موجودہ بجٹ 26-2025 سائنس و اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کمی کیا یہ درست سمت ہے؟

45

تحریر؛ڈاکٹر انیس قمر عباسی
حکومت پاکستان نے مالی سال 26-2025 کا بجٹ پیش کر دیا ہے، جس میں دفاعی بجٹ میں 20 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ اعلیٰ تعلیم، سائنس اور تحقیق کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے۔بظاہر یہ دفاعی بجٹ میں اضافہ “آپریشن بنیان مرصوص” میں پاک فوج کی کامیابیوں کے پیش نظر قابلِ فہم لگتا ہے اور ایسا ہی ہونا چایئے تھا لیکن اگر ہم اس جنگ کی نوعیت پر غور کریں جو 6 سے 10 مئی 2025 کے دوران لڑی گئی تو ہم پر حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ یہ جنگ توپ و تفنگ کی نہیں تھی، یہ ٹیکنالوجی، ڈرونز، سائبر وار اور فضائی برتری کی جنگ تھی۔یہ وہ جنگ تھی جو سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں جیتی گئی، جس میں جدید ہتھیار، مصنوعی ذہانت (AI)، ریڈار ٹیکنالوجی، اور سائبر دفاع جیسے ہتھیار استعمال ہوئے۔

تو سوال یہ ہے؟
جس سائنس و ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہم نے جنگ جیتی، اُس کی جڑ — یعنی یونیورسٹیز اور ریسرچ انسٹیٹیوٹس کا بجٹ کیوں کاٹا گیا؟

کیا حکومت نہیں جانتی کہ
* سائنسدان یونیورسٹیوں میں پیدا ہوتے ہیں؟
* تحقیق، دفاعی ٹیکنالوجی کی ماں ہوتی ہے؟
* آج جو ڈرون دشمن پر برس رہے ہیں، وہ کسی لیبارٹری کی سوچ کا نتیجہ تھے؟
بدقسمتی سے ہماری یونیورسٹیز پہلے ہی مالی بحران کا شکار ہیں:
* اساتذہ اور عملے کی تنخواہیں وقت پر ادا نہیں ہو رہیں
* ریسرچ فنڈز ناپید ہو چکے ہیں
* طلبہ کے اسکالرشپس معطل ہو رہے ہیں

پھر ایسے حالات میں سائنس اور تعلیم کا بجٹ کم کرنا، درحقیقت قومی سلامتی کو خود نقصان پہنچانے کے مترادف ہےاگر ہم چاہتے ہیں کہ پاک فوج آئندہ بھی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر دشمن کا مقابلہ کرے تو ہمیں آج کی یونیورسٹیوں کو مضبوط بنانا ہو گا۔ٹیکنالوجی صرف اسلحہ خریدنے سے نہیں آتی، یہ دماغوں میں جنم لیتی ہے — اور وہ دماغ جامعات میں پروان چڑھتے ہیں حکومتِ وقت سے مطالبہ ہے کہ بجٹ پالیسی پر نظرِ ثانی کرے، تعلیم و تحقیق کو ترجیح دے، کیونکہ اصل جنگ مستقبل میں “علم کی” ہو گی، اور وہ علم گرتے ہوئے بجٹ سے پیدا نہیں ہو سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں