عید قربان کا پیغام

39

تحریر:نعیم الحسن نعیم
اس وقت ہم ذی الحجہ کے مبارک ایام سے گزر رہے ہیں۔ حاجیوں کے قافلے پروانوں کی مانند اللہ کے گھر کے گرد جمع ہیں۔ یہ مبارک ایام یعنی کہ ذی الحجہ کے یہ دن نہایت اعلیٰ و عرفہ اور پاکیزہ جذبات کی ایک طاقتور موج لے کر آتے ہیں۔خدا کے عشق کا جذبہ،اس کی محبت کا جذبہ،‌جان نثاری کا جذبہ،اس کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیک کر اپنے پورے وجود کو اپنی ہر چیز کو اس کے حوالے کر دینے کا جذبہ، صرف اس کے ہو کر رہنے اور اس کی خاطر زندگی گزارنے کا جذبہ۔
میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفراز
میں اسی لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی

یہ مومنانہ جذبات جو ذی الحجہ کے یہ مبارک ایام اپنے جلو میں لے کر اتے ہیں یہ ایک بندہ مومن کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ یہ پاکیزہ جذبات ہمارے قلب اور دماغ میں رچ بس جائیں۔ ہمیشہ زندہ رہیں اور ہماری شخصیتوں کی، ہماری زندگیوں کی تعمیر ان ہی مبارک جذبات کی اساس پر ہو۔ عید الاضحی سے پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے اسوه، ایثار و قربانی، حنفیت ان سب حوالوں سے باتیں ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں۔قارئین کرام:عید قربان کی آ مد پہ ایک چھوٹا سا پیغام پیش خدمت ہے. ہمیں نہ صرف ایک جانور کو اللہ رب العزت کی خوشنودی کیلئے ذبح کرنا ہے بلکہ ہمیں ساتھ ہی اپنی خامیوں کو بھی ختم کرنے کا عہد کرنا ہے۔

ہمیں اپنا جھوٹی انا شان و شوکت اور غرور و تکبر کو بھی قربان کرنے کا عہد کرنا چاہئےاپنے اندر موجود خامیوں کو بھی قربان کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ ہم انسانیت شناس بنیں۔ضد،انا،غرور،تکبر، اور حسد جیسی منفی عادات انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں اور اس کی شخصیت پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ ان بری عادات سے نجات حاصل کرنے کے لیے خود احتسابی، عاجزی، صبر، اور دوسروں کے ساتھ محبت اور احترام کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔صد افسوس! کہ ہمارے یہاں قربانی تو تقریباً سبھی کرتے ہیں۔ مگر اس کی اصل کو پامال کرنے کا بھرپور اہتمام کیا جاتا ہے۔ نیکی چاہے کتنی بڑی ہو، مگر ریاکاری سے وہ کالعدم ہو کر رہ جاتی ہے۔ بلکہ پیسہ خرچ کرنے کے باوجود وہ عمل نیکی کے بجائے گناہ کے زمرے میں لکھا جاتا ہے.

جس کا انجام بہت برا ہے۔مسلم شریف کی حدیث میں ہے: روز قیامت سب سے پہلے تین ریاکار افراد کو جہنم میں ڈالا جائے گا، حالانکہ ان کا نیک عمل بہت بڑا ہو گا۔ ایک شخص تو وہ ہے جو میدان جہاد میں اپنی جان تک کا نذرانہ پیش کرتا ہے۔ دوسرا ساری زندگی علم دین پڑھنے پڑھانے والا اور تیسرا صبح و شام اپنا مال صدقہ و خیرات کرنے والا۔ مگر چونکہ ان کا عمل لوگوں کو دکھانے کیلئے ہوتا ہے، اس لئے انہیں جنت تو کیا ملتی، وہ سب سے پہلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔قربانی جیسی عظیم عبادت کے سلسلے میں بھی عوام کا مجموعی طرز عمل ریاکاری کا مظہر بنا ہوا ہے۔ جانوروں کے حوالے سے دیکھا جائے تو گویا مقابلے کی فضا بنی ہوئی ہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کےلئے مہنگے سے مہنگا جانور خریدنا ایک فیشن بن چکا ہے۔ بچے تو ایک طرف، پختہ عمر کے افراد بھی اپنی شان و شوکت کو ظاہر کرنے کیلئے قربانی کے جانوروں کو لےکر لوگوں کو ان کی قیمت بتاتے پھرتے ہیں۔

بعض جگہ قناتیں لگا کر گلیوں میں ہی جانوروں کو نمائش کی غرض سے باندھ دیا جاتا ہے۔ جانور کی حفاظت کے نام پر مسلح گارڈز کی خدمات بھی فخریہ انداز میں حاصل کی جاتی ہیں۔ مختلف اہم شاہراہوں سے متصل ہیوی قسم کے جانوروں کے اسٹال لگا کر ان کی نمائش کا بطور خاص اہتمام کیا جا رہا ہے۔ پھر شہرت کے بھوکوں کی جانب سے مہنگے جانور کی تشہیر کےلئے باقاعدہ میڈیا کی ٹیم بھی بلانے کا رواج چل نکلا ہے۔ اور اس نمود و نمائش کی تشہیر کیلئے ابلاغی ادارے بھی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں.اس سفر میں درج ذیل نکات مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:
1.خود شناسی: اپنی کمزوریوں کو پہچانیں اور ان پر قابو پانے کی کوشش کریں۔
2.عاجزی: اپنے اندر عاجزی پیدا کریں اور دوسروں کے ساتھ نرم دلی سے پیش آئیں۔
3.معافی: دوسروں کی غلطیوں کو معاف کریں اور خود کو بھی معاف کرنا سیکھیں۔
4.صبر: صبر کی عادت ڈالیں اور مشکلات کا سامنا حوصلے کے ساتھ کریں۔
5.محبت اور احترام: دوسروں کے ساتھ محبت اور احترام کا سلوک کریں۔ان اصولوں پر عمل پیرا ہو کر انسان اپنی شخصیت کو بہتر بنا
سکتا ہے اور حقیقی معنوں میں انسانیت شناس بن سکتا ہے۔

قربانی صرف بکرے کی نہیں ہوتی.کہیں ماں اپنی خواہشات کی قربانی دے رہی ہوتی ہے.کہیں باپ بچوں کی مسکراہٹوں کے لیے دن رات کی محنت کی.ہم نے عید پر بکرا تو خریدامگر کتنے لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ خریدی؟ بازاروں میں چہل پہل بہت ہے،لیکن کسی غریب کی جھونپڑی میں ابھی تک خاموشی ہے اسے گوشت نہیں، یاد چاہیے اسے قربانی کا حصہ نہیں، اپنائیت چاہیے۔سچ کہوں؟بکرے کے ساتھ سیلفی لینے والے بہت ہیں لیکن کسی یتیم بچے کے ساتھ بیٹھ کر کھانے والے کم! تو اس بار قربانی صرف جانور کی نہ ہو.دل کی ہو، انا کی ہو،اور کسی بھوکے کے چولہے کی بھی ہو! عید منائیے، لیکن کسی کا درد محسوس کیجیے تب ہی یہ عید واقعی “قربانی” کہلائے گی.

اب سوشل میڈیا تک ہر کس و ناکس کی رسائی نے بقیہ کسر بھی پوری کر دی ہے۔عید قربان پر فیس بک وغیرہ کے صارفین نے قربانی کے جانوروں کی تشہیر کو گویا واجب سمجھ رکھا ہے۔ جس کا اندازہ بڑے پیمانے پر شیئر ہونے والی اس طنزیہ پوسٹ سے کیا جا سکتا ہے، جس میں کسی نے مفتی سے سوال کیا ہے کہ میں نے قربانی کا جانور تو خریدا ہے، مگر کسی وجہ سے اس کی تصویر سوشل میڈیا میں اَپ لوڈ نہ کر سکا، کیا میری قربانی ہو جائے گی؟ہم قربانی کے جانور کی رسی تو بچوں کو تھما دیتے ہیں، مگر ہم میں سے کتنے ایسے ہوں گے، جو جس شخصیت کی قربانی یادگار ہے، اس کا ذکر اپنے بچوں کے سامنے کرتے انہیں قربانی کا فلسفہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں؟

عید قربان صرف جانور قربان کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک علامت ہے اس عظیم جذبے کی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ کی رضا کے لیے پیش کیا۔اصل قربانی، دل کی ہے اپنے نفس، خواہشات، تکبر، حسد، بغض اور گناہوں کی قربانی۔صرف جانور ذبح کرنا کافی نہیں، اصل نیت اور دل کی صفائی ضروری ہے۔
حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا:
> “أَفْضَلُ الْجِهَادِ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ”
“سب سے افضل جہاد وہ ہے جو انسان اپنے نفس کے خلاف اللہ کے لیے کرے۔”ایک سچی قربانی کی نصیحت پس اے مومن!اس عید پر صرف جانور ہی نہ قربان کریں،بلکہ اپنی ضد، انا، حسد، کینہ، جھوٹ، غیبت، اور دیگر گناہوں کو بھی قربان کریں۔دل کو پاک کریں تاکہ قربانیاں خالص ہو کر اللہ کے دربار میں قبول ہوں۔
یہی اصل قربانی ہے!
یہی تقویٰ کی علامت ہے!
آخری پیغام:”بکرا خریدنے سے پہلے ان دلوں کو بھی منا لیں
جنہیں آپ نے اپنی زبان سے ذبح کیا ہے۔”محبت، معافی اور قربانی کی عید مبارک.!
دعا گو ہوں کہ اللہ رب العالمین ہم سب کی عبادات اور قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے آمین.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں