حالیہ واقعے کے تناظر میں

58

تحریر:حمزہ نصیر
گذشتہ چند روز سے زرنوش نسیم اور پولیس کے مابین ہونے والے تصادم اور اموات کو لے کر سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ ی ہوئی ہے . میرے کچھ الفاظ کو لے کر بھی سوشل میڈیا صارفین کے مابین ایک تقسیم یا پولرآئزیشن نظر آرہی ہے.اس حوالے سے کچھ لوگ میری حمایت کر رہے ہیں اور کچھ مخالفت کر رہے ہیں .اس طرح کے واقعات یا حادثات کے دوران اس طرح ہو جاتا ہے اور رائے تقسیم ہونا، بحث بننا اور اختلاف رائے پیدا ہونا نہ صرف معمول کی بات ہے بلکہ صحت مند معاشرہ ہونے کی نشانی ہے۔

تاہم ہر مردوزن کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جب مجھے حق رائے دہی کی آزادی حاصل ہے، تو باقی تمام لوگوں کو حاصل اسی آزادی کو بھی نہ صرف ہمیں تسلیم کرنا چاہیے بلکہ اس کا احترام کرنا بھی لازم ہے. ہاں مگر اپنا اختلاف تہذیب کے دائرے میں رہ کر کرنا چاہیے . اس کے ساتھ ساتھ سنی سنائی باتوں پر رائے قائم کر کے کسی کی مخالفت میں اس حد تک بھی نہیں جانا چاہیے کہ اس سے زبردستی اپنی وہ رائے منوائی جائے جو شاید درست بھی نہ ہو، یا خود اس کی صداقت کے بارے میں کوئی معلومات موجود نہ ہوں ۔

کسی بھی شخص کی اس بنیاد پر بھی حمایت یا مخالفت کرنا انتہائی غلط رجحان ہے کہ وہ آپ کی قوم، قبیلے، نظریات ، مذہب، علاقے، یا رشتے میں آتا ہے۔ ہر شخص کی حمایت یا مخالفت اس کے کردار اور اس کے اپنائے گئے موقف کی بنیاد پر کی جانی چاہیے ، جب بھی کوئی ایسا واقعہ ہوجس میں آپ کے پاس کوئی فرسٹ ہینڈ انفارمیشن نہ ہو تو آپ کو ہمیشہ ریاستی اداروں کی معلومات پر ہی اکتفا کرنا پڑتا ہے . مثال کے طور پر زرنوش نسیم واقعہ پر آپ جتنی بھی تحقیق کر دیں،محض تجزیہ ہی کر سکتے ہیں کہیں کسی عدالت میں یا دنیا بھر کے کسی بھی ادارے میں ذمہ داری کے ساتھ اس بارے میں اپنا فیصلہ نہیں سنا سکتے.

کیونکہ آپ کے پاس ثبوت ہی کوئی نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ زرنوش نسیم واقعہ میں وہی انفارمیشن ’بی بی سی‘ جیسے ادارے نے بھی شائع کی، جو ریاستی ذمہ داران نے فراہم کی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ مقامی افراد سے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں لیکن اس کو بھی مصدقہ نہیں قرار دیا جاسکتا. کیونکہ وہاں موجود لوگوں میں سے زندہ صرف پولیس اہلکاران ہی بچے ہیں .باقی اس واقعے کاکوئی عینی شاہد موجود نہیں ہے۔ دوسرا عام لوگ اس طرح کے واقعات میں درست معلومات فراہم کرنے کے لیے تربیت یافتہ بھی نہیں ہوتے اور بعض اوقات وہ کسی دباؤ میں آسکتے ہیں یا پھر بڑھا چڑھا کر معلومات فراہم کر سکتے ہیں ۔

یہ درست ہے کہ کوئی واقعہ رپورٹ کرنے کے لیے جب تک آپ کا کوئی سیاسی یا ریاستی مقصد نہ ہومحض معلومات فراہم کرنا مقصد ہو تو آپ کسی کو بھی ’شہید‘یا ’دہشت گرد‘ قرار نہیں دے سکتے۔ یہ غلطی مجھ سے بھی ہوئی ہے .جس کیلئے میں متاثرین کے اہل خانہ اور کشمیری قوم کی توقعات پر پورا نہ اترنے کیلئے معذرت خواہ ہوں . تاہم رائے دینے کے حوالے سے میں بھی باقی لوگوں کی طرح آزاد ہوں ۔ اب عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے سرکار کو اس واقعے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینا چاہئیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے ۔

زرنوش نسیم کیس میں یہ بحث غیر اہم ہے کہ انہیں ہلاک کہا جائے یا شہید کہا جائے ؟اہم بات یہ ہے کہ زرنوش نسیم اور ان کے ساتھی جس راستے پر گامزن تھے اس کے نتائج ایسے ہی نکلتے ہیں .جب آپ اپنے نظریے، عقیدے، سوچ یا فکر کو دوسروں پر بزور طاقت نافذ کرنے کی راہ پر چل نکلتے ہیں تو جب تک ریاستی اداروں کے مفاد میں یہ کام ہو رہا ہوتا ہے تب تک آپ ٹھیک ہوتے ہیں اور جب وہ مفاد ختم ہو جائے تو آ پ کو پہچاننے سے ہی انکار کر دیا جاتا ہے۔اس لیے یہ سوچنا اہم ہے کہ مزید نوجوانوں کو اس راستے پر چلنے سے کیسے روکا جائے ؟

وہ کیا حکمت عملی بنائی جائے کہ اس خطے کے نوجوان انتہاء پسندی اور شدت پسندی کی جانب راغب نہ ہوں.بندوق اٹھا کر اپنے نظریات کو معاشرے پر مسلط کرنے کے خواب نہ دیکھیں .ہمیں ہر اس سوچ کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی جو نوجوانوں کو اس راستے پر لگاکر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرتی ہے اور جب مقاصد پورے ہو جائیں تو ہمارے نوجوانوں کو اس بھیانک انجام کا شکار بنایا جاتا ہے۔ہمیں بطور معاشرہ یہ سوچنا ہوگا کہ پر امن طریقے سے اپنے نظریے اور عقیدے کی تبلیغ اور ترویج کا سب کو حق دیا جائے لیکن انتہاء پسندی اور شدت پسندی کے ہر رجحان کے خلاف بطور معاشرہ آواز بلند کی جائے اور ایسے رجحانات کا راستہ روکا جائے۔

اس خطہ کی شہرت سیاسی طور پر متحرک اور پڑھے لکھے معاشرے کے طور پر ہے. انتہاء پسندی اور شدت پسندی کی شہرت اس علاقے کی کبھی نہیں رہی ہے .اس لیے بنیادی حقوق کی جدوجہد بھی پرامن سیاسی نظریات کی بنیاد پر ہی آگے بڑھنی چاہیے ۔ تاہم مکالمے، مباحثے اور صحت مند سماجی سرگرمیوں کے لیے ہمیں راستے ہموار کرنے اور گنجائش پیدا کرنی چاہیے تاکہ ہم ایک ایسا معاشرہ بن کر سامنے آئیں جس کے لیے ہم شہرت رکھتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں