تحریر:نعیم الحسن نعیم
آج 28 مئی ہے، ٹھیک 27 سال قبل آج ہی کا دن تھا کہ جب بلوچستان کے دور افتادہ علاقے چاغی کی سرزمین میں ارتعاش پیدا ہوا اور چاغی کے ایک سنگلاخ پہاڑ سے ریت دھواں بن کر اڑنے لگی۔ زمین میں پیدا ہونے والا یہ ارتعاش دراصل پاکستان کے ناقابل تسخیر دفاع کا اعلان تھا، یہ اس بات کا بھی اعلان تھا کہ اب جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن برابر ہوچکا ہے کیوں کہ یہ پاکستان کی جانب سے کیے گئے کامیاب ایٹمی دھماکوں کا اعلان تھا۔ان دھماکوں کے ساتھ نہ صرف پاکستان کو دنیا کی 7ویں اور مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل ہوا بلکہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے 11 اور 13 مئی 1998ء کو کیے گئے ایٹمی دھماکوں کا حساب بھی برابر کردیا تھا۔
1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی، 1974ء میں بھارت کی جانب سے کیے گئے ایٹمی تجربے اور پھر مئی 1998ء میں کیے جانے والے ایٹمی تجربوں کے بعد پاکستان کی بقا کو واقعی خطرات لاحق ہوچکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی جانب سے کیے گئے ایٹمی دھماکوں نے پاکستان کو یہ جواز اور موقع فراہم کیا کہ وہ بھی ایٹمی دھماکے کرکے دنیا کے سامنے اپنے ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کرے.قارئین کرام ہمیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستان نے جب اپنے جوہری پروگرام کا آغاز کا تھا اس وقت بھی پاکستان پر بیرونی دنیا کا دباﺅ کچھ کم نہ تھا۔ دنیا کا کوئی بھی ملک ہرگز ہرگز نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان جو ایک اسلامی مملکت ہے وہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول میں کامیاب ہو لیکن دھماکے کرنا اس سے بھی مشکل فیصلہ تھا۔
پاکستان نے دھماکہ کر دیا آسٹریلیا کی رسدگاہ نے ایٹمی دھماکہ ہونے کی تصدیق کر دی۔ پوری دنیا میں ایک کہرام مچ گیا۔ وہی دنیا جو کہ 17 دن سے ہندوستان کے ایٹمی دھماکے کرنے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔ تمام دنیا سفارتی آداب کو پس پشت ڈال کر امریکہ کی ہمنوا بن گئی اور جارحانہ سفارتکاری کے حملے شروع ہوگئے۔امریکہ اور اس کے گماشتے پاکستان کو بس ایک ہی نصیحت کرنے میں مصروف تھے کہ پاکستان ہندوستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پیداشدہ صورتحال میں صبروتحمل کا مظاہرہ کرے اور کسی جلد بازی سے کام نہ لے جب امریکہ کو اپنی تمام سفارتی کوشش بارآور ہوتی نظر نہ آئیں تو امریکہ نے ایک سفارتی وفد سٹروب ٹالبوٹ جو کہ اس وقت امریکہ کے نائب وزیر خارجہ تھے کی سربراہی میں پاکستان بھیجا.
جس میں وفد کے دوسرے ارکان کے علاوہ سنٹرل نمائندے کے کمانڈر انتھونی زین بھی شامل تھے۔ وفد پاکستانی قیادت کےلئے یہ پیغام لے کر آیا تھا کہ جس طرح کی مراعات چاہئے لو مگر ایٹمی دھماکوں سے باز رہو۔ مراعات اور ترغیبات میں بریسلر ترمیم کے خاتمہ سے لےکر کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد دینے کے پیغامات میں شامل تھے۔ نئے نئے اقتصادی پیکج، کہوٹہ لیبارٹری سے پابندیاں ہٹا دینے کا عندیہ بھی شامل تھا، جب پاکستانی قیادت کسی دباﺅ اور لالچ میں نہ آئی تو سنگین نتائج کی دھمکیاں آنی شروع ہوگئیں.پاکستان کی فضاﺅں میں امریکی سیارچے سرگرداں تھے اور زمین پر ذرا سی بھی جنبش کےلئے ہمہ تن گوش تھے۔ بلوچستان کا شہر چاغی اس وقت مرکز نگاہ بن چکا تھا۔
ہیلی کاپٹرز چاغی کی فضاﺅں میں محو پرواز تھے۔ سائنس دانوں کی ٹیمیں چاغی کے چٹیل میدانوں میں اتر چکی تھیں۔ آلات نصب کرنے اور ہر قسم کی تابکاری ماپنے والے آلات زمین کے سینہ میں گاڑے جاچکے تھے۔ دن کو خاموشی اور رات کے اندھیروں سے ایک نئی صبح طلوع کر دینے کے عزم سے سرشار سائنسدان پاکستان کو دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی مملکت بنانے میں لگے ہوئے تھے۔امریکہ سے آیا ہوا وفد مسٹر سٹروب ٹالبوٹ کی سربراہی میں امریکہ واپس چلا گیا۔ امریکی اخبارات کی شہ سرخیاں تھیں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان جوہری دھماکے کے حوالے سے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ اسی روز میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا .
جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کےلئے کسی بھی قسم کے دباﺅ کو خاطر میں نہیں لایا جائےگا اور وہی کچھ کیا جائے گا جو کہ ملک اور قوم کے مفاد میں ہے اور پاکستان اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔28 مئی دوپہر تین بجکر سولہ منٹ پر ایٹمی بٹن دبایا جاچکا تھا۔ چاغی نعرہ تکبیر۔ اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اُٹھا لوگ ایک دوسرے سے بغلگیر ہو رہے تھے۔ جیسے پاکستان ایک بار پھر معرضِ وجود میں آگیا ہو۔سائنس دانوں کی ٹیم خوشی سے جھوم اٹھی۔ پورا پاکستان خوشی کی لہر میں ڈوب گیا۔ مبارک بادیں اور اللہ کے حضور شکرانے کے نوافل۔عالمی برادری کو سخت مایوسی ہوئی پاکستان پر پابندیاں لگ گئیں۔ امریکہ، بھارت اور اسرائیل کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کی زد میں تھا کہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر کے اسے ہمیشہ ہمیشہ کےلئے نیست و نابود کر دیا جائے گا۔
پاکستان کے سر سے وہ خطرہ ہمیشہ ہمیشہ کےلئے ٹل گیا۔ پاکستان محفوظ ہوگیا۔ پاکستانی قیادت نے پاکستان کے عوام کے دلوں پر کان لگا کر اس خواہش اور آواز کو غور سے سنا جو کہ پاکستان کے عوام چاہتے تھے۔ دباﺅ ترغیبات، مراعات، لالچ، پیکج، پیشکش، دھمکیاں کچھ بھی تو ہماری غیور قیادت کو مجبور نہ کر سکا۔آج پاکستان کو نہ صرف ایک خوددار قیادت کی ضرورت ہے بلکہ ایسے بزرگوں کے مشوروں کی بھی ضرورت ہے جنہوں نے کہا تھا کہ اگر ابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں۔ جنہوں نے کہا تھا کہ دھماکہ کر دو وگرنہ قوم تمہارا دھماکہ کر دے گی۔خدا کا شکر کہ ایٹم بم کی تکمیل سے پاکستان کا دفاع مکمل اور ناقابل تسخیر ہوا۔ بھارت کو بھی سمجھ آ گئی کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا اب اتنا آسان نہیں۔
ہمارے ایٹمی اثاثے محفوظ مقام پر فوج کی حفاظت میں ہیں۔ کئی بار دنیا کی طرف سے سوال اٹھا۔ امریکہ نے بھی کئی بار شکوک و شبہات کا اظہارکیا کہ شاید ہمارے ایٹمی اثاثوں تک دہشت گردوں کی رسائی ہو سکتی ہے لیکن حکومت پاکستان خصوصاً عسکری قیادت نے دنیا کو باور کرایا کہ ایٹمی اثاثوں تک کسی کی بھی رسائی ممکن نہیں کیونکہ تمام ایٹمی اثاثے فوج کی تحویل اور حفاظت میں ہیں.28مئی جب بھی آتا ہے ہمیں ایک بہت ہی یادگار اور تاریخی دن کی یاد دلاتا ہے۔ یہ ہمارے سائنسدانوں کا ایک ایسا کارنامہ ہے جسے تاریخ اور قوم کبھی نہیں بھلا سکے گی۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ جو کارنامہ سرانجام دیا وہ رہتی دنیا تک یاد رہے گا ۔
ٹھیک تین دن بعد 28مئی ہماری بہت سی یادیں تازہ کرے گا۔ ہمیں تجدیدِ عہد کرنی چاہیے کہ ہم ملک کے امن، ترقی، بقا اور سلامتی کے لیے کسی سے بھی کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ہمیں ایٹم بم دے کر ہماری سلامتی کو ناقابل تسخیر بنانے والے ہمارے ہیرو ہیں۔ قوم ہمیشہ اُن کی مقروض رہے گی۔ ہم اپنے ان تمام قومی ہیروز کو 28مئی کے اس خصوصی موقع پر سلام پیش کرتے ہیں۔
یومِ تکبیر 2025 کیا محسنِ پاکستان کا یہ حق نہیں؟
28 مئی وہ دن جب پاکستان نے پوری دنیا کو بتا دیا کہ ہم زندہ قوم ہیں، اور اپنے دفاع کے لیے کسی کے محتاج نہیں۔
یہ وہ دن تھا جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی عظیم ٹیم نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا دیا ایک ایسا کارنامہ جو آج بھی دشمن کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ 2025 کی اصل حقیقت دشمن نے حملہ کیا، قوم نے جواب دیا آج جب ہم یومِ تکبیر منانے جا رہے ہیں، تو یہ محض ماضی کی یاد نہیں یہ حال کی سچائی بھی ہے۔
چند روز قبل، بھارت نے پاکستان پر میزائل اور ڈرونز سے حملہ کیا۔ دشمن کا خیال تھا کہ وہ ہمیں اس دنیا کے نقشے سے غائب کر دے گالیکن شاید وہ بھول گئے تھے کہ یہ نیا پاکستان ہے، ایٹمی پاکستان ہے!پاکستان آرمی، ایئر فورس، اور نیوی نے نہ صرف ان حملوں کو روکا بلکہ دشمن کو عبرت کا نشان بنا دیا:دشمن کے رافیل سمیت 5 لڑاکا طیارے گرائے گئےدشمن کا ایک بڑا ڈرون اور مزید 77 ڈرون تباہ کیے گئےدشمن کی ملٹری بیسز، ایئر ڈیفنس سسٹمز اور اہم تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیایہ کامیابی صرف میزائل یا ٹیکنالوجی کی نہیں یہ جذبے، قربانی اور شہداء اور قوم کی دعاؤں کی فتح تھی۔
یہ سب ممکن کیسے ہوا؟
کیونکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہمیں وہ طاقت دی، وہ ہمت دی، وہ ایٹمی شیلڈ دی جس کی بنیاد پر آج پاکستان اپنے دشمن کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا ہےاگر ہم ایٹمی طاقت نہ ہوتے، تو شاید آج کا پاکستان اتنا باوقار نہ ہوتا۔ اب وقت ہے خراجِ تحسین کا حکومتِ پاکستان سے سوال ہے:کیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جنہوں نے قوم کو ناقابلِ تسخیر بنایا.جنہوں نے ایٹم بم کا خواب، حقیقت میں بدلا .کیا وہ تمغہ امتیاز اور 21 توپوں کی سلامی کے مستحق نہیں؟کیا ہم یومِ تکبیر کو صرف یاد منانے کا دن بنائیں؟یا اپنے محسن کو اس کا جائز حق دے کر پوری دنیا کو دکھائیں کہ ہم احسان فراموش نہیں!