تحریر: رفعت وانی | صحافی / انسانی حقوق کارکن
جنوبی ایشیاء میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں جھکانے کی خواہش رکھنے والا بھارت، اس وقت سخت دفاعی دباؤ میں ہے۔ جدید رافیل جنگی طیاروں کو حاصل کرنے کے بعد بھارت نے انہیں اپنی فضائیہ کی “ریڑھ کی ہڈی” قرار دیا تھا، مگر حالیہ واقعات نے اس دعوے کو شدید زک پہنچائی ہے۔ معتبر بین الاقوامی ذرائع اور دفاعی رپورٹس کے مطابق، پاکستان نے اب تک بھارت کے تین رافیل طیارے تباہ کیے ہیں، اور یہی وہ سنگین جھٹکا ہے جس پر اب فرانسیسی حکومت بھی ردعمل دے رہی ہے۔
یہ واقعات 2024 اور 2025 کے درمیانی عرصے میں لائن آف کنٹرول اور مقبوضہ کشمیر کے فضائی حدود کے آس پاس پیش آئے۔ اطلاعات کے مطابق، پہلے رافیل کو پاکستانی شاہین پائلٹ نے ایک JF-17 Block III کے ذریعے نشانہ بنایا، جس میں AESA ریڈار اور PL-15 میزائل استعمال کیے گئے۔ دوسرے واقعے میں، بھارت کے اندرونی شورش کے دوران رافیل نے حملہ آوروں کے خلاف فضائی آپریشن میں حصہ لیا، مگر اسی اثنا میں پاکستانی فضائیہ نے اسے ٹریک کرتے ہوئے کامیابی سے مار گرایا۔ تیسرا واقعہ پامپور، مقبوضہ کشمیر میں 6 مئی 2025 کی رات کو پیش آیا، جہاں ایک اور رافیل کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں کے بعد بھارتی دفاعی اسٹیبلشمنٹ سخت دباؤ میں ہے۔ بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے خود رافیل طیاروں کے نقصان کی جزوی تصدیق کی ہے، جبکہ بی جے پی کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے اس بات کا کھلے الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ بھارت نے “کم از کم پانچ جنگی طیارے، جن میں رافیل بھی شامل ہیں، پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں کھوئے ہیں”۔
یہ انکشاف بھارت کے لیے نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی سطح پر بھی شدید شرمندگی کا باعث بن گیا ہے۔ رافیل طیارے فرانس کی کمپنی Dassault Aviation نے تیار کیے ہیں، اور بھارت نے انہیں تقریباً 9.4 بلین ڈالر کی قیمت پر خریدا۔ ان طیاروں کو بھارت میں جنگی برتری کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا تھا، مگر ان کی متواتر تباہی نے نہ صرف ان کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے، بلکہ خود فرانسیسی کمپنی کو بھی دفاعی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
فرانسیسی حکام نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ رافیل طیاروں کے سسٹمز، لاگ ڈیٹا اور تکنیکی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ان کی آڈیٹ ٹیم کو براہ راست رسائی دی جائے۔ فرانس کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں “ٹریننگ اور آپریٹنگ مہارت کی شدید کمی” پائی گئی ہے، اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ بھارت نے ان جدید طیاروں کو کس انداز میں استعمال کیا۔
مگر حیران کن طور پر، بھارت نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی وزارتِ دفاع کے مطابق، یہ مسئلہ “قومی سلامتی” سے متعلق ہے اور کسی غیر ملکی ٹیم کو جنگی طیاروں تک مکمل رسائی نہیں دی جا سکتی۔ فرانسیسی حکام اس فیصلے سے سخت نالاں ہیں، اور کچھ رپورٹس کے مطابق، داسوٹ ایوی ایشن نے مستقبل میں طیاروں کی اپگریڈیشن اور اسپیئر پارٹس کی فراہمی پر نظرثانی کا عندیہ بھی دیا ہے۔
بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے لیے یہ صرف تکنیکی ناکامی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک بحران ہے۔ اس بحران میں نہ صرف اربوں ڈالر کا نقصان شامل ہے، بلکہ اس سے بھارت کی عالمی سطح پر دفاعی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ پاکستانی فوج نے ابھی تک باضابطہ طور پر ان واقعات کی تصدیق نہیں کی، مگر مقامی کشمیری عینی شاہدین، مختلف ویڈیوز اور غیر ملکی دفاعی رپورٹس سے یہ بات اب ایک کھلا راز بن چکی ہے۔
اگر بھارت نے ان واقعات کو مزید چھپانے کی کوشش کی تو یہ صرف عوامی اعتماد کو نہیں، بلکہ بین الاقوامی پارٹنرشپ کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ فرانسیسی میڈیا اور حکام کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے، اور مستقبل قریب میں بھارت کے دفاعی معاہدوں پر اس کے اثرات صاف دکھائی دے سکتے ہیں۔
رافیل کی ناکامی اب صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ بھارت کے لیے ایک سیاسی، سفارتی اور عسکری دھچکا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت سنجیدگی سے اپنی جنگی حکمت عملی، تربیتی نظام، اور دفاعی فیصلوں پر نظرثانی کرے۔ ورنہ مہنگے ہتھیار خرید کر صرف نمائش کا سامان بنانا، کسی بھی قوم کو دفاعی لحاظ سے مضبوط نہیں کرتا۔
⸻
یہ تحریر تحقیق اور معتبر ذرائع کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے، جس میں ARY News، National Interest، The Asia Live، اور فرانسیسی دفاعی رپورٹس شامل ہیں۔
Riffat Wani