ویمن یونیورسٹی باغ حالیہ واقعہ اور طالبات کا مطالبہ

64

تحریر: ارسہ اسحاق
کسی کی چادر پہ مت ڈال داغ اپنے گناہوں کا
ہر آئینہ تمہیں دشمن نہیں ہوتا
ویمن یونیورسٹی باغ، جو آزاد کشمیر میں خواتین کی تعلیم کا واحد ادارہ ہے، حالیہ دنوں ایک افسوسناک اور حساس نوعیت کے واقعے کی زد میں ہے۔ اسٹوڈنٹ ویک کے دوران ایک نجی انڈور تقریب، جس میں صرف طالبات شریک تھیں، کی ایک ویڈیو خفیہ طور پر بنائی گئی۔ بعد ازاں کسی طالبہ نے یہ ویڈیو ایک غیر متعلقہ مرد کے ساتھ شیئر کی، جس نے اسے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔یہ افسوس کا مقام ہے کہ اس ویڈیو کی بنیاد پر طالبات اور ادارے کے خلاف شدید تنقید، تضحیک اور کردار کشی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سرگرمی نہ تو عوامی تھی، نہ اس میں کوئی غیر متعلقہ مرد شریک تھا۔ اگر معاشرہ مردوں کی تفریحی سرگرمیوں کو معمول کا حصہ سمجھتا ہے، تو خواتین کی ایسی سرگرمیوں کو بھی نجی اور ذاتی دائرہ سمجھنا چاہیے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ویمن یونیورسٹی کی کسی سرگرمی کو لے کر منفی پروپیگنڈہ کیا گیا ہو۔ گزشتہ سال بھی ہائیکنگ مقابلہ کروایا گیا، جس میں میڈیا سے بھی کسی مرد رکن کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس سرگرمی میں بھی کوئی غیر شرعی یا خلافِ تہذیب بات نہ تھی، مگر اس کے باوجود بعض حلقوں کی جانب سے نہایت نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے، اور ہر ممکن طریقے سے اس کی منفی تشہیر کی کوشش کی گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسئلہ سرگرمی کا نہیں، نیتوں اور نظریات کا ہے۔سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے والے افراد سے گزارش ہے کہ اگر واقعی کوئی غلطی ہوئی ہے تو اس کی نشاندہی عزت و وقار کے ساتھ کریں۔ اگر آپ مہذب اور تربیت یافتہ ہیں تو پھر اپنی بات کا انداز بھی باوقار ہونا چاہیے۔ بالخصوص باغ کی عوام سے خصوصی اپیل ہے کہ آپ اپنے قول و فعل دونوں سے نہ صرف ویمن یونیورسٹی کو بدنام کر رہے ہیں، بلکہ پورے باغ کو ایک سوالیہ نشان بنا کر پیش کر رہے ہیں.

۔خدارا! اپنے باشعور، غیرت مند اور مہذب ہونے کا ثبوت ایسے رویوں سے نہ دیں۔سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہر بار نشانہ صرف وہی بنتی ہیں جو ویڈیوز میں نظر آتی ہیں، مگر جنہوں نے خفیہ طور پر ویڈیو بنائی، آگے شیئر کی، یا سوشل میڈیا پر عام کی ان کے خلاف کوئی بازپرس نہیں ہوتی۔یہ چند افراد کی غیر ذمہ دارانہ حرکات ہیں جو ہزاروں طالبات اور ایک ادارے کے وقار کو داؤ پر لگا دیتی ہیں۔ ویمن یونیورسٹی باغ وہ ادارہ ہے جہاں طالبات نہایت پُرامن اور باوقار ماحول میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ادارے کی ہم نصابی سرگرمیاں طالبات کی شخصیت سازی کے لیے نہایت اہم ہیں، اور انہیں بدنامی کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ہم وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی باغ اور ڈپٹی کمشنر باغ سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، اور جس بھی فرد یا طالبہ نے یہ ویڈیو کسی غیر متعلقہ شخص کے ساتھ شیئر کی یا سوشل میڈیا پر پھیلانے میں کردار ادا کیا، اس کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کی جائے۔

کیونکہ اصل اصلاح عزت کے ساتھ ممکن ہے، تذلیل کے ساتھ نہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ جو لوگ اس عمل میں شریک تھے، انہیں جلد بے نقاب کیا جائے گا تاکہ ادارے کا وقار اور طالبات کا اعتماد بحال ہو سکے۔یہ ادارے ہماری پہچان ہیں ان پر کیچڑ اچھال کر ہم خود اپنا وقار کھوتے ہیں۔
اندھیرا بانٹنے والو، چراغ خود بنو
یقین مان لو، روشنی بے آواز ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں