آپریشن بنیان مرصوص کے بعد بھارت کا “سندور” مٹ گیا ، امریکی صدر کا بھارت میں آئی فون پروڈکشن بند کرنے کا مطالبہ

51

تحریر: محمد رفیع
جنوبی ایشیا اس وقت ایک نئی سفارتی اور عسکری کشمکش کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مگر اس بار یہ کشمکش صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی قوتیں بھی کھل کر اس منظرنامے کا حصہ بن چکی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلامی دنیا کے حالیہ دورے کے دوران قطر میں ایک چونکا دینے والا بیان دے کر بین الاقوامی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے ایپل کمپنی کے سی ای او ٹم کک سے کہا کہ وہ بھارت میں آئی فون کی تیاری بند کر دیں کیونکہ بھارت اپنا خیال خود رکھ سکتا ہے۔ ان کے بقول، امریکی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات امریکہ میں تیار کرنی چاہییں، نہ کہ بھارت جیسے ممالک میں۔ یہ بیان محض تجارتی پالیسی کی نمائندگی نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست کے بدلتے ھوئے منظرنامے کی ایک جھلک ہے۔ جس میں بھارت واضع طور پر دباؤ کا شکار نظر آرہا ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ۔ جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے ۔ 22 اپریل کو پہلگام میں نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے 26 افراد ہلاک ھوئے ،جس کا الزام بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر لگا دیا۔جواب میں بھارت نے “آپریشن سندور” کے نام پر پاکستان کے نو مختلف مقامات پر حملے کیے، جن میں مساجد اور شہری آبادیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی افواج نے فوری اور بھر پور جوابی کارروائی کرتے ہوئے “آپریشن بنیان مرصوص” کے تحت بھارت کے 28 عسکری مراکز کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں پاکستان ایئر فورس نے تاریخ رقم کرتے ھوئے چھ بھارتی جنگی طیارے تباہ کیے، جن میں تین جدید ترین رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ اس فیصلہ کن ردعمل کے بعد بھارت۔ جس نے جارحیت کا آغاز کیا تھا۔امریکی ثالثی کے بعد سیزفائر پر مجبور ھوا۔

امریکی صدر ٹرمپ کے بھارت پر یکے بعد دیگرے بیانات نے بھارتی پالیسی سازوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے ۔ اسلامی ملکوں کے دورے کے دورآن صرف پانچ دنوں میں چھ بار بھارت کا نام لیتے ھوئے صدر ٹرمپ نے نہ صرف آئی فون کی پروڈکشن پر سوال اٹھایا بلکہ یہ بھی دعوی’ کیا انہوں نے تجارتی مفادات کو استعمال کرتے ھوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیزفائر کروایا۔ ان بیانات پر بھارت کی مسلسل خاموشی خود کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ بھارت اس وقت دنیا بھر میں بننے والے ہر پانچ میں سے ایک آئی فون تیار کر رہا ہے اور امریکہ میں فروخت ہونے والے آئی فونز میں بھارت کی حصہ داری پچاس فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ مارچ 2024 سے مارچ 2025 کے درمیان بھارت سے 17.4 بلین ڈالر مالیت کے آئی فونز ایکسپورٹ کیے جا چکے ہیں۔ ایسے میں ٹرمپ کا بیان صرف ایپل پر دباؤ نہیں بلکہ بھارت کے لیے ایک ناپسندیدہ پیغام ہے۔

دوسری طرف چین نے بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے 27 مقامات کو چینی اور تبتی زبانوں میں نئے نام دے کر بھارت کو ایک اور محاذ پر الجھا دیا ہے۔ پہاڑ، درے، دریا اور جھیلیں سبھی کو چینی دعوے کے تحت لاکر ایک بڑا سفارتی پیغام دیا گیا ہے۔ جس سے بھارت مزید دباؤ میں آ گیا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کا توڑ کرنے کے لیے بھارت نے سات کل جماعتی وفود تشکیل دیے ہیں جو دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کر کے بھارت کے دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف کو اجاگر کریں گے۔ ان وفود کی قیادت ششی تھرور، روی شنکر پرساد، سپریا سولے، سنجے جھا، بیجینت پانڈا، کنیموزی کروناندھی اور شری کانت شندے جیسے نمایاں سیاسی رہنما کریں گے۔

بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس صورتحال میں مزید کشیدگی گھولتے ہوئے کہا ہے کہ “آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا، یہ تو صرف ٹریلر تھا، پوری فلم باقی ہے”۔ ان کا یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ بھارت کسی نئے عسکری ایڈونچر کی تیاری کر رہا ہے، جس کے ذریعے ایک بار پھر دہشت گردی کے بیانیے کو ہوا دے کر مسئلہ کشمیر سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ موجودہ منظرنامہ واضح طور پر بھارت کی اندرونی بوکھلاہٹ اور بین الاقوامی سطح پر اس کی پوزیشن کی غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کر رہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر بھرپور سفارتی مہم کا آغاز کرے، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر بھارت کو بے نقاب کرے، اور مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر عالمی ضمیر کے سامنے رکھے۔ میڈیا مہم، بین الاقوامی تعلقات اور مضبوط بیانیہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، تاکہ بھارت کی چالاکیوں کا پردہ فاش کیا جا سکے اور جنوبی ایشیا میں امن کو ایک پائیدار سمت دی جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں