ماؤں سے بچوں کا بچھڑ جانا

37

تحریر:رابعہ حسن
ماؤں سے بچوں کا بچھڑ جانا
یا ماؤں سے بچوں کو چھین لیا جانا
قیامت نہیں تو کیا ہے؟
سسکتے بلکتے ماووں سے یوں لپٹ لپٹ جانے والے بچے جو لمحوں کو قید کرنا چاہتے ہیں۔جو دست قاتل سے ماووں کے آنچل میں اوجھل ہو جانا چاہتے ہیں۔یہ ظلم نہیں تو کیا ہے؟یہ قیامت نہیں تو کیا؟ماؤں کی گود سے بچوں کو نوچ کر انہیں سرحد بدر کر دینا۔سرحد بھی وہ جو کہ سرحد بھی نہیں ۔کیونکہ اس پار بھی ہم ہیں اس پار بھی ہم۔ان بچوں میں تو اس عمر کے بچے بھی شامل ہیں جو ابھی ماووں کے لمس سے بھی آشنا نہیں ہوئے۔ مجھے تو یہ احساس ہی لرزا کر رکھ دیتا ہے کہ ان کی آنکھیں عمر بھر صحرا کی ریت سے بھری رہیں گی۔ماں کے لمس کی پھوار کبھی انہیں ہرا نہیں کر پائے گی۔

میرے کان ترس رہے ہیں اس نوید کو سننے کے لیے کہ کسی ماں سے اس کے بچے کو جدا نہ کیا جائے ۔کون سا ظلم ہے جو ہندوستان کشمیریوں پر نہیں کر رہا۔اللہ یہ ہجر دائمی نہ ہو۔
ہجر تو وہ چیز ہے جس نے یعقوب کو نابینا کر دیا۔احمد شمیم تقسیم کے وقت ماں سے بچھڑ گئے تھے۔ ان کی نظم کانوں میں گونج رہی ہے جو انہوں نے ماں کی یاد میں اچھے دنوں میں کہی تھی۔

کبھی ہم بھی خوبصورت تھے !

کتابوں میں بسی خوشبو کی صورت
سانس ساکن تھی!
بہت سے ان کہے لفظوں سے تصویریں بناتے تھے
پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر
دور کی جھیلوں میں بسنے والے لوگوں کو سناتے تھے
جو ہم سے دور تھے
لیکن ہمارے پاس رہتے تھے !
نئے دن کی مسافت
جب کرن کے ساتھ آنگن میں اترتی تھی
تو ہم کہتے تھے۔۔۔ ۔۔امی!
تتلیوں کے پر بہت ہی خوبصورت ہیں
ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
کہ ہم کو تتلیوں کے‘ جگنوؤں کے دیس جانا ہے
ہمیں رنگوں کے جگنو‘ روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں
نئے دن کی مسافت رنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھ
کھڑکی سے بلاتی ہے
ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
۔۔
اللہ یہ ہجر دائمی نہ ہو
زیادہ لکھنے کی ہمت نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں