تحریر:ظفر اقبال ، ایڈیشنل رجسٹرار آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی
معرکہ حق آپریشن بنیان مرصوص میں افواج پاکستان نے بھارت کو مؤثر جواب دیا تو پوری قوم کے سر فخر سے بلند ہوئے۔ چونکہ یہ وہ فیصلہ کن لمحہ تھا جس کا پوری قوم کو انتظار تھا۔ بھارت نے ماضی کی طرح مکاری،عیاری، جھوٹ اور جارحیت سے جو کھیل شروع کیا تھا۔ اسے اس کی قیمت چکانا پڑی۔ جبکہ افواج پاکستان نے جنگ اور اشتعال انگیزی کے دوران بھی صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے سویلین کو نشانہ نہیں بنایا۔ بلکہ پیشہ وارانہ مہارت اور ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ یوں ایک رات ڈھلی اور 10مئی علی الصبح، ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ افواج پاکستان نے ایک نئی تاریخ رقم کی اور جنوبی ایشیاء میں ایک نیا سورج طلوع ہوا۔ گجرات کا قصائی مودی جو کہ ایشیاء کی چوہدراہٹ کے خواب دیکھ رہا ہے اس کی گیدڑ بھبکیاں اس کی رعونت اور اس کا غرور خاک میں مل گیا۔ خود کو ڈیجیٹل سپرپاور کہلانے والا بھارت پاک فوج کی کمال حکمت عملی سے ریورس گیئر میں چلا گیا۔
وہ اپنی حساس ٹیکنالوجی کا تحفظ نہ کر سکے۔ فرانس سے حاصل کیے گئے رافیل طیارے، روس کا S-400 دفاعی نظام اور اسرائیل کے ڈراؤن ہندوستان کی بدترین شکست کی بدولت اپنی عالمی ساکھ برباد کر بیٹھے۔ یوں یہ حقیقت دنیا پر آشکار ہوئی کہ پاکستان نہ صرف سائنس، ٹیکنالوجی اور عسکری میدان میں نمایاں ہے بلکہ ڈیجیٹل وار فیئر میں بھی کسی سے کم نہیں ہے۔ پاکستان کی افواج نے اپنی سمندری حدود کا دفاع بھی کیا، زمین پر بھی فولادی دیوار ثابت ہوئی اور آسمان پر بھی فتح مند ہوئیں۔ نیز اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی بناء پر High Moral Grounds پر پاکستان کا نیا چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا جو کہ باوقار، مضبوط اور ناقابل تسخیر پاکستان ہے۔ اِس عظیم کامیابی کے بعد اس کے ثمرات سمیٹنے کیلئے افواج پاکستان نے اپنی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ اور قومی بیانیہ کے فروغ کیلئے بذریعہ Hilal Talks 2025 کے عنوان سے ایک ورکشاپ کا اہتمام بھی کیا .
جس میں پاکستان کی جامعات، کالجز اور سکولز سے وابستہ اساتذہ کرام اور ارباب علم و دانش نے شرکت کی جن کی تعداد تقریباً 2000تھی اِس ورکشاپ کی مرکزی تقریب راولپنڈی میں منعقد ہوئی جس میں راولپنڈی/اسلام آباد کے مقامی تعلیمی اداروں، آزادکشمیر اور گوادر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ جبکہ گوجرانوالہ، لاہور، ملتان، پشاور اور کراچی سے شرکاء آن لائن بھی موجود رہے۔ انٹرسروسز پبلک ریلیشنز(ISPR) نے اِس ضرورت کا بخوبی ادراک کیا کہ نسل نو کی بہترین خطوط پر تیاری اساتذہ کرام اور ملک کے ارباب علم ودانش کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہ نہ صرف طلبہ و طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں بلکہ انکی سمت کا تعین کرتے ہوئے انکی کردار سازی کے ذریعے انہیں ملک کا کارآمد شہری بھی بناتے ہیں۔ چونکہ انہی طلبہ نے آگے چل کر ملک کے سہانے مستقبل کی آبیاری کرنی ہوتی ہے۔
اِس ورکشاپ سے چیف آف آرمی اسٹاف، ڈی جی آئی ایس پی آر، سابق نگران وزاعظم انوار الحق کاکڑ، وائس چانسلر رفاہ یونیورسٹی ڈاکٹر انیس احمد ڈائریکٹر جنرل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز/ سابق سفیر، سہیل محمود معاون خصوصی وزیراعظم جہانزیب خان، ماہر افغان امور اور سینئر صحافی سلیم صافی اور دیگر اہم شخصیات نے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کیا اور شرکاء کے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔ چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے معرکہ حق میں کامیابی کو اللہ رب العزت کی خصوصی نصرت قرار دیا۔ انہوں نے اکھنڈ بھارت کے توسیع پسند، مکروہ عزائم کے مقابلے میں دو قومی نظریے کی اہمیت اور افادیت سے شرکاء کو آگاہ کیا اُنہوں نے کہا کہ ریاست طیبہ (مدینہ منورہ) کے بعد اسلام کے نام اور نظریے پر قائم ہونے والی دوسری ریاست پاکستان ہے.
جس کے دفاع اور استحکام کیلئے کی گئی کاوشوں، معرکہ حق میں کامیابی کے بعد میسر آنے والے امکانات اور ثمرات پر انہوں نے سیرحاصل گفتگو کی، فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج کے خاتمے کر عزم صمیم کا اعادہ کیا نیز معاشی استحکام کے حوالے سے یقین محکم کے ساتھ اُمید کی نوید سنائی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 2030ء میں G-20اور 2047ء تک G-10 ممالک میں شامل ہو سکتا ہے یہ ہمارا اہم ہدف ہے جس پر پوری جانفشانی سے کام ہو رہا ہے اُنہوں نے مسئلہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا۔ DGISPR نے ففتھ جنریشن وار فیئر، مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن پر مبنی جھوٹے پروپیگنڈے سے بچنے کیلئے ہر ایک خبر کی مکمل تحقیق کیے جانے کی افادیت پر زور دیا۔ انہوں نے قومی آہنگی اور ملکی ترقی کیلئے تعلیمی اداروں اور اساتذہ کے کردار کو اُجاگر کیا۔
نیز اُنہوں نے ملک کو درپیش چیلنجز اور ان کے حل کیلئے واضح لائحہ عمل سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا اور طلبہ کو قومی سوچ و فکر سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ نیز شرکاء کے سوالات کے جواب دیئے۔ خاص کر گوادر کے طلبہ و طالبات کی طرف سے بلوچستان میں دہشت گردی کی بدولت درپیش مشکلات کی بابت سوالات کے ضمن میں اعداد و شمار اور دلیل سے جوابات دیئے اور وہاں کے مقامی لوگوں کے جذبہ حب الوطنی کو سراہتے ہوئے انہیں دہشت گردی کے خلاف سرگرم کردار ادا کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ دہشت گردی کے خاتمے سے وہاں کے لوگوں کا معیار زِندگی بلند ہو سکے اور نہ صرف بلوچستان بلکہ پورا پاکستان ترقی سے ہمکنار ہو سکے۔ تمام شرکاء نے اس موقع پر پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کیلئے ہر ممکن کردار ادا کرنے کا عزم کیا۔
یقینا اس طرح کے پروگرامات قومی آہنگی اور ترقی کے ضامن ہیں جو کہ نہ صرف جاری رہنے چاہیے بلکہ اس طرح کے پروگرامات کا لجز اور سکولز کی سطح پر منعقد کیے جانے کا اہتمام ہونا چاہیے۔ کیونکہ سکولز اور کالجز ہی وہ نرسریاں ہیں جہاں سے ملک کے معمار پروان چڑھتے ہیں تو آگے یونیورسٹیز انکی آبیاری کے ذریعے ملک و ملت کا مفید شہری بناتی ہیں۔ نیز جن اساتذہ / آفیسران نے اس ورکشاپ سے استفادہ کیا ہے وہ یونیورسٹیز، کالجز اور سکولز کی سطح پر اِس بیانیہ کی ترویج کیلئے بطور ریسورس پرسن اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نیز ضرورت اس اَمر کی ہے کہ یونیورسٹیز کی کلاسز، لیبارٹریز، لائبریریز میں طلبہ و طالبات کو مصروف رکھ کر مشقت اور محنت کا عادی بنایا جائے تاکہ وہ اپنے قیمتی وقت کو ضائع نہ کریں۔ ساتھ ساتھ انہیں ہم نصابی سرگرمیوں اور کھیلوں میں بھی حصہ لینے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ سوشل میڈیا کے نقصانات سے ہمارے نوجوان بچ سکیں اور اس کا مثبت استعمال کر کے ملک میں محبت امن اور بھائی چارے کو فروغ دے سکیں۔