یوم تکبیر ،نواز شریف کا ویژن

49

تحریر :جمیلہ خاتون
کسی کی قوم کی تاریخ میں چند لمحات جس میں انہیں فیصلہ کرتا ہوتا ہے۔بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔اور صرف دلیر اور محبت وطن قیادت ہی ایسے لمحات میں درست فیصلے کرسکتی ہے۔اور اسی وقت یہ احساس ہوتا ہے۔کہ قیادت کتنی دلیر ہے۔پاکستان پر بہت مشکل وقت تھا۔جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے ۔پوری پاکستانی قوم سوچ و بچار میں پڑھ گئی۔کہ وطن عزیز پاکستان کا مستقبل کیا ہوگا۔اس وقت میاں محمد نواز شریف وزیراعظم پاکستان تھے۔اور امریکہ اور دنیا کا پریشر تھا کہ ہم آپ کی ہر طرح سے مدد کریں گے ۔آپ نے ایٹمی دھماکے نہیں کرنے اور اگر ایسا کیا تو آپ کو دنیا میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑھے گا۔اور اگر آپ ہماری مانیں گے تو پھر آپ کے ساتھ ہر قسم کا تعاون ہوگا۔اور دولت کے خزانے آپ کیلئے کھول دیں گے۔لیکن اس وقت اس کڑے امتحان میں میاں محمد نواز شریف نے وطن عزیز پاکستان کا سوچا۔

اس کے دفاع کا سوچا ۔اور 28مئی کو ایٹمی دھماکے کرکے یہ بتا دیا۔کہ میاں محمد نواز شریف حقیقی معنوں میں سب سے پہلے پاکستان کے نعرہ کے عملی داعی ہیں۔اور ایٹمی پاکستان کے بانی ہیں۔میں اس موقع پر ڈاکٹر عبد القدیر اور سارے سائنس دانوں کو مبارکباد پیش کرتی ہوں ۔اور ان سب کرداروں نے میاں محمد نواز شریف کی ہمیشہ اپنی گفتگو میں بہت تعریف کی۔پاکستان کے بہت سے سیاست دانوں کے اس حوالے سے انٹرویو سنے ہیں ۔سید مشاہد حسین جو اس وقت میاں محمد نواز شریف کے ساتھ تھے۔انہوں نے ہمیشہ اپنے انٹرویوز میں میاں محمد نواز شریف کی تعریف کی ہے۔ڈاکٹر عبد القدیر ہمیشہ ایٹمی دھماکے کرنے اور ایٹمی پروگرام کو انجام تک پہنچانے میں میاں محمد نواز شریف کے ویژن اور کردار کی تعریف کی ہے اور ہر ایک آدمی اور حتی کے سیاسی حریفوں نے بھی میاں محمد نواز شریف کے اس کام کی جو ایک تاریخ ہے۔

ہمیشہ تعریف کی۔اور یہ اقدام ایک تاریخی حقیقت ہے ۔میں اس موقع پر اور کسی چیز پر فوکس نہیں کروں گی ۔ورنہ میاں محمد نواز شریف کے اس ملک وطن عزیز پاکستان پر بہت بڑے احسانات ہیں ۔اور ہم اس پر میاں محمد نواز شریف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں ۔اس موقع پر یوم تکبیر کے حوالے سے کچھ تفصیل بھی بتاتی چلوں۔کہ کیوں یہ ایٹمی پروگرام اور دھماکے ضروری تھے؟۔بھارت عددی اعتبار سے دنیا کی تیسری بڑی زمینی فوج، چوتھی بڑی فضائیہ اور پانچویں بڑی بحریہ رکھنے والا ملک 1974ء میں ہی ایٹمی تجربہ کر کے خطّے میں ایٹمی اسلحہ کی دوڑ شروع کر چکا تھا۔ مجبوراً پاکستان کو بھی اپنے دفاع کے لیے اس دوڑ میں شامل ہونا پڑا۔ دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ پاکستان اپنے محدود وسائل کے باعث بھارت کے ساتھ روایتی ہتھیاروں کی دوڑ میں مقابلہ نہیں کر سکتا مزید یہ بھی کہ بھارت پہلے ہی پاکستان پر جارحیت کرکے اس کو دولخت کر چکا تھا۔

ایٹمی قوت بن جانے کے بعد خطہ میں طاقت کا توازن بری بگڑ چکا تھا ۔اور اس ساری صورتحال میں میاں محمد نواز شریف نے وہ کردار ادا کیا ۔کہ جس کی وجہ سے پاکستان کو عزت ملی ۔اور بھارت پر ہمیشہ کیلئے ایک دباؤ بڑھ گیا۔یوم تکبیر ، پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے جب بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998ء کو پاکستان نے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے مقام پر پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کیے۔ اس دن کو یوم تکبیر کے نام سے موسوم کیا گیا۔ ‏پاکستان دنیا کا واحد مسلم جوہری طاقت والا ملک ہے۔ ‏یہ جوہری تجربہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے راس کوہ پہاڑیوں میں کیا گیا۔ چاغی اول پاکستان کا ایٹمی ہتھیاروں کا پہلا تجربہ تھا۔ یہ 11 اور 13 مئی 1998ء کو ہندوستان کے دوسرے جوہری تجربوں کا اسٹریٹجک جواب تھا۔ ٹیسٹوں کی کل تعداد چھ تھی اور حالیہ وقت میں آپ دیکھتے ہیں کہ نواز شریف کے اسی وجہ سے پاکستان نے ایٹمی طاقت حاصل کرنے پر بھارت پر بہت دباؤ بڑھا۔

حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں آپ دیکھتے ہیں کہ کس طرح پاکستان نے ناممکن کو ممکن بنایا اور دنیا میں پاکستان کی عزت میں اضافہ ہوا۔نواز شریف تیرا شکریہ اور یہ سب تیرا احسان ہے۔اس وقت بھی نواز شریف کی زیر نگرانی پاکستان کی حکومت وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اور فوج نے ملکر وہ کردار ادا کیا جو تاریخ یاد رکھے گی ۔اور دنیا نے پاکستان کی فوج کی تعریف کی۔اور پھر میاں محمد نواز شریف کے ویژن اور ہدایات کے مطابق حکومت پاکستان نے جنرل حافظ عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے کر بھی ایک تاریخ رقم کی ۔پاکستان فوج زندہ ۔۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد .اور انشاء اللہ میاں محمد نواز شریف کے ویژن کی پیروی کرتے ہوئے ہم اپنے وطن عزیز کو آگے لے جائیں گے ۔اور ہماری طاقت دنیا کے سامنے عروج پکڑتی جائے گئی۔پوری قوم میاں محمد نواز شریف کے ویژن اور اس وقت پاکستان کیلئے دنیا کے پریشر کو یکسر مسترد کرنے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ میاں محمد نواز شریف کو صحت اور تندرستی عطا فرمائے.آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں