آزادکشمیر کالج ٹیچر ایسوسی ایشن کےانتخابات

54

تحری:رابعہ حسن، لیکچرر انگلش
ملازمین کی تنظیمیں سیاسی پارٹیاں نہیں ہوتیں بلکہ وہ اپنے تمام ملازمین کے حقوق کے تحفظ کی پاس دار ہوتی ہیں۔ کالج ٹیچرز ایسوسی ایشن بھی کالج اساتذہ کی ایسی ہی ایک نمائندہ تنظیم ہے ۔

مرکزی ایکٹا کے الیکشن2022 میں ہوے تھے جس کے نتیجے میں سردار فاروق گروپ(پائینیر) کے طارق سلیم شاہ نمایاں طور پر کامیاب ہو کر تین سال کے لیے کالج اساتذہ کے نمائندہ منتخب ہوے ۔ جو اپنی مدت انتخاب مکمل کر چکے ہیں۔ ایکٹا کے نئے انتخابات کی آمد آمد یے۔ اور اس کے ساتھ ہی کمیونٹی کا ماحول یوں لگ رہا۔ ہے کہ محاذ جنگ سج چکا ہے۔

اگر پروفیسر کمیونٹی کے وٹس ایپ گروپس کو دیکھا جاے تو انسان چند افراد کا سلیقہ گفتگو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ یہ انبیا کے ورثا کی زبان ہے ۔ اختلاف صحت مند معاشرے کا بنیادی جزو ہے۔ لیکن اختلاف کے وقت بھی آداب کو ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے۔ تنظیم کا انتخابی عمل کوئی سیاسی انتخابی عمل نہیں کہ کوئی ایک حکومت میں ا جاے گا اور جو رہ جاے گا خدانخواستہ وزارتوں سے محروم ہو جاے گا۔

اس سال بھی مقابلہ دو گروپس پائینر اور پروگریسیو ڈیموکریٹک گروپ کے درمیان ہے۔ پائینر گروپ میں صدر کے امیدوار دوبارہ سے پروفیسر طارق سلیم شاہ ہیں جبکہ پروگریسیو ڈیموکریٹک کے سربراہ پروفیسر چوہدری ایوب ہیں۔ ہر دو افراد کہنہ مشق شخصیات ہیں۔ پروگریسیو ڈیموکریٹک پروگریسیو اور ڈیموکریٹس کا مشترکہ گروپ ہے۔ ڈیمو کریٹکس بنیادی طور پر نوجوان اساتذہ پر مشتمل گروپ ہے جن کی اکثریت ایم فل اور پی ایچ ڈی ہے اور یہ کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے پرجوش دکھائی دیتے ہیں۔

راقمہ نے الیکشن سے قبل جنگی فضا کا ذکر کیا۔ اس جنگی فضا میں اس وقت خوف کی آمیزش دکھائی دیتی ہے جب بہت سے لوگ اپنے ووٹ کے بارے میں محض اس ڈر سے بھی نہیں بتانا چاہتے کہ جیتنے والا گروپ ان کا جینا حرام کر دے گا۔ ان کا ٹرانسفر دور کر دے گا یا ان کے دفتری کاموں میں روڑے اٹکانے جائیں گے ، ان کے لیے مشکلات کھڑی کی جائیں گی۔

24 مئی کی شام کو جو الیکشن جیتے گا وہ پروفیسرز کمیونٹی کا نمائندہ ہو گا۔ جمہوری عمل کے ذریعے کمیونٹی نے اس کو اپنی نمائندگی اور حقوق کی پاس داری کے لیے منتخب کیا۔ اب یہ اس پر لازم ہے کہ وہ مشترکہ مفادات کے لیے کام کرے۔

منتخب نمائندے کو جن باتوں کے لیے کوشاں ہو نا چاہے ان میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں۔
1.یکساں ٹرانسفر پالیسی کے نفاذ کی حتی الامکان تحریک۔
2. تعلیمی کانفرنسز کا انعقاد۔
3.اساتذہ کی ٹریننگز کے لیے ورک شاپس کورسز وغیرہ کے انعقاد کی تحریک۔ جن کا مطمع نظر تعلیمی نظام میں بہتری لانا ہو نہ کہ خانہ پری کے طور پر ہر جگہ چند ناموں کی رے پے ٹیشن۔
4۔ سروس سٹرکچر میں بہتری کی تحریک کی جاے۔
5۔ کمیونٹی کا سب سے متاثر ہونے والا طبقہ لیکچرز کا ہے۔ ان کی پروموشن و دیگر مسائل کو حل کرانے کی کوشش کی جاے۔
6.خواتین کے لیے ٹرانسفر کے وقت مقامیت اور ویڈ لاک پالیسی کو ام پلی منٹ کرایا جاے۔
7۔ کچھ اضلاع میں کالجز کی تعداد بہت کم ہے۔ وہاں مزید کالجز کی تحریک کی جاے۔ اور جہاں عملے کی کمی ہے وہاں پر پوزیشنز تخلیق کیے جانے کی کوشش کیجاے۔
8. ایچ بی اے کے مسائل حل کیے جائیں۔
9. جن اداروں میں بی ایس پروگرام چل رہا ہے وہاں پر تحریک کی جاے کہ آپ ٹو ڈیٹ لائبریرز اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں ۔10.ڈائریکٹ کوٹہ کو بحال کرانے میں کردار ادا کیا جاے۔ تاکہ ایم فل پی ایچ ڈی افراد کے لیے ترقی کے راستے کھولے جائیں۔

اور دیگر بہت ساری شقیں جو کہ کمیونٹی کے مشترکہ مفاد میں ہوں اس میں شامل کی جا سکتی ہیں۔

بڑی حیران کن بات ہے کہ پوری کمیونٹی میں سے بارہ ممبران ہر پینل میں موجود ہیں ۔مگر ان میں سے خواتین کے لیے صرف ایک ہی عہدہ۔ اور عمومی طور پر وہ ایک عہدہ بھی خالی جگہ فل کرنے کے لیے ہی دیا جاتا ہے۔ امید ہے کہ منتخب ہونے والی خاتون صدر واقعی خواتین کی نمایندہ بھی ہوں گی۔ اور ان کے حقوق کی جنگ بھی لڑے گی۔ ایک متحرک خاتون صدر کی ایک جاندار مثال ماضی میں خاتون صدر پروفیسر فرزانہ رسول ہیں۔ بہرحال مستقبل میں ضرورت کے پیش نظر خواتین اپنی الگ ایکٹا بھی بنا سکتی ہیں۔

ہمیں اپنج سوچوں کو جمہوری سانچے میں ڈھالنے کی ضرورت ہے، جہاں اختلاف راے کا مطلب مخالفت اور ذاتیات کے بخیے ادھیڑ نے بالکل نہیں۔

ناکامی اور کامیابی بہرحال مقابلے کا حصہ ہیں۔ میدان کار زار (جیسے کہ ماحول ہے) میں اترنے والے جیت کی امید کے ساتھ تو اترتے ہیں مگر ہارنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔

امید ہے الیکشن کے بعد کامیابی حاصل کرنے کی خوشی میں کامیاب ہونے والے نمایندے منشور اور وعدوں کو نہیں فراموش کریں گے جن کے بل بوتے پر وہ الیکشن جیتیں گے۔ اور تینوں سال کیمونٹی کی خدمت اور حقوق کی پاس داری کے لیے دستیاب رہیں گے۔ جیت اور ہار کے بعد بھی کمیونٹی کی وحدانیت ایک ہی رہے گی، اس کا مفاد مشرک رہے گا۔ اس لیے دست و گریباں ہونے کے بجاے جمہوری رویہ اپنانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں