صحافت کا گرتا معیار ایک تشویشناک حقیقت

139

تحریر: عثمان علی
کبھی صحافت ایک مقدس فریضہ سمجھا جاتا تھا۔ ایک ایسا پیشہ جو سچائی، غیر جانبداری، اور دیانت داری کا علمبردار تھا۔ صحافی وہ فرد ہوتا تھا جو معاشرے کے لیے آنکھ اور کان بن کر حقائق کو بے خوف ہو کر سامنے لاتا، اور عوام کے مسائل کو اربابِ اختیار تک پہنچاتا۔ لیکن افسوس، موجودہ دور میں یہ شفاف آئینہ گرد سے اَٹا جا چکا ہے۔ صحافت، جو معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ ہونی چاہیے تھی، اب خود اصلاح کی محتاج ہو چکی ہے۔

آج میڈیا کی دنیا میں سنسنی خیزی، ریٹنگ، اشتہارات اور مخصوص ایجنڈے بازی لے گئے ہیں۔ خبر کی بنیاد اب سچائی پر نہیں، بلکہ “کون سی خبر زیادہ دیکھی جائے گی؟” جیسے سوال پر رکھی جاتی ہے۔ بعض نیوز چینلز اور اخبارات میں جھوٹی یا مبالغہ آمیز خبریں شائع کرنا معمول بن چکا ہے۔ تحقیق اور تصدیق کی جگہ جلد بازی اور سبقت لے جانے کی دوڑ نے لے لی ہے۔

یہ سچ ہے کہ صحافت پر دباؤ ہمیشہ سے رہا ہے، مگر آج یہ دباؤ صحافت کو اپنے اصل راستے سے بھٹکانے کا سبب بن چکا ہے۔ کچھ صحافی خود کو کسی مخصوص سیاسی جماعت، مفاداتی گروہ یا طاقتور حلقے کا نمائندہ سمجھنے لگے ہیں۔ اس جانبداری نے صحافتی اداروں کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جب صحافت ایک خاص بیانیے کی نمائندہ بن جائے، تو سچائی پسِ پردہ چلی جاتی ہے اور معاشرہ الجھن، تقسیم اور بے یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔

معاملہ صرف خبروں تک محدود نہیں رہا۔ آج سوشل میڈیا نے بھی صحافت کی تعریف کو دھندلا دیا ہے۔ ہر فرد رپورٹر بن بیٹھا ہے، اور ہر پوسٹ “خبر” بننے کی دوڑ میں شامل ہے۔ جھوٹ، فیک نیوز، اور کردار کشی کو “آزادی اظہار” کے نام پر پھیلایا جا رہا ہے۔ یہ روش صحافت کو مزید کمزور کر رہی ہےلیکن کیا ہم اس زوال کو روک سکتے ہیں؟ یقیناً، اگر ہم سب اپنی ذمے داری سمجھیں تو بہت کچھ بدلا جا سکتا ہے۔

صحافیوں کے لیے تربیتی ورکشاپس اور اخلاقی تربیت لازمی کی جائے۔ میڈیا ادارے اپنے نیوز رومز میں تحقیقاتی عمل کو مضبوط بنائیں۔ جھوٹی خبروں پر جرمانہ، معذرت اور تردید کا نظام نافذ کیا جائے۔ ایک خود مختار “صحافتی احتسابی کونسل” قائم کی جائے جو غیر جانبدار طریقے سے میڈیا کی نگرانی کرے۔ساتھ ہی تعلیمی اداروں میں صحافت کے طلبہ کو صرف تکنیکی مہارت نہیں بلکہ اخلاقیات، اصولِ تحقیق، اور عوامی خدمت کا شعور بھی دیا جائے۔

عوام بھی اپنا کردار ادا کریں، اور ہر خبر کو سچ ماننے سے پہلے تحقیق کریں۔صحافت کو دوبارہ عزت، وقار اور اعتماد کا ذریعہ بنانا مشکل نہیں، اگر ہم سنجیدگی سے اس پیشے کی اصل روح کو سمجھیں اور اپنائیں۔ ورنہ اگر یہی روش جاری رہی تو صحافت سچ کی تلاش کا ذریعہ نہیں، فتنہ و فساد کا ہتھیار بن کر رہ جائے گی — اور اس کا نقصان پورے معاشرے کو بھگتنا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں