آپریشن بنیان المرصوص: وجوہات، اسباق اور نتائج

53

تحریر: عبدالباسط علوی
پاکستان ایک امن پسند ملک ہے جو دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور انکے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرتا ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور اس عالمی مسئلے کے خلاف اپنی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیتا رہا ہے ۔ایسے معتبر شواہد موجود ہیں جو بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے گروہوں کے ذریعے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی سرگرمیوں کی حمایت میں ہندوستان کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اعتراف پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کے کردار کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ان سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود پاکستان نے مسلسل مذاکرات اور امن کا راستہ منتخب کیا ہے ۔دریں اثنا ، ہندوستان میں انسانی حقوق کی صورتحال ، خاص طور پر اقلیتوں کے حوالے سے ، نے عالمی سطح پر خدشات کو جنم دیا ہے ۔ وہاں اقلیتوں کی سلامتی ، وقار اور حقوق خطرے میں ہیں اور ہندوستان میں تشدد اور انتہا پسندی کے واقعات اکثر اندرونی مسائل کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔ قومی سطح پر ان چیلنجوں سے نمٹنے کے بجائے ہندوستان نے بار بار جرائم کو دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کی ہے اور بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشیاں کرتا رہا ہے۔

مثالوں میں پلواما حملہ اور سمجھوتہ ایکسپریس کے واقعات شامل ہیں، جہاں مناسب تحقیقات کے بغیر ہی پاکستان کے خلاف الزامات لگائے گئے تھے ۔ حال ہی میں ، پہلگام کے واقعے کے بعد بھی ہندوستان نے ایک بار پھر خود ہی مدعی، جج اور جلاد کے کردار ادا کرتے ہوئے فوری طور پر پاکستان پر الزام عائد کیا ۔ یہ طرز عمل علاقائی استحکام کو کمزور کرتا ہے اور غیر ذمہ داری کے وسیع تر انداز کی عکاسی کرتا ہے ۔اس کے برعکس ، پاکستان نے مسلسل ہندوستان پر زور دیا ہے کہ وہ تصدیق شدہ شواہد شیئر کرے اور سفارتی چینلز پر عمل کرے ، لیکن ہندوستان نے اس کی نفی کی ہے ۔ پاکستان نے مستند ثبوتوں کی صورت میں بھرپور تعاون کا اعادہ بھی کیا یے مگر بھارت نے ہمیشہ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا یے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور کینیڈا میں ہونے والے قتل کی سازشوں سمیت بین الاقوامی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہندوستان کی مبینہ شمولیت نے عالمی سطح پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں ۔

جموں و کشمیر کا مسئلہ ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے ، جسے اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کیا ہے ۔ تاہم ، ہندوستان اپنے ملک کے مسائل کو بین الاقوامی جبکہ کشمیر جیسے بین الاقوامی تنازعے کو اپنا اندرونی مسئلہ قرار دینے کی رٹ لگائے ہوئے ہے ۔ اس متضاد موقف نے امن کے امکانات کو پیچیدہ بنا دیا ہے ۔بار بار کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود پاکستان نے اعتدال اور پختگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ 1965 یا 1971 وغیرہ جیسی جنگوں کا آغاز پاکستان نے نہیں کیا تھا ۔ پہلگام کے حالیہ واقعے کے تناظر میں پاکستان کے عوام نے ایک بار پھر امن و امان کی وکالت کی اور لوگ جنگ کی مخالفت کرتے رہے۔تاہم ، ایک خودمختار قوم کے طور پر ، پاکستان اپنے لوگوں اور ملک کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔ آپریشن بنیان المرصوص کی شکل میں ردعمل ایک جوابی اقدام تھا جو ہندوستان کی جارحیت کے جواب میں کیا گیا تھا ، جس کا مقصد معصوم شہریوں کی حفاظت کرنا تھا ۔ اس آپریشن نے ایک واضح پیغام بھیجا کہ اگرچہ پاکستان امن کے لیے پرعزم ہے لیکن کسی بھی جارحیت کا سخت اور متناسب جواب دیا جائے گا ۔

پاکستان کی مسلح افواج انتہائی پروفیشنل ہیں اور اندرونی اور بیرونی تمام خطرات سے ملک کا دفاع کرنے کے لیے وقف ہیں ۔ ریاست دہشت گردی کے تئیں زیرو ٹالرینس کی پالیسی رکھتی ہے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے ۔بھارت اور پاکستان دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کی حیثیت سے 1.6 ارب سے زائد افراد کی سلامتی اور مستقبل کے لیے ذمہ دار ہیں ۔ یہاں جنگ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے باہمی پختگی ، بات چیت اور عزم کی ضرورت ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں پرتشدد واقعات گاہے بگاہے سامنے آتے رہتے ہیں ۔ ان اہم واقعات میں سے ایک ، جو آجکل میڈیا پلیٹ فارمز اور سیاسی تجزیہ کاروں کے درمیان وسیع بحث کا موضوع ہے ، پہلگام کا واقعہ ہے ۔ بہت سے ناقدین اور مبصرین نے اسے فالس فلیگ آپریشن کے طور پر بیان کیا ہے جسے مبینہ طور پر ہندوستان نے پاکستان اور کشمیر کی آزادی کی تحریک کو بدنام کرنے کے لیے ترتیب دیا تھا ۔

اگرچہ اس واقعے کے بارے میں بہت سی تفصیلات غیر یقینی ہیں لیکن اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں سیاحوں پر حملہ کیا گیا تھا ۔ ہندوستانی حکام نے مکمل تحقیقات کیے بغیر فوری طور پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا ۔ اس بیانیے کو روایتی ہندوستانی میڈیا نے تیزی سے اچھالنا شروع کر دیا اور قوم پرست جوش و خروش کو ہوا ملی ۔ تاہم ، صحافیوں اور بین الاقوامی مبصرین نے حقائق کے سرکاری ورژن پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے اس واقعے کے وقت پر روشنی ڈالی جو کہ امریکہ کے نائب صدر کے ہندوستان کے دورے اور وزیر اعظم مودی کے سعودی عرب کے دورے جیسے اہم سفارتی مواقع کے درمیان رچایا گیا تھا۔ ناقدین کے مطابق ایسے مواقع پر ایسے ڈرامے رچا کر ہندوستان کا مقصد پاکستان اور کشمیر کے باسیوں کو دہشتگرد ظاہر کرانا تھا ۔

آزاد تفتیش کاروں اور بین الاقوامی میڈیا تک رسائی مبینہ طور پر محدود تھی ، جس سے شفافیت کے بارے میں خدشات مزید بڑھ جاتے ہیں ۔ تجزیہ کاروں نے اس اور اس سے پچھلے متنازعہ واقعات کے درمیان مماثلت کا ذکر بھی کیا جن کے بعد کشمیر میں بھارتی ظلم وستم اور پاکستان کے ساتھ بھارتی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔تحریک کشمیر کے رہنماؤں اور حامیوں نے تشدد کی شدید مذمت کی اور اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کی جدوجہد بین الاقوامی حقوق اور عدم تشدد والی مزاحمت پر مبنی ہے اور تصدیق کی کہ اس طرح کے حملے صرف بین الاقوامی برادری کی نظر میں ان کے جائز مقصد کو کمزور کرنے کے لیے رچائے جاتے ہیں ۔ پاکستانی حکومت نے بھی اس واقعے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی اور ہندوستانی الزامات کو سیاسی ڈرامہ بازی قرار دیا اور غیر جانبدارانہ بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔

فالس فلیگ آپریشنز کا تصور نیا نہیں ہے اور اسے دنیا بھر کی کئی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مختلف جغرافیائی سیاسی سیاق و سباق میں ترتیب دیا ہے ۔ جنوبی ایشیا میں ، ہائی پروفائل کے واقعات کے بعد ، جہاں سرکاری بیانیے کو بعد میں تفتیشی صحافیوں نے چیلنج کیا تھا ، اس خیال نے زور پکڑا ہے ۔ کشمیر جیسے تنازعات والے علاقوں میں شفافیت اور جواب دہی کے مطالبات اہم ہیں ۔ تاہم ، ہندوستان نے پہلگام واقعے کی آزادانہ تحقیقات کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور اس کی جگہ ، پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں متعدد مقامات پر جوابی کارروائی کے لیے حملے کیے اور انہیں عسکریت پسندوں کے مراکز قرار دیا ۔ ان اقدامات نے پاکستانی آبادی میں بڑے پیمانے پر غصے کو جنم دیا ۔ جواب میں ، سول قیادت اور فوج نے عہد کیا کہ وہ ملک کی خودمختاری کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور بے گناہ شہریوں کے خون کا سختی سے جواب دیں گے ۔

10 مئی 2025 کو پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز کیا جو عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے “سیسہ پلائی ہوئی دیوار ” ۔ یہ باریکی سے منصوبہ بند اور تیز رفتار جوابی فوجی کارروائی پاکستان کے اہم بیسز اور شہروں پر ہندوستان کے میزائل اور ڈرون حملوں کا براہ راست جواب تھا ۔ اس آپریشن نے نہ صرف ایک فیصلہ کن جوابی اقدام کی نشاندہی کی بلکہ پاکستان کی فوجی تیاری اور عزم پر زور دیتے ہوئے ایک اسٹریٹجک پیغام کے طور پر بھی کام کیا ۔اس آپریشن کی بنیاد بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور ذمہ داری اور انصاف کے بڑھتے ہوئے مطالبات کے تناظر میں قائم کی گئی تھی ۔ 2025 کے آغاز تک ، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات تیزی سے خراب ہو چکے تھے جو سرحدی جھڑپوں ، سائبر حملوں اور بڑھتے ہوئے سفارتی تناؤ کی وجہ سے کشیدہ تھے ۔ یہ بحران اس وقت ایک نازک موڑ پر پہنچ گیا جب ہندوستان نے پاکستان کی فوجی تنصیبات اور شہری مراکز پر میزائلوں اور ڈرونز کے ساتھ مربوط حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ۔ ان حملوں کے نتیجے میں فوجی اہلکار اور عام شہری زخمی ہوئے اور شہادتیں بھی ہوئیں، جس پر پورے پاکستان میں بڑے پیمانے پر غصے کا اظہار کیا گیا ۔

حملے کے جواب میں جنرل عاصم منیر کی کمان میں پاکستان کی فوج نے فوری ردعمل کے منصوبے کو فعال کیا ۔ آپریشن بنیان المرصوص کا نام قرآن کی طاقتور تصاویر کو اجاگر کرنے کے لیے رکھا گیا تھا جو اتحاد ، لچک اور اٹوٹ عزم کی علامت ہے ۔ یہ نہ صرف ایک فوجی ردعمل بلکہ بیرونی جارحیت کے خلاف ایک مربوط قومی موقف کی نمائندگی بھی کرتا ہے ۔ اگرچہ یہ جوابی نوعیت کا تھا مگر اس آپریشن کو متعدد تہوں کے اسٹریٹجک نظریے کی حمایت حاصل تھی ۔اس کا بنیادی مقصد ہندوستان کے بنیادی فوجی ڈھانچے کو متناسب نقصان پہنچانا ، پاکستان کی یقینی اور منظم جوابی کارروائی کی صلاحیت کا مظاہرہ کرکے ڈیٹرینس کو مضبوط کرنا تھا ۔ دوسرا ، اس کا مقصد ان کلیدی فوجی تنصیبات پر حملہ کرکے ہندوستان کی مبینہ فضائی برتری کو چیلنج کرنا تھا جہاں سے پاکستان کے معصوم شہریوں پر حملے کیے گیے تھے ۔ تیسرا مقصد سائبر اور الیکٹرانک جنگ میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو پیش کرنا تھا ، جس سے تکنیکی طور پر پاکستان کے دشمنوں کو واضح انتباہ بھیجا گیا ۔ آخر کار ، اس آپریشن کی ایک نفسیاتی جہت تھی ، جس کا مقصد اندرونی اخلاقیات کو بلند کرنا اور بین الاقوامی برادری کو یہ اشارہ دینا تھا کہ پاکستان کسی قسم کی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا حق رکھتا یے۔

عمل درآمد تیز ، مربوط اور حکمت عملی کے حساب سے کیا گیا تھا ۔ ہندوستانی حملوں کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ، پاکستانی فضائیہ نے پٹھان کوٹ ، ادھم پور اور راجوری سیکٹر میں ہندوستانی فوجی مقامات پر ٹارگٹڈ جوابی حملے کیے ۔ ان حملوں میں بیسز اور میزائل ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ہندوستان کی فوری حملہ کرنے کی صلاحیت کو کم کیا جا سکے ۔اس کے ساتھ ہی پاکستان نے ایک وسیع سائبر حملہ شروع کیا ۔ سائبر یونٹس نے بھرپور کام کیا اور ہندوستان کے اہم اور بنیادی ڈیجیٹل ڈھانچے کو متاثر کیا ۔ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ، بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) اور مختلف خفیہ ایجنسیوں کی سرکاری ویب سائٹس کو غیر فعال یا منجمد کیا گیا۔ یہ حملے علامتی اشاروں سے بالاتر تھے اور انہوں نے دشمن کی مواصلات میں خلل ڈالنے اور آپریشنل ہم آہنگی اور پروپیگنڈا چینلز کو کمزور کرنے کا کام کیا ۔

متوازی طور پر ، سماجی نیٹ ورکس کے ذریعے نفسیاتی جنگ کی ایک مہم شروع کی گئی ، جس میں ہندوستان کے اندرونی عدم اطمینان کو اجاگر کیا گیا اور ہندوستانی حملوں سے پیدا ہونے والی کمزوریوں کو بے نقاب کیا گیا ۔ پاکستان کے میڈیا نے بین الاقوامی سامعین تک لچک اور فوجی صلاحیت کے پیغامات نشر کرتے ہوئے داخلی حمایت میں کلیدی کردار ادا کیا ۔آپریشن بنیان المرصوص کو بڑے پیمانے پر پاکستان کے لیے حکمت عملی اور نفسیاتی لحاظ سے ایک کامیابی سمجھا جاتا ہے ۔ میدان جنگ میں اس نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے جدید حملے کی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر متاثر کیا جہاں سے پاکستان پر حملے کیے گئے تھے ۔ نقصان کو کم کرنے ظاہر کرنے کی ہندوستان کی کوششوں کے باوجود ، سیٹلائٹ انٹیلی جنس نے ثابت کیا کہ کئی فوجی تنصیبات جزوی طور پر غیر فعال کر دی گئی تھیں۔ پاکستان نے گنجان آباد علاقوں اور شہریوں کے نقصان سے بچنے میں قابل ذکر اعتدال کا مظاہرہ کیا ۔

حکمت عملی کے لحاظ سے چین کی معاونت اور ملکی طور ہر تیار کردہ فضائی دفاعی نظام کے امتزاج کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی طرف سے ہندوستان کی میزائلوں کی بارش کے ایک بڑے حصے کو روکنے سے ایک قابل فوجی طاقت کے طور پر اس کی ساکھ میں اضافہ ہوا ۔ آپریشن کی سائبر جہت نے بین الاقوامی توجہ مبذول کروائی ہے ، تجزیہ کاروں نے اسے جنوبی ایشیا کی فوجی تاریخ کی سب سے مربوط سائبر مہموں میں سے ایک قرار دیا ہے ۔ انہوں نے ہائبرڈ جنگ میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی مسابقت کی طرف اشارہ کیا ۔اہم بات یہ ہے کہ اس آپریشن نے دونوں حریفوں کے درمیان اسٹریٹجک مساوات کو دوبارہ متوازن کیا۔ پاکستان کے ردعمل کی رفتار ، شدت اور درستگی کا سامنا کرتے ہوئے ہندوستان چوبیس گھنٹوں کے اندر جنگ بندی کرنے پر مجبور ہوا ۔

آپریشن بنیان المرصوص نے علاقائی سلامتی کے تناظر میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کی ۔ اس نے ثابت کیا کہ جدید جنگ کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں ہائبرڈ اور غیر متناسب ردعمل کے لیے قابل اعتماد صلاحیتوں کے بغیر روایتی ڈیٹرینس ناکافی ہے ۔ پاکستان کے کثیر جہتی قوت کے فیصلہ کن مظاہرے نے نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی مبصرین کو بھی جو جنوبی ایشیا میں طاقت کے نازک توازن کی نگرانی کرتے ہیں کو اہم پیغام دیا ۔ سفارتی نقطہ نظر سے اس کارروائی نے کشیدگی کم کرنے کے بین الاقوامی مطالبات میں اضافے کو جنم دیا ۔ پاکستان نے اس موقع پر اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) جیسے عالمی پلیٹ فارمز پر ہندوستان کی جارحیت کو اجاگر کیا اور اپنی خودمختاری کے دفاع میں کام کرنے کے اپنے موقف کی تصدیق کی ۔ “بنیان المرصوص” پاکستان میں ایک قومی علامت بن گیا ، جسے میڈیا اور عوامی گفتگو میں اتحاد ، لچک اور اسٹریٹجک عزم کی ایک طاقتور نشانی کے طور پر منایا جا رہا ہے ۔ اس نے عوام کو متحد کرنے اور بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کا کام کیا ۔

ہندوستان کے ساتھ حالیہ تنازعہ کے دوران پاکستانیوں نے فوجی کارکردگی کو فخر اور سکون کے احساس کے ساتھ دیکھا ۔ اسے اکیسویں صدی کی سب سے بڑی فضائی لڑائیوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے ، جس میں 112 طیارے شامل تھے جو جدید ٹیکنالوجی (بی وی آر) سے لیس تھے جن کا پاکستان نے فیصلہ کن فائدہ اٹھایا ۔ جب کہ ہندوستان نے مبینہ طور پر تین رافیل طیاروں سمیت پانچ لڑاکا طیارے کھوئے تو دوسری طرف پاکستان فضائی لڑائی میں کسی طیارے کے نقصان کے بغیر ایک اہم فضائی قوت کے طور پر ابھرا ۔پاکستانی فضائیہ نے خطے کی تاریخ کے سب سے بڑے ڈرون حملے کا بھی کامیابی سے مقابلہ کیا ، سافٹ کل اور ہارڈ کل کے طریقوں کے امتزاج کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کے 77 ڈرونز کو بے اثر کردیا ۔ اس کے علاوہ ، پاکستانی ایئر ڈیفنس نے تکنیکی طور پر جدید براہموس سمیت متعدد بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا ۔ ہائپرسونک رفتار اور درستگی کے باوجود براہموس میزائلوں کی اکثریت کو تباہ یا ناکارہ کر دیا گیا ، جو پاکستان کے فضائی دفاع کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے ۔

ہندوستان نے نو مقامات پر حملے کیے ، جبکہ پاکستان نے ہندوستان بھر میں 26 اسٹریٹجک مقامات پر حملے کرکے تکنیکی مہارت اور آپریشنل اعتماد کا مظاہرہ کیا ۔ اس تنازعے نے پاکستان کی اپنے مشرقی اور مغربی محاذوں پر مؤثر طریقے سے لڑنے کی صلاحیت کو تقویت بخشی ۔ متناسب ردعمل کو محدود کرنے کے بجائے ، پاکستان نے اپنی حکمت عملی کو بڑھایا ، دفاعی اور جارحانہ کارروائیوں کو حساب کتاب درستگی کے ساتھ انجام دیا ۔پاکستان کی فوج ، فضائیہ اور بحریہ کی مشترکہ قوت لاجواب تھی ۔ تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ اگر پاکستان اس طرح کی فوجی صلاحیت اور اعتدال کا مظاہرہ نہ کرتا تو تنازعہ بے قابو ہو کر مزید ہھیل سکتا تھا ۔ طاقت کے مظاہرے نے مزید کشیدگی کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا ، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑے پیمانے پر جنگ کی سپیس نہیں ہے اور یہ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی ناقابل قبول یے ۔

سفارتی شعبے میں پاکستان نے بین الاقوامی حمایت کھوئے بغیر بحران سے نمٹا ۔ خدشات کے باوجود آئی ایم ایف نے اپنا مالیاتی عمل نہیں روکا جو پاکستان کی اقتصادی رفتار پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے ۔ جبکہ عالمی طاقتوں نے اعتدال پسندی کا مطالبہ کیا ، پاکستان نے اہم اتحادیوں ، خاص طور پر چین اور ترکی کی حمایت حاصل کی ۔ بدلے میں ، اسرائیل، جسے مسلم دنیا میں بڑے پیمانے پر نظریاتی طور پر دشمن کے طور پر دیکھا جاتا ہے، نے بھارت کی بھرپور مدد کی اور جدید ڈرونز اور فوجی مدد فراہم کی ۔ اس کے باوجود ، مغرب کا وسیع تر ردعمل غیر جانبداری کی طرف مائل ہوا ، جس سے ہندوستان کا خود کا مغربی ترجیحی اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر تصور کمزور ہوا ۔

قومی سطح پر اس تنازعہ نے ہندوستان میں جڑیں رکھنے والے مسائل اور مسلمانوں اور شہریوں سمیت اقلیتوں کے ساتھ اس کے سلوک کو بے نقاب کر دیا ۔ اس نے بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ مبذول کروائی ۔ اس کے برعکس ، پاکستان نے اندرونی طور پر متحد ہونے کا ثبوت دیا کیونکہ سیاسی تقسیم کم ہو گئی اور قومی یکجہتی کو تقویت ملی ۔دستاویزی شواہد پر مبنی پاکستان کے بیانیے نے ساکھ حاصل کی ، جبکہ ہندوستان کے الزامات کو بے بنیاد یا من گھڑت قرار دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ اس سے پاکستان کو دہشت گردی کے ریاستی کفیل ہونے کے الزامات سے چھٹکارا پانے کا موقع بھی ملا ہے ۔ بدلے میں بلوچستان ، خیبر پختونخوا اور دیگر خطوں میں عدم استحکام پیدا کرنے والے عناصر کی حمایت کرنے پر ہندوستان کو جانچ پڑتال کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس سے بین الاقوامی تاثر میں ایک نمایاں تبدیلی آئی ۔

علاقائی سطح پر تنازعہ نے جغرافیائی سیاسی حرکیات کو دوبارہ تشکیل دیا ۔ عالمی سفارت کاری میں پاکستان کو “غیر مستحکم” کرنے کی ہندوستان کی کوششوں کو مؤثر طریقے سے شکست ہوئی ہے ۔ مسئلہ کشمیر ، جو ایک کونے پر چلا گیا تھا ، نئی اور فوری اہمیت کے ساتھ بین الاقوامی گفتگو میں دوبارہ داخل ہوا ۔ ہندوستان کے دفاعی نظام اور ڈیٹرنس کو ذلت و رسوائی ملی کیونکہ پاکستان نے ہندوستان کے حملوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا اور اپنے اسٹریٹجک تسلط کی تصدیق کی ۔پاکستانی فضائیہ کے حملے کے بعد کی بریفنگ ایک اہم لمحہ بن گئی۔ صرف دعوے نہیں کیے گئے بلکہ ایسے اعداد و شمار پیش کئے گئے جن کی ریڈار رجسٹر ، سیٹلائٹ کی تصاویر ، جیمنگ سگنلز اور میزائل میپنگ سے تصدیق کی جا سکتی یے۔ آدم پور میں ہندوستان کے فضائی دفاعی نظام ایس-400 کو اس وقت ٹارگٹ کیا گیا جب رافیل جیٹ طیارے مبینہ طور پر متحرک تھے لیکن وہ متنازعہ فضائی حدود میں مؤثر طریقے سے حصہ نہیں لے سکے ۔ ہندوستان کی کمان اور کنٹرول کے سیٹلائٹ روابط کو روک دیا گیا تھا ، جس نے لائن آف ویژن (بی ایل او ایس) سے باہر اس کی ہم آہنگی کو مفلوج کر دیا اور اس کے آپریشنل نیٹ ورک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ۔

ہندوستانی ڈرونز کو الیکٹرانک طور پر اندھا کر دیا گیا یا تباہ کر دیا گیا ۔ تصدیق شدہ نقصانات میں ایک رافیل اور ایک ایس یو-30 ایم کے آئی شامل تھا ، جس کا ملبہ ہندوستان کے علاقے میں فلمایا گیا تھا ۔ SCALP-EG کے ہیڈ دھماکہ خیز مواد پاکستان کے علاقے میں گرے ۔ بھارت کے فائر کیے گئے کئی میزائل ناکام ہو گئے یا اس کی اپنی سرحدوں کے اندر ہی گر کر تباہ ہو گئے ، بھٹنڈا میں ایک فرانسیسی ایم 88 انجن اور اکھنور کے جنگلات میں بکھرے ہوئے روسی اے ایل-31 ایف پی انجن کی باقیات ملی ہیں ۔ چین کے میزر ویژن کی سیٹلائٹ انٹیلی جنس نے اس بات کی تصدیق کی کہ نور خان ہوائی اڈے پر ہندوستانی حملوں نے کم سے کم نقصان پہنچایا اور صرف چند گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

دریں اثنا ، پاکستان کے درست حملوں نے 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ، جن میں باس میں براہموس کے گودام اور برنالہ میں کمانڈ مراکز شامل ہیں ۔ پاکستانی بحریہ نے آبدوزوں پر غلبہ حاصل کیا اور ہندوستانی آبدوزوں کو ابھرے بغیر ٹریک کیا ۔یہ سب ایک پیمائش شدہ اعتدال کے ساتھ کیا گیا تھا ۔ جب کہ پاکستان نے میدان جنگ کے بیانیے پر قابو پانے کی تصدیق کی تو ہندوستان نے سفارتی طور پر امریکہ سے رابطہ کیا ، سعودی عرب سے اپیل کی اور جنگ بندی کروانے کی دہائیاں دینے لگا ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک عوامی تبصرے نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی شکل دے دی ، جو پاکستان کے اہم اسٹریٹجک مقاصد سے ہم آہنگ تھا ۔ہندوستان کا ناکام “آپریشن سندور” حساب کتاب کی غلطی پر ایک مضحکہ خیز کیس سٹڈی بن گیا ۔ یہاں تک کہ ہندوستان کے دفاعی ماہرین، جیسے کہ فوج کے ریٹائرڈ افسر پروین ساوہنی، نے تربیت ، اسٹریٹجک سوچ اور عمل درآمد میں پاکستان کی برتری کو تسلیم کیا ۔

ہندوستان کی پانی کو کنٹرول کرنے کی کوششیں بری طرح ناکام ہو گئی ، بگلیہار ڈیم کے گیٹس کسی بھی سوچی سمجھی حکمت عملی کے بجائے ہائیڈرولوجیکل گھبراہٹ کی وجہ سے زیادہ پانی چھوڑ گئے ۔ پاکستان نے نہ صرف اپنا دفاع کیا ، بلکہ کئی اہم سنگ میل عبور کیے، جنگ کے متعدد علاقوں کو کنٹرول کیا اور ان حالات کو تشکیل دیا جن کے تحت تنازعہ قابو میں رہا ۔ دہلی کی جارحیت اس کے ہی گلے پڑ گئی، اس کی اسٹاک مارکیٹیں اس افراتفری میں ڈوب گئیں اور اس کے ذرائع ابلاغ نے نتائج کو چھپانے کے لیے اپنی ہی لوگوں کو دھوکہ دینے کا سہارا لیا ۔ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ پاکستان نے تمام شعبوں میں بھارت کو بری طرح مات دی۔جارحیت کی حالیہ مثالوں نے پاکستان کے اندر اپنی فوجی صلاحیتوں کوںمزید مضبوط بنانے کے لیے مطالبات کو دوبارہ زندہ کیا ہے ۔تیزی سے اتار چڑھاؤ والے علاقائی ماحول میں ایک مضبوط اور اچھی طرح سے تیار فوج نہ صرف ایک اسٹریٹجک اثاثہ ہے ، بلکہ قومی خودمختاری کے تحفظ ، علاقائی استحکام کے تحفظ اور قابل اعتماد عدم استحکام کے ذریعے امن قائم کرنے کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے ۔ یہ ہندوستان کے ساتھ حالیہ تصادم اور اس پر پاکستان کے تیز رفتار اور مربوط ردعمل سے حاصل ہونے والے سب سے اہم اسباق میں سے ایک ہے ۔

پاکستان کی فوجی صلاحیت انتہائی اہم ہے ۔ ایک قابل اعتماد اور جدید ترین دفاعی قوت بیرونی خطرات کے خلاف روک تھام کی پہلی لائن ہے ۔ اگرچہ پاکستان کا جوہری ہتھیار ایک اسٹریٹجک ڈھال کے طور پر کام کرتا ہے ، لیکن کم شدت والے تنازعات ، بارڈرز کی کشیدگی اور ہائبرڈ وارفیئر کا مقابلہ کرنے کے لیے روایتی فوجی قوت ضروری ہے جو ایسے خطرات ہیں جو جوہری تناؤ سے دور ہیں لیکن پھر بھی خطے کو غیر مستحکم کر سکتے ہیں ۔اپنے دفاعی شعبے میں ہندوستان کی اہم سرمایہ کاری،جو جدید لڑاکا طیاروں اور میزائل نظام سے لے کر بحری توسیع تک ہے، بتدریج علاقائی فوجی توازن کو تبدیل کر رہی ہے ۔ اسٹریٹجک برابری برقرار رکھنے اور علاقائی توازن کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کو اپنی فوجی صلاحیتوں کو جدید بنانے کو ترجیح دینی چاہیے ۔ اس میں روایتی قوتیں ، سائبرنیٹک یونٹس اور انٹیلیجنس اور جدید نگرانی کے نظام شامل ہیں ۔

کشمیر میں جاری کشیدگی اور سائبر حملوں اور غلط معلومات کی مہمات سمیت ہائبرڈ جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ، پاکستان کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس کی مسلح افواج نہ صرف علاقے کے دفاع کے لیے بلکہ ڈیجیٹل اور کمپیوٹر ڈومینز میں مؤثر طریقے سے کام کرنے کے لیے بھی لیس ہوں ۔ فوج قومی سلامتی اور بلوچستان میں شورش کا مقابلہ کرنے ، قبائلی علاقوں کو مستحکم کرنے یا سرحدی سلامتی اور اندرونی خطرات سے نمٹنے میں بھی مرکزی کردار ادا کرتی ہے ۔اس کے علاوہ ، ایک مضبوط فوج بین الاقوامی سفارت کاری میں پاکستان کی پوزیشن کو بہتر بناتی ہے ۔ اقوام کا قابل اعتماد دفاعی صلاحیتوں والی ریاست کے ساتھ سنجیدگی سے سمجھوتہ کرنے کا زیادہ امکان ہے ۔ اس لیے فوجی قوت پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ایک اہم ستون کے طور پر کام کرتی ہے، خاص طور پر اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) جیسے پلیٹ فارمز پر ۔

تاہم ، فوجی جدت کاری کا راستہ چیلنجوں سے مستثنی نہیں ہے ۔ پاکستان کی معاشی حدود ایک اہم رکاوٹ کی نمائندگی کرتی ہیں ، جس میں دفاعی اخراجات اور سماجی ترقی کے درمیان محتاط توازن کی ضرورت ہوتی ہے ۔ قومی دفاع کی محدود پیداوار غیر ملکی سپلائرز پر انحصار میں اضافہ کرتی ہے ، جس سے ملک کو فوری طور پر جغرافیائی سیاسی دباؤ اور ممکنہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ارتقاء میں عالمی منظر نامے، مثلاً ہندوستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتی دفاعی شراکت داری، پاکستان کے لیے اپنے اسٹریٹجک اتحادوں کو بڑھانا اور متنوع بنانا ضروری بناتے ہیں ۔ چین اور ترکی جیسے بڑے شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے بلکہ مشترکہ تربیت ، انٹیلیجنس کے تبادلے اور باہمی تعاون کے لیے بھی ضروری ہے ۔

ایک لچکدار قومی دفاعی صنعت کی ترقی بھی اتنی ہی اہم ہے ۔ درآمدات پر انحصار کم کرنے اور اختراع کو فروغ دینے سے قومی خود کفالت اور لچک میں بہتری آئے گی ۔ مزید برآں ، غیر روایتی فوجی ڈومینز جیسے سائبر وارفیئر ، مصنوعی ذہانت اور خلا پر مبنی نگرانی کے نظام میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ۔ سیاسی دور میں دفاع کی ترجیحات پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا تسلسل اور اسٹریٹجک ہم آہنگی کی ضمانت کے لیے اہم ہے ۔جیسا کہ جنوبی ایشیا اہم جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا ہے تو یہ اور شدت سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان کے لیے قابل اور جدید فوج لگژری نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے ۔ ہندوستان کے ساتھ حالیہ تنازعہ نے تیاری ، لچک اور اسٹریٹجک دور اندیشی کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ اگرچہ جنگ ایک ناپسندیدہ فعل بنی ہوئی ہے ، لیکن پائیدار امن کی تعمیر طاقت کی بنیاد پر ہونی چاہیے ۔ ایک جدید اور اچھی طرح سے لیس فوج اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ پاکستان اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے ، اپنی خودمختاری کو برقرار رکھ سکتا ہے اور طویل مدت تک خطے میں امن و استحکام میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے ۔ پاکستان کے عوام تمام محاذوں پر کامیابی کے ساتھ ہندوستانی فوج کا مقابلہ کرنے میں پاکستانی فوج کے نمایاں کردار کی دل کی گہرائیوں سے تعریف کرتے ہیں ۔ عوام کی شدید خواہش ہے کہ مسلح افواج مستقبل کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے اور بھی زیادہ طاقتور ، جدید اور اچھی طرح سے لیس ہوں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں