تحریر:ابصار احمد اعوان
پونچھ کو آزاد کشمیر میں مزاحمت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ جدوجہد و کشمکش کا عنوان سمجھا جاتا ہے۔ یہی ہنستا مسکراتا پونچھ گزشتہ روز المناک حادثات کی نظر ہو گیا۔ تولی پیر کے نزدیک پولیس وین کے حادثے میں پانچ پولیس اہلکار جن میں آفیسرز بھی تھے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ دوسرا المناک سانحہ حسین کوٹ ایک جنگل میں پیش آیا جہاں پولیس اور باغ سے تعلق رکھنے والے نوجوان زرنوش نسیم سمیت 4 نوجوانوں کے درمیان ہوا جس میں دو پولیس اہلکار اور زرنوش نسیم بشمول ساتھیوں کے جاں کی بازی ہار گئے اور کچھ پولیس اہلکار زخمی ہیں۔ یہ دونوں سانحات پورے خطے کیلئے نہایت افسوس ناک، دکھ دہ اور باعث تکلیف ہیں۔ ہر آنکھ اشکبار ہے۔ کسی کے بیٹے تو کسی کے باپ کسی کا مستقبل سنوارنے والے سب چل بسے۔ اللہ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمائے آمین ۔
پہلا سانحہ تو حادثہ تھا۔ اللہ کی طرف سے تھا ہو گیا انسان بھی اللہ کا ہے وہ جب چاہتا ہے اسے اپنے پاس بلا لیتا ہے۔
لیکن دوسرا سانحہ سوچنے غور کرنے اور حقائق تلاش کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ زرنوش نسیم کون تھا ؟ کیا ہوا؟ کیوں نوبت یہاں تک پہنچی ؟ کس نے کیا کردار ادا کیا؟ ان جیسے کہیں سوالات ہیں جو لوگوں کے قلب و ذہن میں نقش ہو چکے ہیں۔ زرنوش نسیم سے کوئی جان پہچان نہیں ہے۔ علی امین گنڈاپور کو جوتا مارنے اور پھر اغوا کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعے اس کے بارے کچھ معلومات ممکن ہو پائیں۔ قریباً اگست 2024 میں سوشل میڈیا پر ایک نوجوان کے اغوا کی بات چلتی ہے سوشل میڈیا پر اسکی رہائی کیلئے آواز اٹھنے لگی۔
ہر کوئی آواز اٹھا رہا تھا لوگوں کے بھرپور احتجاج کے باعث اسے چھوڑ دیا گیا۔ لیکن اس کے بعد اس نے اپنے ویڈیو پیغام کے ذریعے کافی باتیں بتائیں اور شائد کہیں روپوش ہو گیا بقول اس کے کہ ایجنسیاں اسے استعمال کرنا چاہتی ہیں ۔۔ لیکن حقیقت کیا ہے اسکو تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن غور کرنے کی بات یہ ہےکہ اس کے بعد زرنوش نسیم مطلوب کیوں ہو گیا؟ اس نے وہ کیا کام کیے جو اس کو طلب کیے جانے کی وجہ بنے ہیں؟ ان جیسے کہیں سوالات ہیں جو اس کیس کے حقائق کو ظاہر کر سکتے ہیں لیکن یہ سب جواب انتظامیہ و حکومتی ادارے ہی دے سکتے ہیں اور انکو جواب دینا چاہے تاکہ عوام کو بھی معلوم ہو سکے کہ کیا چل رہا ہے۔
باقی رہی بات زرنوش کی تو اسکی سوچ و فکر کیا تھی اس سے زیادہ واقفیت تو نہیں۔ جہاں تک بات ہے اس کے اس اقدام کی کہ مسلح ہو جانا اسلحہ اٹھا لینا تو یہ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں چاہے وہ کوئی بھی کرے۔ ریاست کے اندر ریاست کسی صورت نہیں بن سکتی۔ ہم نے لال مسجد جیسے سانحے کا بھی سامنا کیا ہے جس نے سیکنڑوں طلباء و طالبات کی جان لے لی لیکن کوئی حل نہیں نکلا۔ اس لیے اسلحہ اٹھا لینا کسی صورت درست عمل نہیں ۔ جذبات میں بہ کر ایسے اقدامات کرنے سے اپنا اپنے خاندان اور معاشرے کا ہی نقصان کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں اہل علم حضرات نے اس طرح کے اقدام سے روکا ہے۔ اس معاملے میں نوجوانوں کو سوچنے کی ضرورت ہے۔
زرنوش کا یہ طرزِ عمل قابل افسوس ہے۔ طلب کیے جانے پر زرنوش کو کم از کم اپنے آپکو پولیس کے حوالے کرنا چاہے تھا۔ یقیناً یہ بات کہنا مشکل ہے ٹارچر سیل میں راتیں گزاری ہوں تو ایسا کرنا مشکل ہے لیکن اس کے علاؤہ کوئی حل بھی نہیں ہے ریاست کے سامنے اسلحہ اٹھانا خود کو مارنے کے مترادف ہے۔جیسا کہ عرض کیا ہے کہ زرنوش کے اسلحہ اٹھانے جیسے اقدامات کو کسی صورت جائز نہیں کہا جا سکتا لیکن اس پر قوم کے ذہین و فطین احباب کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیوں آج کے نوجوان اس راہ پر چل پڑے ہیں۔ پاکستان کی ایک بڑی جامعہ سے پڑھ کر نکلنے والا طالب علم کس طرف چلا گیا کیوں؟ زرنوش نسیم کا معاملہ ایکشن کے بعد ری ایکشن کا تاثر دے رہا ہے۔
اپنے آپکو پولیس کے حوالے نہ کرنا شائد اس کرب و تکلیف میں دوبارہ نہ پڑنے کی بابت ہوا ہو غرض اس بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے آئے روز یہ اغوا کر لینا لوگوں کو تنگ کرنا اس سے کیا تاثر جا رہا ہے۔ کیا ریاست میں عدالتیں نہیں ؟ جس کا کوئی جرم ہے اسکو بذریعہ عدالت کیوں سزا نہیں دلوائی جاتی بجائے اغوا کرنے کے۔ ذرا پورے حالات و واقعات پر نظر دوڑائیں تو خرابی جڑ میں ہی نظر آتی ہے۔ جب جڑ کو کیڑا لگ جائے تو شاخ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو ایک نہ ایک دن گر ہی جائے گی۔ جڑ کی حیثیت نظام کو حاصل ہے۔ جس نظام کا ہم سب حصہ ہیں یہ سب کیے دھرے اسی کے ہیں۔ جو نظام اس وقت قائم ہے اس کی حالت پر لکھنے کی ضرورت نہیں ہر آنکھ اسکا مشاہدہ کر رہی ہے۔
عدالتوں میں چلے جائیں انصاف نہیں۔ شہری انتظامیہ ہر جگہ خود کو فرعون وقت سمجھتی ہے عام آدمی کا تو کوئی پرسانِ حال نہیں ہے آپ کے تعلقات ہیں تو سب کچھ ہے ورنہ عام آدمی کتنا ہی مظلوم کیوں نہ ہو وہ شائد واپس لوٹے تو اسکو ظالم ثابت کر لیا جائے۔ حکومتی سطح پر تو معاملہ انا للہ وانا الیہ راجعون کے مترادف ہے۔ کرپشن و دیگر جرائم عام ہیں۔ غرض ہر لحاظ سے موجودہ نظام معاشرے میں امن، سکون اور لوگوں کو بہتر زندگی فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہے۔ اسی نظام کی کارستانی ہے کہ آئے روز کسی بھی شخص کو جو بول جائے اٹھا لیا جاتا۔ زبان بندی کر دی جاتی ہے جب زبان پر تالے لگا دیے جائیں تو پھر یہی نوجوان بے راہ روی کا شکار ہو کر اس طرف چلے جاتے ہیں اور پھر ان پر دہشت گردی کا لیبل بھی لگا دیا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ 9/11 کے بعد اسی نظام کے آلہ کاروں نے دوسروں کی جنگ اپنے ملک میں لگا دی دوسروں کو خوش کرنے کیلئے اپنے ہی لوگوں کو قربان کیا گیا۔ یہی طرز عمل ایسے اقدامات کا باعث بنتا ہے اس لیے قوم کے باشعور احباب سیاسی قیادت کو مل کر کوئی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ اور اس کا اصل حل تو وہ عادلانہ نظام ہے جس کیلئے یہ خطہ آزاد ہوا تھا ۔ اس کو عملا نافذ کیا جائے تو پھر نہ عدالت میں انصاف رکے، نہ کسی کے ساتھ زیادتی ہو اور نہ کسی بے گناہ کو جان گنوانی پڑے۔اس کے ساتھ حکومت وقت کی زمہ داری ہے کہ ان واقعات کی تحقیق کی جائے سپیشل کمیشن بنا کر اس سارے معاملے کو پرکھا جائے زرنوش کے اغوا سے لے کر رات کو ہونے والے سانحے تک اور قوم کو بتایا جائے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے؟