تحریر:کرن خان
یہ رات کچھ خاص تھی، پُراسرار سی۔ گھڑی کی سوئیاں جب رات ایک بجے کے قریب پہنچیں، بہاولپور اور مظفرآباد کے آسمان پر اچانک دھماکوں کی گونج سنائی دی۔ پہلے پہل سب نے سمجھا شاید کوئی مشق ہو رہی ہے، لیکن جلد ہی معلوم ہوا کہ بھارت نے بنا اعلان کیے رات کے اندھیرے میں جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں پر اچانک میزائل داغے گئے۔مگر صد شکر.افواجِ پاکستان نے نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ دشمن کی جارحیت کو جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دیا۔
پہلا جھٹکا نئی نسل کی پہلی جنگ
یہ میری نسل کی پہلی جنگ تھی، جسے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس سے پہلے تو صرف 1965 اور 1971 کی جنگوں کی داستانیں سنتے آئے تھے، لیکن 10 مئی کو جو کچھ ہوا… وہ صرف جنگ نہ تھی، وہ تاریخ تھی — اور وہ تاریخ ہماری آنکھوں کے سامنے رقم ہوئی۔بھارت پر ایک عرصے سے جنگی جنون طاری تھا۔ جیسے ہی پہلگام واقعہ ہوا، بھارت نے بغیر سوچے سمجھے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا دیا۔ ثبوت؟ نہ پہلے تھے، نہ تین ہفتے گزرنے کے بعد پیش کیے جا سکے۔
میڈیا کا میدانِ جنگ
بھارت کا میڈیا اپنے جنون میں ایسا پاگل ہوا کہ گویا اسلام آباد پر جھنڈا گاڑ چکا ہو، آرمی چیف کو گرفتار کر لیا ہو، اور لاہور کو ساحلی شہر بنا دیا ہو! تہذیب کی دور دور تک جھلک نظر نہ آئی لیکن دوسری جانب، پاکستانی میڈیا نے حیرت انگیز ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ نہ جذبات کی رو میں بہے، نہ قوم کو خوفزدہ کیا۔ بس سچ دکھایا… وہی جو میدان میں ہو رہا تھا۔
جنگ کا آغاز، مگر ایک سوال
رات ہم جاگتے رہے۔ نیشنل سکیورٹی ورکشاپ بلوچستان کا حصہ ہونے کے باعث اگلی صبح ہماری ملاقات 10 کور کے کمانڈر سے طے تھی — وہی 10 کور جو اس وقت فرنٹ لائن پر تھی۔ہمیں لگا، شاید ملاقات منسوخ ہو جائے گی۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ ملاقات وقت پر ہوئی۔ ہمیں لگا اب تو لیکچر صرف جنگ پر ہوگا، مگر تین گھنٹے گزر گئے، اور جنگ کا ذکر تک نہ ہوا۔ تجسس بڑھتا گیا… آخر کیوں؟
پھر سوال جواب کا وقت آیا۔ ہم نے پوچھ ہی لیا۔
جواب آیا:
“ہم نے جو کرنا تھا، کر لیا۔ بھارت نے آغاز کیا، ہم نے دفاع کیا۔ ایک بھی جارحانہ آپریشن نہیں کیا۔”
رافیل کی موت بھارت کی ہار کی ابتدا
یہ تو رسمی جواب تھا، لیکن حقیقت میں میدان کچھ اور ہی کہہ رہا تھا۔ بھارت کے 5 رافیل طیارے گر چکے تھے، ایک بریگیڈ تباہ ہو چکی تھی۔ پاکستان نے نہایت سوچ سمجھ کر، اسٹریٹیجک طریقے سے جواب دیا۔ جتنا ضروری تھا، بس اتنا ہی۔اسی لمحے پاکستان نے جنگ جیت لی تھی — اور بھارت… ہار گیا تھا۔
دوستی اور دشمنی کی پہچان
یہ جنگ صرف میدان کی نہیں تھی، یہ سفارتی سطح پر بھی بڑی بازی تھی۔ چین، ترکی، آذربائیجان — سب نے پاکستان کا ساتھ دیا۔ اور کچھ نام نہاد دوست بے نقاب ہو گئے۔
دنیا بھر میں اس جنگ کو مختلف زاویوں سے دیکھا گیا۔ امریکہ کو بیچ میں آ کر سیز فائر کروانا پڑا۔ بھارت نے اپنے جدید ترین ہتھیار، اسرائیلی، روسی اور فرانسیسی اسلحہ استعمال کیا مگر کامیابی نصیب نہ ہوئی۔
آپریشن بنیان مرصوص اور فتح کا نشان
پاکستان نے اس آپریشن کا نام رکھا “بنیانِ مرصوص” فولادی دیوار۔میزائل کا نام رکھا گیا “الفَتح” اور دنیا کو دکھا دیا کہ ہم نہ صرف دفاع کرنا جانتے ہیں بلکہ دشمن کو دھول چٹانے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
عالمی میڈیا نے بھی تسلیم کیا:
“پاکستان کی فضائیہ کا کوئی مقابلہ نہیں!”
اختتامیہ — اور مین آف دی میچ؟
جنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان تھی، مگر “مین آف دی میچ” کی ٹرافی ٹرمپ لے اُڑنے کے خواب دیکھنے لگا۔
لیکن دنیا نے دیکھ لیا:
پاکستان نے نہ صرف دشمن کو شکست دی بلکہ ایک نئی تاریخ بھی رقم کی — جسے یہ نسل نہ صرف یاد رکھے گی بلکہ آگے بھی سناتی رہے گی۔
پاکستان زندہ باد — افواج پاکستان پائندہ باد!