آزاد کشمیر کی سیاست: لاشوں سے ووٹ تک

42

تحریر:ذوالفقار علی
اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں سیاست عوامی خدمت، اصولوں یا ہمدردی پر مبنی ہے تو معذرت کے ساتھ یا تو آپ بہت معصوم ہیں یا نیشنل جیوگرافک کی ڈاکیومنٹریز دیکھ کر کسی اور دنیا میں جا بسے ہیں۔آزاد کشمیر میں سیاست ایک ایسا خون آشام کھیل بن چکا ہے جہاں لاشیں محض انسانی سانحات نہیں رہتیں بلکہ ووٹ بنک میں بدل جاتی ہیں۔ شہادتیں قربانی نہیں، اشتہار بن جاتے ہیں، اور مرنے والوں کا غم ایک ایسا سیاسی تماشا بن جاتا ہے جسے کیش کروا کر ریٹنگز بڑھائی جاتی ہیں۔حالیہ بھارتی گولہ باری اور میزائل حملوں میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کو حکومت پاکستان کی طرف سے چیک تقسیم کیے گئے۔ آزاد کشمیر کے کچھ سیاست دانوں نے اسے مقامی تھیٹر میں بدل دیا جیسے کسی خاندان کی شادی میں دعوت نہ ملنے پر بزرگ آپس میں لڑ پڑیں۔

پاکستان کی حکومت نے پاکستان اور آزاد کشمیر میں انڈیا کے میزائل حملوں اور لائن آف کنٹرول پر انڈیا کی گولہ باری سے شہید ہونے والوں اور زخمیوں کے لیے معاوضے کا اعلان کیا۔پاکستان کے وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا ثناء اللہ فوری طور پر مظفرآباد پہنچے تاکہ متاثرین تک فوری طور پر امداد پہنچے اور اس میں تاخیر نہ ہو۔انہوں نے مظفرآباد اور وادی نیلم میں متاثرین میں چیک تقسیم کیے۔ مظفرآباد اور وادی نیلم کے دورے کے دوران ان کے ہمراہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے بعض سیاست دان بھی موجود تھے جو اس موقع کو اپنی سیاست کے لیے استعمال کرنے میں پیچھے نہ رہے۔ اگر یہ چیک مقامی ڈپٹی کمشنر کے ذریعے تقسیم کیے جاتے تو شاید ہی آزاد کشمیر کا کوئی سیاست دان اس موقع پر دکھائی دیتا۔ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے بعض سیاست دانوں نے اسلام آباد سے آئے مہمان کو یہ دکھانے کی کوشش کی کہ انہیں متاثرین کا بہت خیال ہے اور وہ حقیقی عوامی نمائندے ہیں۔

مقامی ووٹروں کو یہ باور کرانے کی بھی کوشش کی گئی کہ یہ ان ہی کی مہربانی ہے۔دوسری طرف پیپلز پارٹی کے وزرا نے اس پر ایسا ہنگامہ کھڑا کر دیا جیسے ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں پیسے آنے تھے اور کسی اور کو دے دیے گئے۔ اعتراض نہ اس پر تھا کہ چیک غلط لوگوں کو ملے، نہ اس پر کہ کم یا نااہلوں کو دیے گئے، بلکہ اصل اعتراض یہ تھا کہ کیمرے پر پرفارمنس کا موقع مسلم لیگ ن کو کیوں ملا۔پیپلز پارٹی کا شور شرابہ کچھ یوں تھا کہ گویا چیک تقسیم نہیں کیے گئے بلکہ کشمیر پر حملہ ہو گیا ہو۔ جیسے متاثرین کی مدد نہیں ہوئی بلکہ ان سے سیاسی تخت چھین لیا گیا ہو۔ وہ اسے مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی انتخابی مہم سمجھ بیٹھے اور حکومت پاکستان کی طرف سے کی گئی دلجوئی کو ایسا پیش کیا جیسے کوئی غیر ملکی مداخلت ہو گئی ہو۔

شاید اس لیے کہ کیمرہ کسی اور کا تھا اور فوٹو فریم میں وہ شامل نہیں تھے۔انتخابات اگلے سال جون یا جولائی میں ہونے ہیں۔ ابھی چودہ ماہ باقی ہیں لیکن رد عمل ایسا جیسے ووٹ آج ہی گنے جا رہے ہوں۔ ایک سانحہ پیش آیا، جانیں گئیں، لوگ زخمی ہوئے، ان کی مدد کی گئی، اور اسے بھی سیاست کی نظر سے دیکھا گیا۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا پیپلز پارٹی نے گزشتہ چار سالوں میں واقعی کچھ کیا؟ کیا اب صرف بتیس افراد اور سو سے زائد متاثرین کو ان کے بغیر معاوضہ ملنے سے پوری پارٹی ہل گئی؟ یا سچ یہ ہے کہ چار سال کی خاموشی کے بعد اب صرف شور ہی باقی ہے؟وہ یہ دعوی کرتے رہے کہ مقامی حکومت کو اطلاع نہیں دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کو اطلاع نہیں تھی تو ضلعی انتظامیہ وہاں کیسے موجود تھی؟حقیقت یہ ہے کہ ان کا اصل دکھ یہ تھا کہ انہیں چیک دینے کا سیاسی فائدہ نہیں مل سکا۔

مسلم لیگ ن نے بھی اس صورت حال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ آخر انتخابات قریب ہیں اور شہیدوں کی قبروں پر کھڑے ہو کر ووٹ مانگنے کی ریہرسل ابھی سے شروع ہو چکی ہے۔ کیا آزاد کشمیر کی مسلم لیگ ن، جو پیپلز پارٹی کی طرح مخلوط حکومت کا حصہ ہے، ان چیکوں کے علاوہ کچھ اور دکھانے کے قابل ہے؟دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کے وزیر اطلاعات اور وزیر امور کشمیر فوری طور پر آزاد کشمیر پہنچے۔ جنگ بندی کے بعد آزاد کشمیر کے وزیر صحت بھی آئے، لیکن پیپلز پارٹی کو ان پر اعتراض نہ ہوا کیونکہ وہ چیک بانٹنے نہیں آئے تھے۔ رانا ثناء اللہ پر اس لیے اعتراض ہوا کیونکہ انہوں نے چیک تقسیم کیے۔ وہ حکومت پاکستان کے نمائندے تھے، کسی سیاسی جماعت کے نہیں۔

اگر اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہوتی اور ان کے وزیر چیک تقسیم کرتے تو آزاد کشمیر کے پیپلز پارٹی کے سیاست دانوں کو کوئی اعتراض نہ ہوتا۔آزاد کشمیر کی مخلوط حکومت اس سارے منظرنامے میں ایک بار پھر بے نقاب ہو چکی ہے۔ ایک طرف پیپلز پارٹی ہے جو شہدا کے غم پر نہیں بلکہ اپنا بینر نہ لگنے پر دکھی ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن ہے جو ہر چیک کو انتخابی پرچی سمجھ رہی ہے۔ تیسری طرف پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک ہے، جو آزاد کشمیر حکومت کی امداد کے چیک متاثرین میں تقسیم کیے اور متاثرین سے خود پر پھول نچھاور کروارہے تھے جیسے لال قلعہ فتح کیا ہو۔پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کی سربراہی میں آزاد کشمیر کی مخلوط حکومت قائم ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس تمام تماشے میں سب سے زیادہ مظلوم وہ شہدا ہیں جن کے نام پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ ان کی قربانی، ان کے لواحقین کا دکھ، سب کچھ پس منظر میں چلا گیا ہے۔

پاکستان کی حکومت نے پہلی بار براہ راست امداد تقسیم کی، اور اس پر بھی آزاد کشمیر کے سیاست دانوں نے سیاست چمکانے کا موقع تلاش کیا۔ سن انیس سو نوے سے فروری دو ہزار اکیس تک لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی گولہ باری اور فائرنگ سے ہزاروں لوگ مارے گئے، زخمی ہوئے، یا معذور ہوئے، لیکن آزاد کشمیر کے سیاست دانوں نے شاذ و نادر ہی متاثرین کو دیکھا۔
حالیہ کشیدگی کے دوران بھی سیاست دانوں کا رویہ مختلف نہ تھا۔ ستائیس اپریل کو آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور صدر ہنستے مسکراتے تصویریں بنوا رہے تھے۔ تیس اپریل کو اسمبلی اجلاس میں قہقہے لگ رہے تھے اور اسی اجلاس میں متنازع قانون منظور کیا گیا جس کے تحت سیاسی رشوت کو قانونی حیثیت دی گئی۔ اسی اجلاس میں یہ دعوی بھی کیا گیا کہ ایک ارب روپے کا ایمرجنسی رسپانس فنڈ قائم کیا گیا جو کبھی حقیقت میں قائم نہ ہوا۔

چھ اور سات اپریل کو بھارت نے جب مظفرآباد اور کوٹلی پر میزائل برسائے تو آزاد کشمیر کی حکمران اشرافیہ اسلام آباد میں موجود تھی، اور وزیراعظم آزاد کشمیر بیس گھنٹے بعد مظفرآباد میں متاثرہ مقام پر پہنچے۔ آٹھ مئی کو جب بچے مر رہے تھے، اسمبلی ک اجلاس کے دوران قہقہے لگ رہے تھے۔جنگ شروع ہونے سے پہلے اور جنگ بندی کے بعد آزاد کشمیر کے سیاست دانوں نے لائن آف کنٹرول کے علاقوں کے دورے شروع کر دیے۔ چھتیس سال میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ سیاست دان متاثرہ علاقوں میں گئے۔ چھتیس سال کی غفلت کے بعد ان کو اچانک لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کی آوازیں سنائی دیں۔ یہ ہے آزاد کشمیر کی سیاست۔ اگر اسے سیاسی نالہ لئی کہا جائے تو شاید نالہ لئی بھی برا مان جائے۔ یہ سیاست دنیا کے سب سے گندے دریا سے بھی زیادہ آلودہ ہو چکی ہے۔

یہاں اصول، اخلاقیات اور ہمدردی صرف اس وقت تک موجود رہتے ہیں جب تک ان سے ووٹ یا کیمرہ حاصل ہو سکے۔ مرنے والوں کی قدر چیک کی رقم اور اس پر لگی سیاسی مہر سے ناپی جاتی ہے۔یہاں سیاست تصویروں سے سانس لیتی ہے، دعاؤں سے نہیں۔ لاشیں صرف پس منظر بنتی ہیں، اور انسانیت؟ وہ شاید کسی پریس ریلیز کی آخری سطر میں مرثیہ بن چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں