پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی خواتین پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات

30

رپورٹ: ثوبان افتخار راجہ

’یہ ایک مشکل فیصلہ تھا، لیکن خاندان کی سب سے بڑی اولاد ہونے کے ناطے میں نے اپنی تعلیم چھوڑ کر اپنے گاؤں سے شہر ہجرت کا فیصلہ کیا۔ ہمیں امید تھی کہ یہ قدم ہماری مشکلات کا حل ہوگا مگر یہ تو صرف شروعات تھی، اس کے بعد ہمیں مزید کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔یہ الفاظ ہیں ریحانہ عزیز کے جو خاندان کی سب سے بڑی بیٹی ہیں۔ ان کے والد محمد عزیز خان کی موت کے بعد ان کی دو چھوٹی بہنوں، دو بھائیوں اور ایک ماں کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر آگئی تھی۔ریحانہ عزیز بتاتی ہیں کہ ’میرے والد ہمارے چھ افراد پر مشتمل خاندان کے واحد کفیل تھے۔ ان کے انتقال کے بعد میری ماں اور میں نے گھر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ مجھے اپنی تعلیم چھوڑنی پڑی اور ہم نے کھیتی باڑی کے ذریعے روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا شروع کی۔‘

صرف ایک سال بعد، شدید بارشوں اور کلاوڈ برسٹ کے واقعے نے ریحانہ کے خاندان کے مویشیوں کو ہلاک کر دیا اور ان کی زرعی زمین کو تباہ کر دیا۔ اس سانحے نے ان کے خاندان کو بہتر زندگی کی تلاش میں شہر منتقل ہونے پر مجبور کر دیا تاہم محدود تعلیم اور کوئی پیشہ ور تجربہ نہ ہونے کے باعث ریحانہ کو ملازمت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کافی محنت کے بعد، انہوں نے کمپیوٹر ڈپلومہ مکمل کیا جس کی بدولت انہیں ملازمت ملی اور وہ اپنے خاندان کا سہارا بن سکیں۔موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اگرچہ پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں صرف ایک فیصد حصہ ہے لیکن اسے سب سے زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔ گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر سنگین سماجی اور معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ یہاں کا بنیادی ڈھانچہ کمزور ہے اور حکومتی اقدامات ناکافی ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں یہ علاقہ موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ یہاں اب بھی چاروں موسم آتے ہیں مگر شدید موسمی تبدیلیوں نے قدرتی نظام کو بگاڑ کر دکھ دیا ہے۔ گزشتہ چھ دہائیوں میں یہاں کا درجہ حرارت چار ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ چکا ہے۔ اس خطے میں گرمیوں کے موسم میں 45 دن تک کا اضافہ ہوا ہے جبکہ باقی تین موسم بھی سکڑتے جا رہے ہیں۔

ان موسمی تبدیلیوں کے نتیجے میں قدرتی آفات میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ صرف گزشتہ پانچ برس میں بادل پھٹنے(کلاؤڈ برسٹ)، سیلاب، لینڈ سلائڈنگ، زلزلے اور دیگر قدرتی آفات نے سیکڑوں شہریوں کو متاثر کیا ہے۔

خواتین پر اثرات
پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں خواتین کو روایتی سماجی پابندیوں کا سامنا رہا ہے تاہم انیں در پیش مشکلات کو شاید ہی کبھی سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ ایسی ہی ایک خاتون ہیں 26 سالہ ثانیہ طارق جو ایک ایسے گاؤں کی باسی ہیں جہاں درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔پانی کی کمی کی وجہ سے نہ صرف گھریلو ضروریات کا پانی ختم ہو جاتا ہے بلکہ انسانوں اور جانوروں کے پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں ہوتا۔ ہر روز ثانیہ دس کلومیٹر کا پہاڑی راستہ دو مرتبہ طے کرتی ہیں تاکہ وہ روزہ مرہ ضروریات کا پانی لا سکیں۔ یہ سفر علاقے میں بڑھتے ہوئے پانی کے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔

ثانیہ اپنی روزانہ کی محنت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’دس کلومیٹر اوپر چڑھائی پر جانا اور پھر 10 لیٹر کا گھڑا سر پر اٹھا کر واپس آنا آسان نہیں ہے، مگر یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ مردوں کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ پانی کیسے آتا ہے، یہ صرف ہمارا کام ہے۔یہ روزانہ کا مشقت بھرا کام خواتین کی صحت پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ ثانیہ کی طرح بہت سی خواتین جوڑوں کے درد اور دیگر جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی نہ صرف ماحول پر اثر انداز ہو رہی ہے بلکہ خواتین کی روزمرہ زندگی کو بھی مزید مشکل بنا رہی ہے۔

تعلیم پر اثرات
پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں کم آمدنی والے خاندانوں میں مالی مشکلات کے باعث لڑکیوں کی تعلیم اکثر قربان کر دی جاتی ہے۔ 42 سالہ بیوہ ظریفہ بیگم اسی حقیقت کا سامنا کر رہی ہیں۔ وہ اپنے چار بچوں کی کفالت اپنے رشتہ داروں اور آخروٹ کے باغ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کرتی ہیں۔

ظریفہ بیگم بتاتی ہیں ’میرے شوہر کے انتقال کے بعد، دونوں خاندانوں نے ہماری مالی مدد کی اور ہم اپنے آخروٹ کے باغ سے کمائی کرتے تھے۔ مگر شدید موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے آخروٹ کے درخت سوکھنے لگے اور پیداوار کم ہو گئی۔ آمدنی میں کمی کی وجہ سے مجھے اپنی بیٹیوں کی تعلیم چھڑانی پڑی، چاروں بچوں کی تعلیم کا خرچہ اٹھانا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔‘ سماجی اور ماحولیاتی چیلنجز کے علاوہ، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی خواتین کی صحت پر موسمیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات

صحت کے مسائل
سماجی اور ماحولیاتی چیلنجز کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی خواتین کی صحت پر موسمیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والے شدید موسمی حالات نے بہت سی خواتین کے حیض کے نظام کو متاثر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے میں جاری پانی کے بحران کی وجہ سے بعض حاملہ خواتین کو میلوں دور پیدل چل کر پانی لانا پڑتا ہے، جو نہ صرف ان کی اپنی صحت بلکہ ان کے بچوں کی صحت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔

یہ مسائل اس خطے کی قدامت پسندانہ معاشرت میں ایک ممنوع موضوع سمجھے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان پر کھل کر بات کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ہم نے کوشش کی کہ ایسی خواتین سے براہ راست بات کی جائے جو ان مشکلات کا شکار ہیں تاہم معاشرتی بدنامی کے خوف کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکی۔
ضلع باغ میں ماہر امراض نسواں ڈاکٹر فضہ بخاری نے علاقے میں خواتین کو درپیش صحت کے بحران پر اپنے مشاہدات کے بتاتے ہوئے کہا کہ ’بہت سی خواتین کو خاص طور پر گرمیوں کے مہینوں میں حیض کے نظام میں بے قاعدگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں نے کئی حاملہ مریضوں کا علاج کیا ہے جو لمبے فاصلے پیدل چل کر پانی لاتی ہیں اور بھاری بوجھ اٹھاتی ہیں۔ ہر دوسری یا تیسری حاملہ خاتون کو وزن اٹھانے کی وجہ سے ریڑھ کی ہڈی اور جسمانی ساخت کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ان کے مشاہدات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور معاشرتی دباؤ نے اس خطے کی خواتین کی صحت پر ایک پوشیدہ مگر گہرا اثر چھوڑا ہے۔

ماہرین کی رائے
ماحولیاتی ماہر راجہ عاصم زیب کے مطابق، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر خواتین ہیں۔ پہلے ہی انہیں محدود اختیارات، بنیادی حقوق کی عدم دستیابی، اور سرکاری و نجی شعبوں میں محدود مواقع کا سامنا ہے۔ ان سماجی و معاشی رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے جغرافیائی چیلنجز ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں خواتین کھانے کی پیداوار میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتی ہیں، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زرعی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے اور پانی کی قلت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‘

حکومتی اقدامات
موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے بحران کے پیش نظر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے 2015 میں نیشنل کلائمٹ چینج کنٹرول سینٹر قائم کیا۔ اس کا مقصد پالیسی سازی اور عملی اقدامات کو یقینی بنانا تھا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر سردار رفیق کے مطابق ’حکومت نے پاکستان کے نیشنل کلائمٹ چینج سینٹر کے تحت اس ادارے کی بنیاد رکھی۔ ہم نے اس خطے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کی پالیسیاں مرتب کیں اور 2018 میں کلائمٹ ایکشن پلان متعارف کروایا۔‘

مضبوط پالیسی فریم ورک کی ضرورت

ماہر ماحولیات راجہ عاصم زیب نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مضبوط پالیسی فریم ورک اور اس کا مؤثر نفاذ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’صرف پالیسی بنانا کافی نہیں، بلکہ زمینی سطح پر اس کا نفاذ بھی اہم ہے۔‘

عاصم زیب کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی حکومت کو اپنی پالیسیوں کو بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق جدید بنانا ہوگا۔ جنگلات کی کٹائی، فوسل فیول کا استعمال اور غیر منصوبہ بند تعمیرات بڑے مسائل ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘

ان کے مطابق ماحولیات کے اثرات سے بچاؤ کے لیے صرف قانون سازی ہی کافی نہیں بلکہ مضبوط قانونی نفاذ بھی ضروری ہے تاکہ غیر قانونی درختوں کی کٹائی کو روکا جا سکے۔
’ہمیں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں حکومت، اسٹیک ہولڈرز، اور سرمایہ کاروں کی شراکت داری ہو۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں