مودی بمقابلہ مسعود

40

تحریر:ڈاکٹر مبشر نقوی
پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی، ثقافتی اور سماجی اختلافات کی ایک طویل فہرست ہے، مگر سب سے نمایاں فرق وہ ہے جو دونوں ممالک کی عوام کی سوچ، انتخابی رجحانات اور شدت پسندی کے ساتھ تعلق کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کا سامنا ضرور رہا، لیکن یہاں کے عوام نے کبھی مذہبی شدت پسند گروہوں کو سیاسی مینڈیٹ نہیں دیا۔ اسلامی لشکر ہوں، جیش محمد ہو یا تحریک طالبان پاکستان؛کسی گروہ کے کسی ایک نمائندے کو بھی قومی سطح پر نمائیندگی تو درکنار،یونین کونسل کی سطح پر عوامی تائید تک حاصل نہیں ہوئی۔ مذہب کے نام پر بندوق اٹھانے والوں کو پاکستانی ووٹر نے کبھی بھی اپنے ووٹ کے قابل نہیں سمجھا۔دوسری طرف بھارت میں صورتحال بالکل اس کے برعکس ہے۔ وہاں شدت پسند ہندو نظریات رکھنے والے افراد اور تنظیمیں نہ صرف سیاست میں موجود ہیں بلکہ اقتدار کے اعلیٰ ترین منصب پر بھی فائز ہو چکی ہیں۔ نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے مسلسل دو عام انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کی، جبکہ یہ وہی مودی ہیں جنہیں گجرات کے مسلمانوں کے قتل عام کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ مودی کو عالمی سطح پر ایک متنازع شخصیت تصور کیا جاتا رہا ہے، مگر بھارتی عوام نے اُنہیں اپنا وزیراعظم چُن کر ثابت کیا کہ شدت پسندی وہاں نہ صرف قبول کی جاتی ہے بلکہ فخر کے ساتھ اختیار بھی کی جاتی ہے۔

پاکستانی ووٹر مذہب کے جذباتی نعروں کے باوجود جماعت اسلامی جیسے نسبتاً معتدل مذہبی رہنماؤں کو بھی اکثریتی ووٹ نہیں دیتا۔ حافظ نعیم الرحمٰن جیسے پڑھے لکھے، منظم اور باکردارشخص کو بھی عوامی سطح پر محدود کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ یہ رجحان اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستانی عوام مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو محض نعرے کی بنیاد پر اقتدار نہیں سونپتے۔ یہ عوام کی سیاسی پختگی اور شدت پسندی سے بیزاری کا ثبوت ہے۔اس کے برعکس بھارتی سیاست میں یہی مذہب ایک زہریلا ہتھیار بن چکا ہے۔ انتخابی مہمات میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون امیدوار مسلمانوں کے خلاف زیادہ سخت موقف رکھتا ہے، کون پاکستان کے خلاف زیادہ زہریلے الفاظ استعمال کرتا ہے، اور کون مذہبی اقلیتوں کے خلاف زیادہ جارحانہ طرزِ عمل اختیار کرتا ہے۔ بابری مسجد کو شہید کر کے رام مندر بنانے کے عمل کو نہ صرف عوامی حمایت حاصل ہوئی بلکہ یہی عمل سیاسی کیریئر کے لیے سیڑھی بن گیا۔ آج بھارت میں ایسے سیاسی رہنما موجود ہیں جن کی واحد ”کارکردگی” یہی ہے کہ وہ کس حد تک مسلم مخالف ایجنڈا لے کر چلتے ہیں۔

پاکستان کی کسی قومی دھارے کی سیاسی جماعت نے آج تک اینٹی انڈیا یا اینٹی ہندو نعرے کو اپنی سیاست کا محور نہیں بنایا۔ یہاں کبھی کسی نے عوام سے اس بنیاد پر ووٹ نہیں مانگا کہ وہ بھارت یا ہندو مذہب کے خلاف سخت موقف رکھتا ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں انتخابی سیاست کا مرکز ہی پاکستان دشمنی اور مسلم مخالفت بن چکی ہے۔ وہاں سیاسی قائدین برملا یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کو سبق سکھائیں گے، مسلمانوں کو ان کی ”اوقات” میں رکھیں گے، اور ”ہندو راشٹر” کے قیام کی جانب تیزی سے قدم بڑھائیں گے۔ یہ بیانیہ عوامی سطح پر مقبول ہے اور ووٹوں میں تبدیل ہوتا ہے۔پاکستان میں اگر کوئی زید حامد جیسے سازشی نظریات پیش کرے تو وہ سوشل میڈیا پر طنز و مزاح کا نشانہ بنتا ہے۔ عوام اُس کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ لیکن بھارت میں گورو آریا جیسے خود ساختہ ”سیکیورٹی ایکسپرٹس” کو قومی ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اُن کی باتوں کو ٹی وی چینلز پر نشر کیا جاتا ہے، اور وہ رائے عامہ پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ یہ فرق دونوں ممالک کے میڈیا اور عوامی شعور کا آئینہ دار ہے۔

پاکستان میں اگر کوئی نرگسیت اور طاقت کے زعم میں قانون کو روندنے کی کوشش کرے تو وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچتا ہے، لیکن بھارت میں یہی صفات کسی شخص کو وزیراعظم کے منصب تک لے جاتی ہیں۔ مودی جیسے رہنما کو اگر اپنی انتخابی مہم میں شدت پسندی اور جارحانہ قوم پرستی کا رنگ نہ دیا جائے تو شاید وہ کبھی اقتدار تک نہ پہنچ پاتے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ وہ خطے کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر لا کر بھی سیاسی فائدے سمیٹنے سے باز نہیں آتے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستانی عوام نے شدت پسندی کو بطور طرزِ سیاست مسترد کر دیا ہے، جب کہ بھارتی عوام نے اسے اپنا سیاسی شعار بنا لیا ہے۔ پاکستان میں مذہب، فوج، اور ریاست کے بیانیے کو چیلنج کیا جاتا ہے، اور سیاسی مباحث میں عوام کی تنقید موجود ہوتی ہے۔ بھارت میں شدت پسند بیانیہ ریاستی سرپرستی میں پھل پھول رہا ہے، اور جو کوئی اسے چیلنج کرے، وہ یا تو غدار قرار دیا جاتا ہے یا پھر غائب کر دیا جاتا ہے۔

یہ حقیقت واضح ہے کہ پاکستان اور بھارت کی ریاستی پالیسیاں جتنی بھی مختلف ہوں، مگر ان سے زیادہ بڑا فرق ان دونوں ممالک کی عوام کی سوچ کا ہے۔ پاکستان کے عوام نے اپنے نظریاتی شدت پسندوں کو کبھی ووٹ کی طاقت سے آگے نہیں بڑھنے دیا۔ بھارت کے عوام نے اپنے مذہبی شدت پسندوں کو نہ صرف ووٹ دیا بلکہ پورے ملک کی باگ ڈور ان کے حوالے کر دی۔آج پاکستان میں مذہبی انتہا پسند تنظیمیں عوامی سطح پر بے اثر ہو چکی ہیں، جبکہ بھارت میں ہندو انتہا پسندی ریاستی نظریے میں ڈھل چکی ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو نہ صرف خود بھارت کے اندر اقلیتوں کے لیے زندگی مشکل ہو جائے گی بلکہ پورے جنوبی ایشیا کا امن داؤ پر لگ جائے گا۔انتخابی سیاست میں شدت پسندی کا عمل دخل کسی بھی جمہوریت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ پاکستان نے اس زہر کو اپنی عوامی دانش سے مسترد کیا ہے، مگر بھارت نے اسے سیاسی آبِ حیات بنا لیا ہے۔ فرق صاف ظاہر ہے: پاکستان اپنے شدت پسندوں کو قید میں رکھتا ہے، بھارت اُنہیں وزارت عظمیٰ پر بٹھاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں