یاد رفتگاں

42

تحریر:ملک سرمد
ابھی جام عمر بھرا نہ تھا کیف دست ساقی چھلک پڑا
رہیں دل کی دل میں حسرتیں قضا نے نشاں ہی مٹا دیا
بڑے بھائی او خدایا کتنا عظیم رشتہ ہوتا ہے. یہ مجھے اندازاہ ہو گیا ہے لیکن بتا نہی سکتا. عمر میں نو سال بڑا بھائی باپ جیسا دوستوں جیسا ،تنہا چھوڑ کر روتا بلکتا چھوڑ گیا. میرے پاس گھر آتا ،میرے گھر میں اسکو جنتی خوشی ملتی میں آپ کو بتا نہی سکتا. اس لیے کے ہمارے گھر کی پیدائش ہمارے آبائی دادکا گھر میں تھی. اس گھر کی مٹی سے اسے پیار تھ.ا جب رات ہو جاتی ہم دونوں بھائی ایک بستر میں چھپ جاتے اور ہماری پیار بھری باتوں میں رات گزر جاتی.

اماں کا لاڈلا صبح کی نماز ادا کرنے جاگ جاتا .ہم دونوں بھائی ناشتہ کرتے .فری گپیں لگاتے لگاتے بازار چلے جاتے پھر میرا بھائی اپنے دوستوں سے ملنے جاتا .بازار میں اپنی آبائی دوکان پر بھیٹے وقت گزر جاتا .کبھی اس در کبھی اس در ناجانے کتنے جلدی جلدی وقت گزر گیا.بھائی جو باتیں آپ نے مجھے سے کیں تھیں. وہ سب سچ ہو گئیں پر تم چلے گئے. میرا بھائی تاج ملک ایک عظیم نرم گفتار ،محبتیں بھکیرنے والا ،پڑھا لکھا ،ذی شعور ،لوگوں کے کام آنے والا ،دلدار بھائی جسکو میں اپنی زندگی میں اور مرتے دم تک نہیں بھول پاؤں گا. کتنے ماہ گزر گئے جو مجھے روز دو تین بار فون کرتا گپیں لگاتا ،جب میں پریشان ہوتا تو حوصلہ دیتا .

یہ کہتا رہا مجھے تم لوگ کبھی نہیں سمجھو گے. جو تم مجھے سمجھتے ہو. میں ایسا نہیں. میں تو تم لوگوں کے لیے جیتا ہوں اور تم لوگوں کے لیے مرتا ہوں. میرا سب کچھ میرے خاندان کے لیے ہے. میں نے کبھی دنیا کی عارضی فانی چیزوں کو اہمیت نہیں دی .مجھے میرا بھائی اکثر کہتا کبھی مجھے زندگی میں آزما کے دیکھ لینا .تم پہ مر نہ گیا تو پھر کہنا .میں نے گھر کے آخری سفر میں یوکے جانے سے پہلے بڑا اسرار کیا .بڑا کہا بھائی میری جان آپکے لیے حاضر .میں اپنا دل نکال کر آپ کو دیتا ہوں.

آپ نے نوکری چھوڑ دی اب. مظفر ڈاکٹر بن گیا. سب اپنے نوکریاں کرنے لگے ہیں. گھر کے حالات بہت اچھے ہوگئے ہیں.بھائی آپ واپس نہ جاؤ. میرے پاس رہو .میں آپکو اسلام آباد کے بہترین ہسپتالوں میں اپنی گاڑی میں لیکر چلوں گا بھائی میں آپکی بیٹوں سے زیادہ خدمت کروں گا .جب آپکے ٹیسٹ ٹھیک آ جائیں گے. دوائیوں سے آپ بہتر ہو جاؤ گے. پھر اماں سے دعا لیکر آپ چلے جانا .

میری بات آپنے کیوں نہیں مانی؟ میں نے اپنے بھائی ڈاکٹر انصار کو ایک دن دوکان پر بیٹھ کر ریکوسٹ کی کے بھائی میری بات نہیں سنتے آپ انہیں کہیں انہوں نے بھی کہا یہ بہتر کہ رہاہے .کہنے لگے نہیں نہیں میں واپس جاؤں گا. وہاں جا کر اپنا علاج کرا لوں گا.گھر میں جا کر میں اماں کیساتھ بیٹھ کر ضد کرتا رہا لیکن آپ میری بات اس لیے نہین مان رہے تھے کہ میں تمہارے ساتھ ہمیشہ کے لیے چھوڑ جاؤں گا.

تم میری یادیں صرف اپنے سینے سے لگائے رکھنا. بھائی تم مجھے بہت یاد آتے ہو. بھائی تمہاری بہت کمی ہے. میرا گھر تمہارے بغیر سونا سونا ہے. کس طرع اپنے بھتیجوں کو بھی تم نے اپنا دوست بنا لیا تھا جب تم ادھر چلے گئے. میں تمھیں روز فون کرتا اور آپ اپنے حالات بتاتے تو میں دل میں روتا .بے بسی کی تصویر بنا رہا. بھائی میں آپکو دیکھا بھی نہیں .آپکا جنازہ بھی نہین پڑھا. آپکی تدفین بھی نہیں کی. مٹی بھی نہیں ڈالی. تم کہاں گم ہو گئے. میری ہر اک سانس تمہارے لیے دعا کرتی ہے. بھائی تمہارا اللہ حافظ تم اللہ کے حوالے.تمہیں مولا اپنی جنتوں میں اعلی گھر دے تم اپنی امی ابو کیساتھ سدا جنت میں خوش رہو.امین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں