ڈرون یلغار اور قومی شعور کا امتحان

47

تحریر: عثمان علی
8 مئی 2025 کو بھارت کی جانب سے پاکستانی حدود میں متعدد ڈرون حملے، صرف ایک عسکری کارروائی نہیں تھے بلکہ ایک مذموم یلغار اور جنگی جنون کا مظہر تھے۔ ان حملوں کا مقصد پاکستان کی فضائی خودمختاری کو للکارنا اور جنوبی ایشیا کے امن کو داؤ پر لگانا تھا۔ مگر دشمن شاید یہ بھول گیا تھا کہ وہ ایک ایسی قوم کے خلاف صف آراء ہے جس نے ہمیشہ اپنے دفاع میں نہ صرف عظیم قربانیاں دیں بلکہ ہر حملے کا منہ توڑ جواب دیا۔ پاک فوج نے دفاع کے میدان میں ایک بار پھر کمال مہارت اور چابک دستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 80 کے قریب بھارتی ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔

یہ حملے صرف جنگی نہیں بلکہ ذہنی و نفسیاتی دباؤ پیدا کرنے کی ایک کوشش بھی تھے۔ دشمن جانتا ہے کہ جدید دور کی جنگیں صرف میدان میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ سوشل میڈیا، پروپیگنڈا، اور ذہنی فضا کو پراگندہ کر کے دشمن قوم کے اعتماد کو متزلزل کیا جاتا ہے۔ بھارتی میڈیا نے حسبِ روایت جھوٹ، فریب، اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے اپنی ناکامیوں کو فتوحات میں بدلنے کی کوشش کی۔ لیکن سچ یہ ہے کہ وہ اپنے ناظرین کو جھوٹی تسلیاں دے کر اصل شکست کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستانی قوم کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ ہے شعور، اتحاد اور ذمہ داری۔

یہ وقت ہے کہ ہر شہری اپنی حیثیت میں ایک سپاہی کا کردار ادا کرے۔ قومی بیانیے پر اعتماد، افواہوں سے پرہیز، سوشل میڈیا پر ذمہ داری، ریاستی اداروں سے تعاون، اور دشمن کے جھوٹے پراپیگنڈے کا علمی و اخلاقی جواب — یہی وہ ہتھیار ہیں جن سے ہم ذہنی محاذ پر بھی فتح حاصل کر سکتے ہیں۔ دشمن چاہتا ہے کہ ہم تقسیم ہو جائیں، بدظن ہو جائیں، اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد کا شکار ہو جائیں۔ ہمیں اس سازش کو ناکام بنانا ہے۔

قومی یکجہتی کا مطلب صرف نعرے لگانا نہیں، بلکہ ریاستی اداروں پر اعتماد کرنا، ملکی معیشت کو سہارا دینا، فرقہ واریت اور داخلی انتشار سے بچنا، اور ایسی زبان و رویہ اپنانا ہے جو دشمن کی بجائے وطن کے مفاد میں ہو۔ ہر دکان دار، ہر طالب علم، ہر مزدور، ہر استاد — سب اس فکری محاذ کے سپاہی ہیں۔ اگر ہم متحد، بیدار اور ذمہ دار ہوں تو نہ صرف دشمن کے پروپیگنڈے کو شکست دے سکتے ہیں، بلکہ دنیا کو بھی باور کرا سکتے ہیں کہ پاکستان ایک باشعور، بیدار، اور مضبوط قوم ہے۔

آخر میں، یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ دفاع صرف توپ، ٹینک یا میزائل سے نہیں ہوتا۔ اصل دفاع اس وقت ہوتا ہے جب قوم اپنے اداروں کے ساتھ کھڑی ہو، جب جھوٹ کے مقابلے میں سچ بولے، جب نفرت کے مقابلے میں اتحاد اپنائے، اور جب اپنے شعور کو دشمن کے حربوں سے محفوظ رکھے۔ کیونکہ اگر شعور زندہ ہو تو کوئی دشمن، چاہے وہ بارود سے حملہ کرے یا الفاظ سے، ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں