شہریاریاں ، شہریار خان
آج دو باتیں کروں گا۔ پہلی تنخواہوں میں اضافے کی اور دوسری سہیل وڑائچ کی خاموش بدمعاشی کی۔پہلے بات کرتے ہیں تنخواہوں کی کیونکہ یہ ہماری لائف لائن ہے۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ انتہائی ناشکرے ہیں، کہتے کہ بجٹ میں حکومت نے تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا جبکہ حکومت بے چاری نے اتنی تنخواہیں بڑھائی ہیں کہ جن کا کوئی حساب کتاب ہی نہیں مگر لوگ اس کے باوجود چیں چیں کر رہے ہیں۔
او بھائی آپ اخبار نہیں پڑھتے؟. پہلے پارلیمنٹ میں آپ کی نمائندگی کرنے والوں کی تنخواہوں میں دو سو فیصد سے زیادہ اضافہ کیا ہے۔ اور آپ اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے بتائیں کیا یہ لوگ تنخواہوں میں اضافے کے مستحق نہیں تھے؟ آپ کی فکر میں ہر وقت غلطاں رہتے ہیں۔۔ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا۔ بے چارے غریب لوگ ہیں، کوئی بے چارہ سٹیل ملز کا مالک ہے تو کسی کی شوگر ملز ہیں، کوئی بے چارہ اتنا غریب ہے کہ چند کروڑ نہ ہونے کے سبب ابھی تک ارب پتی نہیں ہو سکا۔
دوسرے مرحلے میں وزرا اور وزیر اعظم بے چارے کی تنخواہوں میں اضافے کا بوجھ ڈالا گیا۔۔ کیا آپ انہیں ہمیشہ خادم کی صورت ہی دیکھنا پسند کرتے ہیں؟. خدا کے لیے بس کیجئے وہ شبانہ روز محنت کر رہے ہیں، کہیں آپ کو ان کی آہ برباد نہ کر دے۔ آخر وہ جو دیس دیس جا کر مانگ رہے ہیں سب آپ کے پیٹ میں ڈال دیں؟. ایسا نہ کریں، ان کا بھی کوئی حق ہے۔۔ یہ صرف بڑے صنعت کار ہی تو ہیں۔۔ اس کے علاوہ ان کے پاس ہے ہی کیا؟.. ایک گیروے رنگ کا سفاری سوٹ، ایک کالا ٹکسیڈو اور چند چمکیلی اور لشکتی ہوئی ٹائیاں۔ چند درجن بھر گاڑیاں وہ بھی صرف کوئی ستر، اسی کروڑ روپے مالیت کی ہیں، زیادہ مہنگی تو نہیں، چند ایکڑوں پہ محیط محلات اور بس۔
آپ چاہتے ہیں کہ وہ بے چارے اپنے بچوں کو جیب خرچ نہ دیں، اپنی جیب بھی خالی رکھیں؟اب آتے ہیں تیسرے مرحلے کی جانب جہاں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہیں بھی بڑھائی گئی ہیں۔۔۔ یہ لوگ بھی بے چارے غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہے تھے۔ ان کے پاس اپنے اپنے علاقوں میں چند کنال کے گھر ہیں، چھوٹے موٹے دو چار بزنس ہیں، اب یہاں عہدہ ملنے پر چھوٹا سا شاید چند کنال کا گھر، دس بارہ ملازم، چند گاڑیاں ہیں۔ یہ دو لاکھ روپے تنخواہ لیتے تھے اور بہت مشکل سے ان کا گزارا ہو رہا تھا۔۔ شاید چھپ کر کوئی پارٹ ٹائم نوکری بھی کرتے ہوں گے ورنہ کیسے اتنی کم تنخواہ میں گزارا ہوتا ہو گا؟.
اب جب ان بے چاروں کی تنخواہوں میں اضافے کا اربوں روپے کا بوجھ قومی خزانے پہ ڈالا جا چکا تو یہ پیٹ بھرے سرکاری ملازمین باہر آ گئے کہ ہماری تنخواہوں میں بھی اضافہ کرو۔ یہ کوئی بات ہوئی؟ پچھلے سال ہی تو بڑھائی تھی۔ پھر آ گئے کہ دوبارہ بڑھاؤ۔۔ اب تو ممکن ہی نہیں ہے بھائی۔ اربوں روپے کا اضافہ کرنے کے بعد آئی ایم ایف کو حساب بھی تو دینا ہے۔یہاں ہم ابھی یہ سوچ رہے تھے کہ آئی ایم ایف کو کیا جواب دینا ہے تو یہ آ گئے ہیں کہتے ہیں کہ مہنگائی بہت ہو گئی ہے۔۔ بھئی مہنگائی تو تاریخ کی کم ترین سطح پہ ہے، سرکاری مکان، سرکاری ملازم اور انٹرٹینمنٹ الاؤنس کے بعد ہمیں تو پتا ہی نہیں چلتا مہنگائی کا۔۔ آپ کو کہاں مہنگائی نظر آ گئی؟ شائد آپ موڈیز کی ریٹنگ نہیں دیکھ رہے، اس میں بہت بہتری آئی ہے، بلومبرگ سے پوچھ لیں، سٹاک ایکسچینج کے انڈیکس میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ پھر بھی آپ کو لگتا ہے کہ مہنگائی زیادہ ہے۔
بہرحال یہ آپ کی بدمعاشی ہے کہ آپ سے ہماری پانچ، دس، پندرہ یا بیس لاکھ تنخواہیں بھی برداشت نہیں ہوتیں۔ویسے بدمعاشی سے یاد آیا کہ سہیل وڑائچ بہت بدمعاش ہیں، ان کی گونگی بدمعاشی نے سوشل میڈیا کا ماحول تباہ کیا ہوا ہے۔ فضہ علی نے جب کہا کہ وہ اگر صحافی نہ ہوتے تو باہر کسی ملک میں لیڈیز ٹوائلٹ صاف کر رہے ہوتے۔۔ ایسی بات سن کر انہیں چاہئے تھا کہ وہ کہتے کہ محترمہ اگر میک اپ ایجاد نہ ہوا ہوتا تو شائد آپ بھی لالو کھیت میں لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھ رہی ہوتیں۔۔۔ یا کہتے کہ اگر اداکارہ نہ ہوتیں تو تھائی لینڈ ہوتیں مگر وہ مسکراتے رہے۔ اس خاموش اور گونگی بدمعاشی نے ماحول تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔
اب یہ کوئی بات ہے بھلا کہ سہیل وڑائچ اپنی ٹوئٹ میں کہتے ہیں کہ ٹوائلٹ کلینر ہونا کوئی برائی کی بات نہیں اس گونگی بدمعاشی پر واقعہ یاد آ گیا کہ ایک شوہر پر اس کی اہلیہ چلائے جا رہی تھی اور وہ خاموشی سے بیٹھا سن رہا تھا، جب ایک گھنٹہ ہو گیا اور شوپر نے کوئی جواب نہ دیا تو بیگم بولی کہ تمہاری اسی گونگی بدمعاشی کی وجہ سے گھر کا ماحول خراب ہو رہا ہے۔ اب فضہ علی کے بہت سے بھائی سوشل میڈیا پر بار بار سہیل وڑائچ کو ان کی گونگی بدمعاشی کا طعنہ دئیے جا رہے ہیں مگر وہ ہیں کہ سنتے ہی نہیں ہیں۔