کشمیر کی گونج اوربھارتی پروپیگنڈے کی شکست

91

تحریر: خالد گردیزی
حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے جس بصیرت، تدبر اور عسکری و سفارتی مہارت کا مظاہرہ کیا، وہ ناقابل بیان ہے،اس نے نہ صرف بھارتی جارحیت کو بے نقاب کیا بلکہ مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر عالمی برادری کے سامنے لا کھڑا کیا،دشمن کی جانب سے کی گئی اشتعال انگیزی کا پاکستان نے ایسا بروقت اور دوٹوک جواب دیا جس نے بھارت کے گھمنڈ کو زمین بوس کر دیا۔

بھارتی میڈیا نے ہمیشہ کی طرح گمراہ کن بیانیے،سنسنی خیز دعوے اور جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لیا، مگر اس بار دنیا نے ان کی فریب پر مبنی کوششوں کوسر سے ہی مسترد کر دیا،عالمی میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور انصاف پسند حلقے اب برملا سوال اٹھا رہے ہیں کہ کشمیر میں آخر کب تک جبر کا اندھیرا چھایا رہے گا؟

ایسے حساس موقع پر پاکستانی سپہ سالار کی پُرعزم قیادت اور حکمت عملی کلیدی حیثیت اختیار کر گئی اور افواجِ پاکستان کی جانب سے دشمن کو یہ واضح پیغام دیا گیا کہ پاکستان نہ صرف امن کا داعی ہے بلکہ اپنے دفاع اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جا سکتا ہے،سپہ سالار نے کشمیر سے متعلق دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور اس کے مظلوم عوام کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔

اس بار اس بیداری میں میڈیا کا کردار بھی خاصا مؤثر رہا، خاص طور پر اوورسیز کشمیریوں کی آواز ایک نئے انداز سے ابھری،فری لانس کشمیری صحافی رفعت وانی کا کردار بھی اس تناظر میں قابلِ ذکر ہے،جنہوں نے کشیدگی کے دوران مسلسل مستند، بروقت اور حقائق پر مبنی خبریں دنیا تک پہنچائیں،وہ نہ صرف ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتی رہی ہیں بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ میں کشمیر کا اصل چہرہ اجاگر کرنے میں بھی پیش پیش رہیں،رفعت وانی جیسے نوجوان، آزاد اور باشعور صحافی کشمیری تحریک کے لیے نئی امید کا نشان ہیں،جن کی کاوشیں وادی کی خاموشیوں میں صدائیں بن کر ابھری ہیں اور مستقبل میں بھی ابھرتی رہیں گی،
۔

پاکستان کے مؤقف اور کوششوں کے بعد ایک بار پھر عالمی برادری کی توجہ کشمیر کی طرف مبذول ہوئی ہے،اب نہ ماورائے عدالت گرفتاریاں چھپائی جا سکتی ہیں، نہ اظہارِ رائے پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں، اور نہ ہی بھارتی میڈیا کا جھوٹ عالمی برادری کو گمراہ کر سکتا ہے۔

سرینگر سے تعلق رکھنے والی ایک سکول ٹیچرثریا بی بی کے الفاظ اس صورتحال کو بیان کرنے کے لیے کافی ہیں جن میں وہ کہتی ہیں”ہم برسوں سے پکار رہے تھے، مگر کوئی سنتا نہ تھا، اب پہلی بار لگاکہ شائد ہماری آواز سنی جا رہی ہے،ہماری دعائیں، ہماری آہیں اب شاید کسی کے دل تک پہنچنے لگی ہیں۔

یہ لمحات بے حد اہم اور قیمتی ہیں،اگر ہم نے اب خاموشی اختیار کی یا کمزوری دکھائی تو ممکن ہے یہ آواز ایک بار پھر دب جائے،اوورسیز کشمیریوں، خاص طور پر نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اس پیغام کو مزید مضبوط بنائیں، عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑیں اور کشمیر کا مقدمہ ہر فورم پر زندہ رکھیں۔

پاکستان نے اپنا فریضہ ادا کر دیا ہے،اب وقت ہے کہ دنیا کو باور کرایا جائے کہ کشمیر کوئی سرحدی تنازع نہیں بلکہ یہ ایک مظلوم قوم کی وہ پکار ہے، جو برسوں کے ظلم کے بعد اب عدل و انصاف مانگ رہی ہے، اب یہ بھی امید ہو چلی ہے کہ آزادی کا وقت قریب ہے،شہداء کا خون رنگ لائے گا، ماؤں بہنوں، بیٹوں اور بزرگوں کی دعاؤں کو قبولیت کا شرف حاصل ہو گا اور اللہ پاک کے کرم سے اب بہت جلد انشاء اللہ کشمیری بھارتی جارحیت سے چھٹکارا پا لیں گے، انشاء اللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں