تحریر: سردار علی شاہنواز خان
آج جب کشمیری قوم تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے.تو ہمیں یہ سننے کو مل رہا ہے کہ بانی صدرِ آزاد کشمیر سردار محمد ابراہیم خان پر ریاست کو “تقسیم کرنے”، “ایجنسیوں کا آلہ کار بننے”، یا “مخصوص ایجنڈے پر کام کرنے” جیسے الزامات کھلے عام عائد کیے جا رہے ہیں۔یہ صرف اخلاقی انحطاط نہیں بلکہ تاریخی بددیانتی اور قومی حافظے پر حملہ ہے۔ کیا ہر آزادی کا متوالا کسی ایجنسی کا مہرہ ہوتا ہے؟ . جب بھی کوئی کشمیری یا کسی مظلوم قوم کا فرد آزادی کی بات کرتا ہے.ایک طعنہ فوراً سننے کو ملتا ہے:
“یہ کسی ایجنسی کا آلہ کار ہوگا!” . مگر کیا صرف الزام لگا دینا ہی کافی ہے..؟ کیا تاریخ کو مسخ کر دینا حب الوطنی ہے؟یہ سوال پہلے خود سے پوچھیں: کیا دنیا کی کوئی بڑی قومی تحریک بغیر بیرونی حمایت کے کامیاب ہوئی؟

• کیا امریکہ آزادی حاصل کر سکتا تھا اگر فرانس نے مدد نہ کی ہوتی؟ • کیا الجزائر فرانس سے آزاد ہو سکتا تھا اگر خطے کے ممالک نے پناہ نہ دی ہوتی؟
• کیا نیلسن منڈیلا کی جدوجہد بین الاقوامی بائیکاٹ اور پابندیوں کے بغیر کامیاب ہوتی؟
• کیا فلسطین آج بھی عالمی حمایت کی اپیل نہیں کر رہا؟
• کیا بنگلہ دیش صرف داخلی طاقت سے آزاد ہوا؟ ہر تحریک کو کسی نہ کسی مرحلے پر بیرونی مدد ملی ہے۔ یہ کمزوری نہیں، حقیقت ہے۔ جب آپ کے مفادات کسی طاقت سے ہم آہنگ ہو جائیں، تو مدد لینا عقلمندی ہے.
ورنہ تو بہادر تو بیل بھی ہوتا ہے، مگر بغیر عقل کے صرف دیواروں سے ٹکراتا ہے منزل کبھی نہیں پاتا۔ سردار محمد ابراہیم خان: فیصلہ، قربانی اور قیادت. • 19 جولائی 1947 کو انہوں نے سری نگر میں قراردادِ الحاقِ پاکستان منظور کروائی جو اُس وقت کے کشمیری مسلمانوں کی اجتماعی آواز تھی۔ • 24 اکتوبر 1947 کو آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے بانی صدر بنے۔
• انہوں نے نہ صرف سیاسی قیادت کی بلکہ مسلح مزاحمت کے لیے بھی حالات پیدا کیے۔
• یہ نہ کوئی خفیہ سازش تھی، نہ کمزوری — بلکہ قومی مفاد، عوامی امنگوں اور سیاسی حکمتِ عملی کا تقاضا۔ دوسرے رہنما: جو خاموشی سے تاریخ لکھ گئے • چوہدری غلام عباس مسلم کانفرنس کے بانی، قائداعظم کے قریبی، سیاسی حکمت کے مظہر
• میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ، دینی قیادت، عوامی شعور • راجہ حیدر خان ، مسلح جدوجہد کے ابتدائی قائد • ملک محمد حسین ، عوامی ربط، عسکری تنظیم • سردار عبدالقیوم خان بعد ازاں سیاسی تسلسل کی علامت یہ سب اس تحریک کے کردار تھے جس نے آج کا آزاد کشمیر قائم کیا۔ یٰسین ملک اور امان اللہ خان ضمیر کے قیدی، آلہ کار نہیں.
• امان اللہ خان نے مکمل آزادی کا نعرہ لگایا، اور جب وہ قومی بیانیے سے ہٹے، تو تنہا کر دیے گئے مگر نظریہ نہ چھوڑا۔
• یٰسین ملک نے مسلح مزاحمت کے بعد سیاسی جدوجہد اختیار کی، اور ہر طرف سے شک و شبے کا نشانہ بنے — مگر کسی کے اشارے پر نہیں چلے۔ یہ سب اس لیے نہیں کہ وہ کمزور تھے بلکہ اس لیے کہ وہ اپنی راہ خود چنتے تھے۔ نوجوان نسل سے گزارش آج کا نوجوان ایک طرف جذباتی ہے، دوسری طرف سچ کا پیاسا بھی۔اس سے گزارش ہے: • جذبات رکھو، مگر ہوش کے ساتھ • تاریخ کو مطالعے سے سمجھو، پراپیگنڈے سے نہیں
• جو قیادت اُس وقت عوام کی ترجمان تھی، اسے آج کا مجرم نہ بناؤ حقیقی جرأت یہ ہے کہ آپ سچ کو اپنائیں چاہے وہ آپ کے جذبات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
انجامی نوٹ:
تاریخ کو اس وقت کے حالات، پس منظر اور قوم کی اجتماعی سوچ کے مطابق پڑھنا اور قبول کرنا دانشمندی ہے۔جب بیانیے وقت کے ساتھ بدل سکتے ہیں، تو قیادت پر لگے ہوئے آج کے الزامات کو بھی وقت کے آئینے میں پرکھنا ضروری ہے۔سردار محمد ابراہیم خان کو تاریخ نے عزت دی ہے .اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اُس عزت کو سنبھال سکیں یا گم کر دیں۔