مزدوروں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ان کے کام کے اوقات کار بھی طے نہیں تھے ۔12 سے 20 گھنٹے تک مزدوری عام ہو گئی تھی ۔محنت کشوں کی کوئی چھٹی نہیں تھی جس سے بہت سے مزدور بیمار ہو گئے ۔علاج کروانے کے بجائے مزدوروں کو نوکری سے نکال دیا گیا۔اپنی بھوک مٹانے کیلئے مزدور استحصال برداشت کرتا رہا ۔جب ظلم و ستم کے پہاڑ حد سے زیادہ ٹوٹے تو مزدوروں میں اپنے حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد پیدا ہوئی۔

یکم مئی 1886 کو شگاگو میں مزدوروں نے 8 گھنٹے کام کے دورانیے کے اوقات کار طے کرنے کیلئے ہڑتال کی۔پہلے اور دوسرے دن احتجاج پر امن رہا مگر 3 مئی کو مزدوروں کے اوپر فائرنگ کر دی گئی۔اس فائرنگ کے نتیجے میں 6 مزدور جان سے گئے اور کئ زخمی ہو گئے۔4 مئی کو بارش کے باوجود مزدور اکٹھے ہوئے اور اپنے مزدور رہنماؤں کی تقاریر سن رہے تھے۔رات کے وقت بم پھٹنے سے 6 پولیس کانسٹیبل ہلاک ہو گئے پولیس نے بم پھینکنے کا الزام مزدوروں پر لگا کر فائرنگ شروع کر دی جس سے سینکڑوں مزدور جان سے گئے۔اس زمانے میں مزدور احتجاج میں سفید جھنڈا استعمال کرتے تھے اور زخمی مزدور نے اپنی خون سے سرخ شرٹ لہرا کر سرخ جھنڈے کو مزدور کی جدوجہد کی علامت بنا دیا۔
اس سانحے کے دوسرے دن امریکہ اور یورپ کے مختلیف اخبارات نے مزدوروں کو نیگیٹو القابات چور،غدار اور ایجنٹ وغیرہ سے اخبارات کی سرخیوں میں شامل کیا۔پولیس کو سرمایہ داروں کی جانب سے مراعات حاصل تھی انھوں نے مزدوروں کے لیڈروں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔

21 جون 1886 کو مزدور رہنماؤں کے خلاف بم پھینکنے کے الزامات میں ٹرائل شروع ہوا۔تمام جانبدار جج مقرر کیے گئے اور اگست میں عدالت نے 7 مزدور راہنماؤں کو سزائے موت اور ایک راہنما کو عمر قید کی سزا سنائی۔مزدوروں نے سپریم کورٹ میں اپیل کی مگر سپریم کورٹ نے ان کی اپیل کو خارج کر دیا۔مزدور راہنماؤں کو سزائے موت اس لیے سنائی گئی تاکہ مزدور اپنے مطالبات سے دستبردار ہو جائیں۔ بالآخر 11 نومبر 1887 کو چار مزدور راہنماؤں کو پھانسی دے دی گئی۔1889 میں ریمنڈ لیون کی تجویز پر 1890 میں شکاگو کے مزدوروں کی یاد میں پہلی مرتبہ یکم مئی منایا گیا ۔شکاگو کے مزدوروں کی قربانیوں کی وجہ سے دنیا بھر کے مزدوروں نے مزدوری کا دورانیہ 8 گھنٹے ،لیبر یونین،ہفتہ وار چھٹی ،ملازمت کے تحفظ کا حق حاصل کیا۔ھمارے ہاں بھی ہر سال یکم مئی کو بیوروکریسی اور سیاسی اشرافیہ چھٹی کر کے بڑے جوش و خروش سے یہ دن سلیبریٹ کرتے ہیں.

مگر مزدور کے مسائل کے حل کا ان کے پاس کوئی منصوبہ نہیں۔ آج بھی ہمارا مزدور شام کو گھر جاتے ہوئے بچوں سے نظریں نہیں ملا پاتا۔ حکمران کلاس آج بھی عام آدمی کو حقوق دینے کیلئے تیار نہیں ۔یکم مئی کے حوالے سے عام آدمی سیاسی اشرافیہ سے یہی مطالبہ کرتا ھے کہ محنت کش طبقے کے مطالبات پر فی الفور عمل کیا جائے ورنہ محنت کش جب اپنے حقوق کیلئے اٹھتے ہیں تو پھانسی کے پھندے پر بھی نعرہ بلند کرتے ہیں ۔مزدور اتحاد زندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں