سٹیٹ ویوزاردو
رپورٹ ،خواجہ کاشف میر
اسلام آباد،11 مئی 2025
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی میں چینی ساختہ جے-10 سی لڑاکا طیاروں کی کارکردگی نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ پاکستانی فضائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان طیاروں نے پانچ بھارتی جنگی طیارے، جن میں تین رافیل بھی شامل ہیں، مار گرائے۔ یہ کارروائی بھارت کی جانب سے “آپریشن سندور” کے تحت پاکستانی علاقوں پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی۔پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق، جے-10 سی طیاروں نے PL-15E میزائلوں کی مدد سے بھارتی طیاروں کو نشانہ بنایا۔ امریکی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے کم از کم دو بھارتی طیارے مار گرائے۔
آپریشن بنیان مرصوص، پاکستان کا جوابی اقدام
پاکستانی فوج نے “آپریشن بنیان مرصوص” کے تحت بھارت کے 25 سے زائد فوجی اہداف کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔ ان میں ادھم پور، آدم پور، پٹھان کوٹ، بھٹنڈا، سرسہ اور برنالہ کی ایئر بیسز شامل تھیں۔پاکستانی حکام کے مطابق، ان حملوں کا مقصد بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دینا تھا۔ بھارتی وزارت دفاع نے بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے ان تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
جنگ بندی اور امریکی ثالثی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت نے فوری اور مکمل جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ معاہدہ امریکی ثالثی کے بعد طے پایا، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس نے اہم کردار ادا کیا۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے شام 4:30 بجے سے سیز فائر پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔
عوامی ردعمل اور قومی یکجہتی
پاکستان میں عوام نے فوجی کامیابیوں پر جشن منایا۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی، کوئٹہ اور ملتان سمیت مختلف شہروں میں شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر مٹھائیاں تقسیم کیں اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا کہ “الحمدللہ افواج پاکستان نے مربوط طریقے سے طاقتور جواب دیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “ہم بھارت کی مذموم کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔”
عالمی ردعمل اور مستقبل کی راہیں
عالمی برادری نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔ جی-7 ممالک اور چین نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سیاسی حل کی جانب بڑھیں۔ اگرچہ جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے، لیکن سرحدی علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان 12 مئی کو بات چیت متوقع ہے، جس میں مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔