ہندوستان کو بے چینی کیوں ہے

38

تحریر : راجہ طاہر گلزار
مقبوضہ کشمیر میں جنگ کے ایک ہفتہ گزرنے کے بعد ایک پلانٹڈ احتجاج کروایا گیا۔ ہمارے ہاں کے بھی کچھ دانشور پاکستان کے خلاف شدید مظاہروں کی خبر دے رہے ہیں۔ گو کہ یہ ماحول بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام پاکستان سے نفرت کرتی ہےلیکن حقائق کیا ہیں۔!یہ ان افراد میں سے چند ہندو ہیں جو ہندوستان نے 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں آباد کیئے لیکن بقول ایک پونچھی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ رومی شرما ان میں سے اکثریت جنگ کے دوران کشمیر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اب واپس لاکر احتجاج کی کوشش کی جارہی یے۔ یہی پاکستان کی 2019 میں سب سے بڑی غلطی تھی کہ ہندوستان کو 370 اور 35A ختم کرنے پر خاموشی دکھائی ۔ ایک تقریر اور آدھا گھنٹہ دھوپ میں بیٹھ کر آرمی چیف اور وزیر اعظم امن کے نوبل انعام کی ریس میں لگ گئے۔جس سے اہل کشمیر میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ ہندوستان اور پاکستان میں یہ طے پا چکا ہے کہ کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنا لیا جائے .

کچھ لوگوں کو اندازہ نہیں ہے کہ ہندوستان کو اس وقت اصل تکلیف کیا ہے۔ نئے آرمی چیف نے کے پی کے اور بلوچستان میں ہندوستان کی کئی سالوں کی انویسٹمنٹ ضائع کی ہے۔ امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان کے اندر پاک فوج نے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف کاروائیاں کی ہیں۔بات یہیں تک نہیں ہے بلکہ اس کے بعد بنگلہ دیش میں ہندوستان کا اثر و رسوخ جڑ سے اکھاڑ پھینکا یے۔ اس کے بعد منی پور، خالصتان، کشمیر سمیت دیگر تحریکوں نے زور پکڑا ہے۔ یہ کام کچھ دوستوں کے تعاون سے ممکن ہوا ہے۔

الحمدللہ اس وقت ہندوستان کے اپنے تمام پڑوسیوں کیساتھ اچھے تعلقات نہیں ہیں جن حالات میں ہم پانچ سال قبل تھے آج ہندوستان وہاں کھڑا ہے۔ امریکہ و اسرائیل ہندوستان کی کھل کر معاشی اور دفاعی معاونت کررہے ہیں۔گزشتہ دنوں امریکہ و چائنہ کے درمیان ٹیرف جنگ میں امریکہ نے اپنی کمپنیوں کو چائنہ چھوڑنے کا حکم دے دیا تھا لیکن اب حالات دوبارہ ٹھیک ہورہے ہیں چونکہ کوئی بڑا امریکی انوسٹر جنگ کے خطرے والے علاقے میں اپنی انویسٹمنٹ نہیں کرے گا۔

حافظ عاصم منیر نے بلاشبہ قوم کے بہادر سپوت ہونے کا کردار ادا کیا ہے اس پر انہیں ہر طرف خراج تحسین پیش کی جارہی ہے۔۔۔ لیکن پاکستان میں فوج کی تاریخ آئین توڑنے اور سیاست میں مداخلت جیسے واقعات سے بھری پڑی ہے جس وجہ سے عوامی طور پر ایک نفرت کا عنصر بھی موجود ہے۔ جنرل عاصم منیر اس ضمن میں ایک بڑا قدم اٹھا سکیں تو انہیں قوم ایک ہیرو کے طور پر یاد کرے گی۔

قوموں کی تاریخ میں ایسے موڑ آتے ہیں جس کے بعد انہیں عروج ملتا ہے کسی دور میں انگلینڈ اور امریکہ جیسے ملک میں بھی ایسے حالات تھے یورپ کے کئی ممالک فوج کے کنٹرول میں تھے لیکن پھر ان کے اداروں نے محسوس کیا کہ انہیں اپنے اصل کام دفاع کی طرف ہی توجہ دینی چائیے ۔ اسی وجہ سے ان ممالک میں آج پولیس، ریسکیو، تعلیم، صحت سمیت تمام ادارے اپنا بہترین کردار ادا کررہے ہیں اور اسی بنیاد پر وہ ترقی کی منازل طے کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں