جلال الدین مغل
ہر معاشرہ وقت کے ساتھ بدلتا ہے، اور جب یہ معاشرہ ایک متنازعہ خطے میں سانس لے رہا ہو تو تبدیلی کا عمل اور بھی نازک، اور ذمہ دارانہ فیصلوں کا متقاضی ہوتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں “مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان” کے لیے مختص نشستوں کا معاملہ بھی انہی پیچیدہ مسائل میں سے ایک ہے- یہ ایک ایسا مسئلہ جو ایک طرف ریاستی وحدت اور جمہوری نمائندگی کے تقاضوں سے جڑا ہے تو دوسری جانب احساسِ شراکت، سماجی و سیاسی انصاف اور شناخت کی گھتیوں میں الجھا ہے-
مہاجر ہونا ایک کیفیت ہے، ایک تاریخی حقیقت، اور ایک جدوجہد کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی اہمیت کا بھی حامل ہے۔ یہ کوئی نسلی یا مستقل درجہ نہیں بلکہ ایک وقت کی آزمائش ہوتی ہے۔ تقسیم برصغیر کے وقت لاکھوں لوگوں کو ہجرت کے کرب سے گزرنا پڑا- آج ان کی اگلی نسلیں اپنے خاندانوں سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں اور معاشی، تعلیمی اور سیاسی طور پر مضبوط حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔یہ بات باعثِ فخر ہے کہ 1947 سے لیکر 1989 تک وقتاً فوقتاً ہجرت کرنے والے کشمیری مہاجرین نے ہر میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے.
ماسوائے 1989 یا اسکے بعد ہجرت کرنے والے کشمیری مہاجرین کے، تمام کشمیر مہاجرین آزاد کشمیر یا پاکستان کے مختلف صوبوں میں مستقل آباد ہو چکے ہیں اور وہاں انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو ایک عام پاکستانی شہری کو حاصل ہیں- 1989 کے مہاجرین کی غالب اکثریت کی آباد کاری البتہ ابھی تک نامکمل ہے اور وہ لوگ اب بھی آزاد کشمیر اور پاکستان کے بعض علاقوں میں مہاجر کیمپوں میں مقیم ہیں.پاکستان میں مقیم تمام مہاجرین جموں و کشمیر پاکستان کی قومی و صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی کا حق حاصل ہے جو آزاد کشمیر کے عام شہریوں اور آزاد کشمیر میں مقیم مہاجرین 1989 کو حاصل نہیں.
آزاد کشمیر میں مقیم مہاجرین جموں و کشمیر کو صرف مقامی اسمبلی میں نمائندگی کا حق حاصل ہے جبکہ سات دھائیوں یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں و کشمیر کو دوہری نمائندگی، پاکستان میں سرکاری ملازمتوں میں مقامی کوٹہ، متعلقہ صوبے کا صوبائی کوٹہ اور پھر آزاد کشمیر میں مقیم شہریوں کے حصے کے تین فیصد کوٹے پر بھی برابر کا حق حاصل ہے- آزاد کشمیر میں سرکاری ملازمتوں میں 25 فیصد کوٹہ بھی صرف ان مہاجرین کے لیے مختص ہے جو کبھی آزاد کشمیر کی حدود میں رہے ہی نہیں- ان حالات میں یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ وہ لوگ جو کئی نسلوں سے پاکستان میں آباد ہیں کیا وہ آج بھی “مہاجر” کہلانے کی آئینی و عملی حیثیت رکھتے ہیں؟ اور کیا نمائندگی کا دوہرا حق اور ملازمتوں کا تہرہ کوٹہ ان کے لیے مختص کرنا قرین انصاف ہے جبکہ دوسری جانب اس وقت بھی ہزاروں کشمیری خاندان مہاجر کیمپوں میں ایک ایک کمرے اور دو دو کمرے کے شیلٹرز اور خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں؟
آزاد کشمیر کی اسمبلی میں ان کے لیے مختص ایک تہائی نشستیں اور انتظامی کوٹہ، جو کبھی مجبوری کی بنیاد پر طے کیے گئے تھے، آج کئی حوالوں سے متنازع اور غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔ نہ صرف یہ نشستیں ریاستی نمائندگی کے توازن کو متاثر کرتی ہیں بلکہ یہ ایک ایسے طبقے کو مسلسل سیاسی فائدے دیتی ہیں جو اب جغرافیائی طور پر اس خطے سے وابستہ ہی نہیں۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں سے ایک نئے مکالمے کی ضرورت جنم لیتی ہے۔ان نشستوں کے خاتمے یا کم از کم ان کو متناسب نمائندگی کے اصول کی بنیاد پر لا کر ان پر انتخابی طریقہ کار میں تبدیلی کا مطالبہ مہاجرین جموں و کشمیر کے خلاف کوئی محاذ آرائی نہیں بلکہ ریاست کے جمہوری ڈھانچے کو مؤثر، شفاف اور زمینی حقیقتوں سے ہم آہنگ کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہو سکتی ہے۔
عوامی نمائندگی کا اصول یہی ہے کہ جس زمین پر رہائش ہو، اسی کی سیاست اور فیصلہ سازی میں حصہ لیا جائے۔ ایک ایسا شخص جو لاہور، راولپنڈی، پشاور یا کراچی میں مستقل سکونت اختیار کر چکا ہو، اس کا آزاد کشمیر میں قانون سازی کے عمل میں حصہ لینا، وہاں کے بجٹ، روزگار، ترقیاتی منصوبوں یا وسائل پر رائے دینا، کیا یہ ریاستی خودمختاری اور مقامی حقِ نمائندگی کے اصول سے متصادم نہیں؟آج آزاد کشمیر ایک نازک سیاسی اور اقتصادی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ خطے کی عوام روزمرہ کے چیلنجز، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور سیکیورٹی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اور زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ کیا وہ افراد جو ان مسائل سے متاثر ہی نہیں ہوتے، وہ ان کے حل کے لیے فیصلہ سازی میں شامل رہیں؟ اور اگر ہاں، تو اس کا جواز کیا ہے؟
پھر ستم ظریفی یہ کہ آزاد کشمیر کے ایک ایک حلقے سے منتخب ہونے والے ممبران اسمبلی کو کم از کم بھی دس سے پندرہ ہزار ووٹ لینا پڑتے ہیں تو دوسری جانب مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستانی کی نشستوں پر کل ملا کر بھی اتنے ووٹ پول نہیں ہوتے اور پانچ ساڑھے پانچ سو ووٹ لینے والا شخص بھی قانون ساز اسمبلی کا رکن بن جاتا ہے- اسے بھی وہی حقوق اور مراعات حاصل حاصل ہوتی ہیں جو 10 ہزار سے چالیس ہزار ووٹ لینے والے ایک رکن اسمبلی کو حاصل ہیں-
ریاستی سطح پر ہمیں ایک ایسا نمائندہ ماڈل تشکیل دینا ہوگا جو ایک خوددار، منصفانہ اور شفاف انتظامی شناخت کی عکاسی کرے۔ اگر آزاد کشمیر کو ایک “بیَس کیمپ” یا ریاستی ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو اسے اپنی سیاسی و انتظامی ساخت کو بھی اسی اصول کے تحت استوار کرنا ہوگا.نہ کہ ایسے نمائندوں کے سہارے، جن کی سیاسی رجحانات، مالی ترجیحات اور سماجی وابستگی کہیں اور ہوں۔آزاد کشمیر کی نئی نسل کو ایک ایسی سیاست اور ایک ایسے نمائندہ نظام کی ضرورت ہے جو حقیقی معنوں میں ان کے مسائل کی ترجمانی کر سکے۔ یہ وقت ہے ایک نئے بیانیے کا، جو تقسیم کو نہیں، وحدت کو فروغ دے؛ جو مہاجرین کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے، اب ان کی آئینی حیثیت کو موجودہ حالات سے ہم آہنگ کرے. جو شراکت داری کو میرٹ پر رکھے، اور ایسی جمہوریت کو پروان چڑھائے جو سچ میں “آزاد” ہو.